
شاہد گھمن، مکتوب ماسکو
پاکستان اور روس کے تعلقات اس وقت سیاسی اور سفارتی سطح پر تیزی سے آگے بڑھ رہے ہیں۔ دونوں ملک تجارت، توانائی، تعلیم، علاقائی رابطوں اور عوامی تعلقات کو وسعت دینے کی بات کر رہے ہیں۔ پاکستان شنگھائی تعاون تنظیم کی صدارت سنبھال چکا ہے، وزیراعظم شہباز شریف کے ملتوی شدہ دورۂ ماسکو کی نئی تاریخ پر بھی کام جاری ہے اور 2030 تک اقتصادی تعاون کے روڈمیپ سمیت متعدد معاہدے زیر غور ہیں۔ روسی قیادت بھی پاکستان کے ساتھ تعلقات آگے بڑھانے میں دلچسپی کا اظہار کرتی رہی ہے۔
مگر سفارت کاری کی کامیابی کا ایک پیمانہ یہ بھی ہوتا ہے کہ بڑے سیاسی بیانات کا فائدہ عام شہری، طالب علم اور کاروباری شخص تک کتنا پہنچ رہا ہے۔
اور یہاں آ کر ایک ایسا سوال سامنے کھڑا ہو جاتا ہے جسے اب مزید نظر انداز کرنا مشکل ہے۔
اگر پاکستان اور روس کے تعلقات واقعی مسلسل بہتر ہو رہے ہیں تو پاکستانی طلبہ، تاجروں اور عام شہریوں کے لیے روسی ویزوں کے مسائل اتنے طویل کیوں ہوتے جا رہے ہیں؟
اس معاملے میں سب سے پہلے ایک بات واضح ہونی چاہیے۔ پاکستانی شہریوں پر روس آنے کی کوئی باضابطہ عمومی ویزا پابندی سامنے نہیں آئی۔ روس کے عمومی ویزا قوانین میں بزنس، تعلیمی اور دوسری ویزا کیٹیگریز بدستور موجود ہیں۔ جون میں جب روسی وزارت خارجہ کی ترجمان ماریہ زخارووا سے پاکستانی طلبہ کے حوالے سے سوال کیا گیا تو انہوں نے بھی کسی نئی سرکاری پابندی کی تصدیق نہیں کی۔
لیکن دوسری طرف عملی صورتحال کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔
روس کی بعض معروف جامعات کی اپنی سرکاری ویب سائٹس پر پاکستانی شہریوں کے لیے تعلیمی دعوت ناموں کا اجرا عارضی طور پر معطل ہونے کی اطلاع موجود ہے۔ ہائر اسکول آف اکنامکس نے مئی میں جن ممالک کے شہریوں کے دعوت ناموں کا اجرا عارضی طور پر روکنے کا اعلان کیا، ان میں پاکستان بھی شامل ہے۔ ماسکو پاور انجینئرنگ انسٹی ٹیوٹ کی موجودہ ویزا معلومات میں بھی پاکستان ان ممالک کی فہرست میں شامل ہے جن کے شہریوں کے لیے دعوت ناموں کا اجرا فی الحال معطل بتایا گیا ہے۔
یعنی مسئلہ شاید اتنا سادہ نہیں کہ اسے صرف یہ کہہ کر ختم کر دیا جائے کہ کوئی سرکاری پابندی نہیں ہے۔
سرکاری سطح پر عمومی پابندی نہ ہونا اپنی جگہ، لیکن اگر کسی پاکستانی طالب علم کو یونیورسٹی داخلہ دے دے، فیس جمع ہو جائے اور اس کے بعد ویزا انویٹیشن ہی جاری نہ ہو تو اس طالب علم کے لیے عملی نتیجہ تقریباً وہی ہے جو دروازہ بند ہونے کی صورت میں ہوتا۔
یہ مسئلہ صرف نئے طلبہ کا بھی نہیں ہے۔
روس میں پہلے سے زیر تعلیم پاکستانی طلبہ کے ویزوں کی تجدید کے معاملات بھی سامنے آتے رہے ہیں۔ گزشتہ دسمبر ماسکو کی نیشنل یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی MISIS میں تقریباً 25 پاکستانی اسکالرشپ طلبہ کو ویزا تجدید نہ ہونے کے مسئلے کا سامنا کرنا پڑا تھا اور طلبہ نے سفارت خانہ پاکستان سے رجوع کیا تھا۔
گزشتہ دنوں پاکستان کمیونٹی روس کے صدر ملک شہباز نے بھی سفارت خانہ پاکستان ماسکو میں سفیر فیصل نیاز ترمذی کو ایک باضابطہ تحریری درخواست پیش کی۔ اس میں روس میں موجود پاکستانی طلبہ کے ویزوں کی تجدید، پاکستان میں ایسے طلبہ جنہیں روسی جامعات میں داخلہ مل چکا ہے مگر ان کے تعلیمی ویزا انویٹیشن جاری نہیں ہوئے، اور کاروباری ویزوں اور بزنس انویٹیشنز کے مسئلے کو باقاعدہ طور پر اٹھایا گیا۔ سفیر پاکستان نے متاثرہ طلبہ کی مکمل تفصیلات فراہم کرنے کو کہا تاکہ ان کیسز کو روسی حکام کے سامنے باضابطہ طور پر رکھا جا سکے۔
یہ ایک مثبت پیش رفت ہے۔ مسئلہ حل کرنے کا پہلا راستہ یہی ہے کہ قیاس آرائیوں کے بجائے متاثرہ طلبہ کا مکمل اور تصدیق شدہ ڈیٹا سامنے ہو۔
اس معاملے کا ایک دوسرا رخ بھی ہے جسے لکھنا ضروری ہے۔
روس کی بعض جامعات کی جانب سے یہ شکایات بھی سامنے آئی ہیں کہ کچھ پاکستانی طلبہ باقاعدگی سے کلاسیں نہیں لیتے، تعلیم چھوڑ کر کام شروع کر دیتے ہیں یا روس کو کسی دوسرے ملک تک پہنچنے کے راستے کے طور پر استعمال کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ پاکستان کمیونٹی روس نے بھی طلبہ سے واضح طور پر کہا ہے کہ وہ روسی قوانین کی پابندی کریں، اپنی تعلیم پر توجہ دیں اور ایسی کسی سرگرمی سے دور رہیں جس کا نقصان بعد میں پورے پاکستانی طالب علم طبقے کو اٹھانا پڑے۔
یہ بات بالکل درست ہے۔
اگر چند لوگ تعلیمی ویزا حاصل کرکے اس مقصد کے خلاف کام کرتے ہیں تو پاکستان کو بھی ایسے عناصر کا دفاع نہیں کرنا چاہیے۔ روس کو اپنی امیگریشن اور قومی سلامتی کے قوانین نافذ کرنے کا پورا حق ہے۔
لیکن اس کے ساتھ ایک اصول اور بھی اہم ہے۔ چند افراد کی خلاف ورزیوں کی قیمت ان سینکڑوں حقیقی طلبہ کو نہیں چکانی چاہیے جو روسی یونیورسٹی میں باقاعدہ داخلہ لیتے ہیں، پوری فیس ادا کرتے ہیں، کلاسیں لینا چاہتے ہیں اور اپنی تعلیم مکمل کرکے واپس جانا چاہتے ہیں۔
اسکالرشپ اور سرکاری کوٹہ کے ذریعے آنے والے طلبہ کے لیے طریقہ کار نسبتاً مختلف ہے۔ بعض روسی جامعات واضح کرتی ہیں کہ سرکاری تعلیمی کوٹے کے طلبہ وزارتِ سائنس و اعلیٰ تعلیم کی ہدایت کے ذریعے ویزا حاصل کرتے ہیں، جبکہ عام فیس ادا کرنے والے طالب علم کو یونیورسٹی کی درخواست پر روسی وزارت داخلہ کا دعوت نامہ درکار ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ موجودہ پابندیوں یا تاخیر کا اثر مختلف طلبہ پر مختلف انداز میں پڑ رہا ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ روس کی طرف سے تعلیمی تعاون بڑھانے کا پیغام بھی مسلسل آ رہا ہے۔
16 ستمبر کو اسلام آباد میں روسی سفیر البرٹ خوریف نے پاکستانی نوجوانوں کے لیے مزید روسی اسکالرشپس بڑھانے کی بات کی ہے۔ دوسری جانب سفیر پاکستان فیصل نیاز ترمذی بھی کہہ چکے ہیں کہ روس میں تقریباً تیرہ سو پاکستانی طلبہ کی موجودہ تعداد دونوں ممالک کی صلاحیت سے بہت کم ہے اور وہ اسے کہیں زیادہ دیکھنا چاہتے ہیں۔
یہی وہ مقام ہے جہاں پالیسی اور عملی صورتحال کے درمیان فاصلہ دکھائی دیتا ہے۔
ایک طرف ہم پاکستانی نوجوانوں کو روسی جامعات میں زیادہ تعداد میں دیکھنا چاہتے ہیں، دوسری طرف ایک طالب علم کو داخلہ ملنے کے بعد دعوت نامے کا انتظار ہے۔
اس فاصلے کو ختم کرنا دونوں ممالک کے مفاد میں ہے۔
ویزا کا دوسرا بڑا مسئلہ کاروباری طبقے کا ہے۔
ماسکو میں پاکستانی کاروباری حلقوں سے گزشتہ کئی ماہ سے، اور بعض کیسز میں تقریباً ایک سال سے، یہی شکایت سننے کو مل رہی ہے کہ روس کے کاروباری دعوت نامے حاصل کرنا انتہائی مشکل ہو گیا ہے۔ حالیہ تحریری درخواست میں پاکستان کمیونٹی روس نے بھی کاروباری ویزوں اور بزنس انویٹیشنز کی بندش کا معاملہ سفیر پاکستان کے سامنے رکھا، جس پر بتایا گیا کہ روسی متعلقہ اداروں کے ساتھ بات چیت جاری ہے۔
یہاں بھی ایک اہم فرق سمجھنے کی ضرورت ہے۔
روسی قانون میں بزنس ویزا ختم نہیں ہوا۔ روسی وزارت خارجہ کی قونصلر معلومات کے مطابق بزنس ویزا اب بھی مذاکرات، کانفرنسوں اور کاروباری ملاقاتوں کے لیے جاری کیا جاتا ہے اور اس کی بنیاد روسی وزارت داخلہ یا مجاز روسی میزبان ادارے کا دعوت نامہ ہوتا ہے۔
لیکن اگر پاکستانی کاروباری شخص کے لیے بنیادی دعوت نامہ ہی عملی طور پر دستیاب نہ ہو تو ویزا کی قانونی کیٹیگری کا موجود ہونا اس کے لیے زیادہ معنی نہیں رکھتا۔
ایک پاکستانی صنعت کار اگر ماسکو میں نمائش دیکھنے آنا چاہتا ہے، کسی روسی کمپنی سے مشینری خریدنے کے لیے مذاکرات کرنا چاہتا ہے، پاکستانی ٹیکسٹائل یا کھیلوں کا سامان روسی خریدار کو دکھانا چاہتا ہے یا ماسکو میں اپنے کاروباری پارٹنر کے ساتھ معاہدہ کرنا چاہتا ہے تو اسے سفر کرنے کا قابل عمل راستہ چاہیے۔
تجارت صرف وزارتی ملاقاتوں سے نہیں بڑھتی۔ تجارت اس وقت بڑھتی ہے جب دونوں ملکوں کا تاجر ایک دوسرے کے دفتر، فیکٹری، نمائش اور مارکیٹ تک آسانی سے پہنچ سکے۔
مجھے اس حوالے سے روسی وزارت خارجہ کی ایک بریفنگ آج بھی یاد ہے۔
دسمبر 2024 میں میں نے ماریہ زخارووا سے یہی سوال کیا تھا کہ بھارت کے ساتھ روس ویزا نظام آسان کرنے کی طرف جا رہا ہے لیکن پاکستانی شہریوں کو روس میں داخلے کے مسائل کا سامنا کیوں ہے؟
ماریہ زخارووا کا جواب خاصا اہم تھا۔ انہوں نے کہا تھا کہ روس پاکستانی شہریوں کے لیے داخلے کے قواعد آسان کرنے کے امکان پر غور کرنے کے لیے تیار ہے، لیکن اس کے لیے پاکستان اور روس کے درمیان بین الحکومتی ری ایڈمیشن معاہدے پر دستخط ضروری ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ ویزا نظام میں ایسی تبدیلیاں دوطرفہ معاہدوں کے ذریعے کی جاتی ہیں اور پاکستان کے ساتھ بھی اس نوعیت کی بات چیت ممکن ہے۔
اب یہاں ایک نہایت اہم پیش رفت ہو چکی ہے۔
وہ ری ایڈمیشن معاہدہ جس کا ذکر اس وقت ماریہ زخارووا کر رہی تھیں، اب صرف مذاکراتی مسودہ نہیں رہا۔
5 جون 2026 کو بشکیک میں پاکستان کے وزیر داخلہ محسن نقوی اور روسی وزیر داخلہ ولادیمیر کولوکولتسیف نے پاکستان اور روس کے درمیان ری ایڈمیشن معاہدے اور اس پر عمل درآمد کے ایگزیکٹو پروٹوکول پر دستخط کیے۔
اور اس سے بھی اہم بات یہ ہے کہ روسی قانونی ریکارڈ کے مطابق یہ معاہدہ اور اس کا ایگزیکٹو پروٹوکول 26 اگست 2026 سے نافذ بھی ہو چکے ہیں۔
اس لیے اب سوال یہ نہیں رہا کہ ری ایڈمیشن معاہدہ کب ہوگا۔
معاہدہ ہو چکا ہے، نافذ بھی ہو چکا ہے۔
اب اصل سوال یہ ہے کہ جس ویزا سہولت کاری کے لیے اس معاہدے کو ایک اہم شرط قرار دیا جاتا رہا، اس کے عملی نتائج پاکستانی شہری کب دیکھیں گے؟
پاکستان کے وفاقی وزیر توانائی اویس لغاری نے بھی جون میں اسی معاہدے کو ویزا نظام آسان کرنے کی سمت ایک اہم پیش رفت قرار دیا تھا۔
میرے خیال میں اب اسلام آباد اور ماسکو کو اسی مقام سے آگے بڑھنا چاہیے۔
اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہر پاکستانی کو بغیر جانچ پڑتال ویزا دے دیا جائے۔ روس اپنے سکیورٹی قواعد اور امیگریشن قوانین پر عمل ضرور کرے، لیکن حقیقی طالب علم، مستند تاجر، صحافی، ماہرین اور جائز سفر کرنے والے پاکستانیوں کے لیے ایک واضح اور قابل اعتماد طریقہ کار ہونا چاہیے۔
پاک روس تعلقات کے اقتصادی پہلو میں ایک اور پرانا مسئلہ بینکنگ اور ادائیگیوں کا ہے۔
یہ کہنا درست نہیں ہوگا کہ دونوں ممالک کے درمیان کوئی لین دین ہی نہیں ہو رہا۔ سفیر فیصل نیاز ترمذی کے مطابق پاکستان اور روس بعض تجارت روسی روبل اور چینی یوآن سمیت متبادل کرنسیوں میں کر رہے ہیں۔ تاہم خود پاکستانی حکومت اور دونوں ممالک کے درمیان ہونے والی سرکاری گفتگو میں پائیدار اور مؤثر ادائیگی کے نظام کی ضرورت کو مسلسل تسلیم کیا گیا ہے۔ وفاقی وزیر اویس لغاری نے بھی ادائیگی کے مؤثر نظام کی کمی کو دوطرفہ تجارت کی ایک رکاوٹ قرار دیا جبکہ حالیہ پاکستان روس مذاکرات میں پائیدار ادائیگی کے طریقہ کار کی تیاری باقاعدہ ایجنڈے کا حصہ رہی ہے۔
ایک عام پاکستانی تاجر کے لیے اصل سوال بہت سادہ ہے۔
میں روس سے سامان خریدوں تو ادائیگی کس آسان، قانونی اور قابل اعتماد بینکاری راستے سے کروں؟
میں پاکستان سے اپنا مال روس بھیجوں تو رقم کس طرح واپس حاصل کروں؟
جب تک ان سوالوں کا ایسا جواب موجود نہیں جسے ایک عام کاروباری شخص آسانی سے استعمال کر سکے، تجارت کی اصل صلاحیت پوری طرح سامنے نہیں آئے گی۔
یہ تمام ذمہ داری صرف روسی طرف ڈال دینا بھی مناسب نہیں ہوگا۔
روس کی طرف سے سیاسی تعلقات بڑھانے، تعلیمی تعاون، اسکالرشپس، نوجوانوں کے تبادلوں اور تجارت کو وسعت دینے کے واضح پیغامات موجود ہیں۔ صرف اسی ماہ تقریباً 250 پاکستانی نوجوان روس کے بین الاقوامی یوتھ فیسٹیول کے لیے منتخب ہوئے، جبکہ روسی سفیر نے مزید تعلیمی مواقع کی بات کی ہے۔
پاکستانی سفارت خانہ ماسکو بھی طلبہ کے متاثرہ کیسز کا ڈیٹا اکٹھا کر رہا ہے اور سفیر فیصل نیاز ترمذی نے یہ معاملات روسی حکام کے سامنے اٹھانے کی یقین دہانی کرائی ہے۔
