رمضان قادروف 99.85 فیصد ووٹ لے کر پانچویں مرتبہ چیچنیا کے سربراہ منتخب

گروزنی:(وائس آف رشیا ) روس کی چیچن ریپبلک کے موجودہ سربراہ رمضان قادروف بھاری اکثریت سے کامیابی حاصل کرکے پانچویں مرتبہ چیچنیا کے سربراہ منتخب ہوگئے ہیں۔

چیچن ریپبلک کے الیکشن کمیشن کے حتمی نتائج کے مطابق رمضان قادروف نے 8 لاکھ 30 ہزار 690 ووٹ حاصل کیے، جو ڈالے گئے ووٹوں کا 99.85 فیصد بنتے ہیں۔

تمام انتخابی پروٹوکولز کی گنتی مکمل ہونے کے بعد چیچن الیکشن کمیشن نے انتخابات کو منعقد شدہ اور قانونی طور پر درست قرار دیتے ہوئے رمضان قادروف کی کامیابی کی باضابطہ منظوری دے دی۔

چیچنیا میں سربراہ کے انتخاب کے لیے پولنگ 18 سے 20 ستمبر تک روس کے پارلیمانی اور علاقائی انتخابات کے ساتھ منعقد ہوئی۔

چیچن الیکشن کمیشن کے مطابق انتخابات میں 8 لاکھ 31 ہزار 946 ووٹرز نے اپنا حق رائے دہی استعمال کیا، جبکہ ووٹر ٹرن آؤٹ 95.19 فیصد ریکارڈ کیا گیا۔

انتخابات میں تین امیدواروں نے حصہ لیا۔ یونائیٹڈ رشیا کی جانب سے رمضان قادروف، اے جسٹ رشیا کی طرف سے چیچن پبلک چیمبر کے چیئرمین اسماعیل دنیل خانوف اور کمیونسٹ پارٹی کی جانب سے علاقائی پارلیمان کے رکن خالد ناکایف امیدوار تھے۔

سرکاری نتائج کے مطابق اسماعیل دنیل خانوف نے 451 ووٹ حاصل کیے، جو مجموعی ووٹوں کا 0.05 فیصد ہیں۔ خالد ناکایف کو 437 ووٹ ملے اور ان کا تناسب بھی 0.05 فیصد رہا۔

رمضان قادروف یونائیٹڈ رشیا کے امیدوار کے طور پر انتخابات میں حصہ لے رہے تھے۔ ان کی کامیابی کے بعد چیچن ریپبلک کی قیادت میں ان کا پانچواں دور شروع ہوگا۔

رمضان قادروف پہلی مرتبہ 2007 میں چیچنیا کے سربراہ بنے تھے۔ بعد ازاں 2011 میں انہیں دوبارہ یہ ذمہ داری سونپی گئی، جبکہ 2016 اور 2021 کے براہ راست انتخابات میں بھی وہ کامیاب ہوئے۔ سال 2026 کی کامیابی کے ساتھ وہ مسلسل پانچویں مدت کے لیے چیچنیا کی قیادت کریں گے۔

چیچنیا میں روسی اسٹیٹ دُوما کے انتخابات کے لیے بھی ٹرن آؤٹ 95.11 فیصد ریکارڈ کیا گیا۔ وفاقی پارٹی فہرست کے تحت یونائیٹڈ رشیا نے چیچنیا میں 92.99 فیصد ووٹ حاصل کیے۔

چیچن پارلیمان کے انتخابات میں یونائیٹڈ رشیا نے 35 نشستیں حاصل کیں، جبکہ کمیونسٹ پارٹی، لبرل ڈیموکریٹک پارٹی اور اے جسٹ رشیا کے حصے میں دو، دو نشستیں آئیں۔

چیچنیا کے انتخابی حکام کے مطابق نتائج 20 علاقائی انتخابی کمیشنوں کے پروٹوکولز کی بنیاد پر مرتب کیے گئے اور تمام متعلقہ انتخابات کو قانونی طور پر درست قرار دیا گیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں