مغرب ناقابل اعتماد ثابت ہوا، یوکرین میں غیرملکی فوج کی تعیناتی براہ راست جنگ ہوگی، لاوروف

ماسکو:(وائس آف رشیا) روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے کہا ہے کہ مغربی ممالک ناقابل اعتماد ثابت ہوئے ہیں اور ان پر بھروسا نہیں کیا جاسکتا، جبکہ یوکرین میں مغربی فوجی دستوں کی تعیناتی کو روس کے خلاف ہائبرڈ نہیں بلکہ براہ راست جنگ کا اعلان تصور کیا جائے گا۔

بین الاقوامی یوتھ فیسٹیول کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے سرگئی لاوروف نے یوکرین تنازع، روس اور مغرب کے تعلقات، عالمی نظام، جوہری استحکام، روسی انتخابات میں مبینہ غیرملکی مداخلت اور آرمینیا کی یورپی یونین میں شمولیت کی خواہشات سمیت مختلف امور پر روس کا مؤقف پیش کیا۔

سرگئی لاوروف نے کہا کہ یوکرین میں جاری تنازع مغرب کی توسیع پسندانہ پالیسی کا براہ راست نتیجہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ یوکرین تنازع کے حل کے لیے خصوصی فوجی آپریشن کے آغاز میں طے کیے گئے اہداف کا حصول ضروری ہے، جن کا مقصد بحران کی بنیادی وجوہات کو ختم کرنا ہے۔

روسی وزیر خارجہ کے مطابق خصوصی فوجی آپریشن کے اہداف کے حصول سے پورے یوریشیائی خطے میں حالات بہتر ہوں گے اور مفادات کے توازن پر مبنی ایسے عالمی نظام کے قیام میں مدد ملے گی جس میں بالادستی یا غلبے کا کوئی دعویٰ نہ ہو۔

انہوں نے کہا کہ بحران کی بنیادی وجوہات کا خاتمہ اور روسی لوگوں کے حقوق کا تحفظ خصوصی فوجی آپریشن کے واضح اور قابل فہم مقاصد ہیں۔ ان حقوق میں روسی زبان کے استعمال اور آرتھوڈوکس عقیدے پر عمل کرنے کا حق بھی شامل ہے۔

سرگئی لاوروف نے کہا کہ روس نے یوکرین سے متعلق مذاکرات سے کبھی انکار نہیں کیا اور ماسکو دوطرفہ یا سہ فریقی، دونوں شکلوں میں مذاکرات کے لیے تیار ہے۔

انہوں نے کہا کہ روس یوکرین سے مذاکرات کے حوالے سے تجاویز کا منتظر ہے، تاہم ماسکو اس معاملے میں کسی بڑی خوش فہمی کا شکار نہیں۔

روسی وزیر خارجہ کے مطابق یوکرین سے متعلق مذاکرات کسی بھی ایسے مقام پر منعقد کیے جاسکتے ہیں جو مذاکرات میں شریک تمام فریقوں کے لیے قابل قبول ہو۔

سرگئی لاوروف نے کہا کہ روس بارہا واضح کرچکا ہے کہ وہ کسی مغربی ملک پر حملہ کرنے کا ارادہ نہیں رکھتا اور اسے ایسا کرنے میں کوئی دلچسپی بھی نہیں۔

انہوں نے خبردار کیا کہ اگر یورپ، جہاں روس کے ساتھ جنگ کی تیاریوں کے بارے میں مسلسل بات کی جا رہی ہے، روس پر حملہ کرتا ہے تو یہ بالکل مختلف نوعیت کی اور انتہائی مختصر جنگ ہوگی۔

روسی وزیر خارجہ نے امید ظاہر کی کہ روس کا یہ انتباہ یورپی دارالحکومتوں اور خود کو متحدہ یورپ کے نمائندہ اداروں کے طور پر پیش کرنے والی تنظیموں نے سن لیا ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ یوکرین میں مغربی فوجی دستوں کی تعیناتی یورپ کی جانب سے روس کے خلاف براہ راست جنگ کے اعلان کے مترادف ہوگی۔