لیکن مسئلہ تقریباً ایک سال سے مختلف صورتوں میں سامنے آ رہا ہے، اس لیے صرف یقین دہانی اب کافی نہیں ہونی چاہیے۔
اسلام آباد کو اس معاملے میں زیادہ منظم، مسلسل اور اعلیٰ سطحی فالو اپ کرنا ہوگا۔
اس سے روسی حکام سے بھی ایک واضح سوال کیا جا سکے گا کہ اگر پاکستان پر کوئی عمومی پابندی نہیں تو پاکستانی درخواست دہندگان کے لیے موجود عملی رکاوٹیں کس سطح پر ہیں اور انہیں دور کرنے کا طریقہ کیا ہے۔ یہی فرق سفارت کاری اور مسئلہ حل کرنے میں ہوتا ہے۔
اچھی خبر یہ ہے کہ اگلے چند ماہ اس حوالے سے ایک اہم موقع فراہم کر سکتے ہیں۔
وزیراعظم شہباز شریف کا دورۂ ماسکو رواں سال مارچ میں طے تھا جو خطے کی صورتحال کے باعث ملتوی ہوا۔ سفیر فیصل نیاز ترمذی کے مطابق اب دونوں ممالک نئی تاریخوں پر کام کر رہے ہیں اور دورہ سال کی آخری سہ ماہی، غالباً خزاں میں متوقع ہے۔ انہوں نے یہ بھی بتایا تھا کہ اس دورے کے دوران آٹھ سے دس معاہدوں اور 2030 تک اقتصادی تعاون کے روڈمیپ پر دستخط متوقع ہیں۔
میرے نزدیک اس دورے کے ایجنڈے میں چار عملی معاملات کو ضرور جگہ ملنی چاہیے: طلبہ کے تعلیمی دعوت نامے، پہلے سے زیر تعلیم طلبہ کے ویزوں کی تجدید، پاکستانی کاروباری افراد کے لیے بزنس انویٹیشن اور ویزا سہولت کاری، اور دونوں ممالک کے تاجروں کے لیے قابل اعتماد ادائیگی کا نظام۔
یہ بڑے سیاسی معاہدوں کے مقابلے میں بظاہر چھوٹے معاملات لگ سکتے ہیں، لیکن حقیقت میں تعلقات انہی سے مضبوط ہوتے ہیں۔
ایک طالب علم کو اس بات سے زیادہ غرض نہیں کہ مشترکہ اعلامیے میں کتنی خوبصورت زبان استعمال ہوئی۔ اسے یہ جاننا ہے کہ یونیورسٹی میں داخلہ ملنے کے بعد وہ کلاس روم تک پہنچ پائے گا یا نہیں۔
ایک تاجر یہ دیکھتا ہے کہ وہ اپنے روسی پارٹنر سے مل سکتا ہے یا نہیں، رقم بھیج سکتا ہے یا نہیں اور سامان منگوا سکتا ہے یا نہیں۔
اور ایک ملک کے عوام دوسرے ملک کے ساتھ تعلقات کی کامیابی بھی انہی روزمرہ تجربات سے محسوس کرتے ہیں۔
پاکستان اور روس کے درمیان آج ایک ایسا سیاسی ماحول موجود ہے جس میں ان مسائل کا حل ناممکن نہیں ہونا چاہیے۔ ری ایڈمیشن معاہدہ نافذ ہو چکا ہے، دونوں ممالک اقتصادی روڈمیپ تیار کر رہے ہیں، تعلیمی تعاون بڑھانے کی خواہش دونوں طرف موجود ہے اور وزیراعظم کا ماسکو کا دورہ بھی متوقع ہے۔
اب ضرورت اس بات کی ہے کہ ان مثبت سیاسی تعلقات کو عام پاکستانی کے لیے عملی سہولت میں تبدیل کیا جائے۔
پاک روس تعلقات کی اگلی کامیابی صرف کسی نئی تصویر، نئے اعلامیے یا نئے معاہدے میں نہیں ہوگی۔ اصل کامیابی اس دن دکھائی دے گی جب پاکستانی طالب علم کا ویزا بغیر غیر ضروری رکاوٹ کے تجدید ہو، داخلہ لینے والے طالب علم کو وقت پر دعوت نامہ ملے، پاکستانی تاجر کاروباری ویزے پر ماسکو آ سکے اور دونوں ممالک کے درمیان رقم کی ادائیگی ایک واضح اور قابل اعتماد نظام کے ذریعے ہو سکے۔
تعلقات اچھے ہیں۔ اب ان اچھے تعلقات کا فائدہ لوگوں تک پہنچنے کا وقت ہے۔