سرگئی لاوروف نے کہا کہ مغرب، بالخصوص یورپ، یوکرین میں روس مخالف حکومت کو برقرار رکھنا چاہتا ہے اور ولادیمیر زیلنسکی کے زیر کنٹرول علاقے میں کسی قسم کی فوجی فورس تعینات کرنے کے منصوبوں پر کھلے عام بات کر رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ صدر ولادیمیر پوتن پہلے ہی اس منصوبے پر اپنا مؤقف بیان کرچکے ہیں اور ایسی کسی بھی تعیناتی کو روس کے خلاف ہائبرڈ نہیں بلکہ براہ راست جنگ تصور کیا جائے گا۔

روسی وزیر خارجہ نے الزام عائد کیا کہ مغربی ممالک روسی شہریوں کی جانب سے اسٹیٹ ڈوما کے انتخابات میں ووٹ ڈالنے کے عمل میں براہ راست مداخلت کی کوشش کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ماضی کی طرح موجودہ انتخابی مہم کے دوران بھی روسی شہریوں کے اظہار رائے اور انتخابی عمل میں مغربی مداخلت دیکھی جا رہی ہے۔

سرگئی لاوروف کے مطابق بیرون ملک یہ مسئلہ زیادہ سنگین ہے، تاہم روس کے اندر بھی انتخابی عمل میں مداخلت کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ مغربی ممالک روس کو کمزور اور غیر مستحکم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، لیکن وہ اپنے مقاصد حاصل نہیں کرسکیں گے۔

روس اور امریکا کے تعلقات

سرگئی لاوروف نے کہا کہ روس اور امریکا کے درمیان انفرادی سطح پر رابطے برقرار ہیں، تاہم دونوں ممالک کے درمیان مکمل مذاکرات کے آغاز سے پہلے باہمی تعلقات کو معمول پر لانا ضروری ہے۔

روسی وزیر خارجہ نے کہا کہ امریکا اور چین کی قیادت پر مبنی ممکنہ عالمی نظام قابل اعتماد نہیں ہوگا کیونکہ دونوں ممالک بین الاقوامی تعلقات کے حوالے سے مختلف نظریات رکھتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ چین بین الاقوامی تعلقات کے لیے بالکل مختلف فلسفے کو فروغ دے رہا ہے، اس لیے امریکا اور چین پر مشتمل دو قطبی عالمی نظام قابل اعتماد ماڈل ثابت نہیں ہوگا۔

سرگئی لاوروف نے کہا کہ موجودہ مغربی اشرافیہ کثیر قطبی عالمی نظام کی تشکیل پر کبھی رضامند نہیں ہوگی۔

انہوں نے کہا کہ مغرب اس وقت کثیر قطبی دنیا کے لیے تیار نہیں اور انہیں نہیں لگتا کہ اس کی موجودہ قیادت کبھی اسے قبول کرے گی، تاہم روس اس حوالے سے صبر کا مظاہرہ کر رہا ہے۔

روسی وزیر خارجہ نے کہا کہ عالمی معاملات میں بہت سے پوشیدہ اور غیر منصفانہ حربے استعمال کیے جا رہے ہیں، اس لیے روس کو صرف ان ممالک اور شراکت داروں پر انحصار کرنا ہوگا جو اپنی قابل اعتماد حیثیت ثابت کرچکے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ مغرب اپنی قابل اعتماد حیثیت ثابت نہیں کرسکا اور روس ان شعبوں میں یورپی ممالک کے ساتھ کوئی معاہدہ نہیں کرے گا جن کا تعلق روس کی قومی سلامتی سے ہو۔

سرگئی لاوروف نے کہا کہ خلا میں حملہ آور ہتھیاروں کی تعیناتی سے متعلق امریکی بیانات کے بعد روس تمام صورت حال کا دوبارہ جائزہ لے رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ امریکا تزویراتی استحکام سے متعلق مذاکرات میں شرکا کی تعداد بڑھانے کی صورت میں فرانس اور برطانیہ کو شامل کرنے کی ضرورت کو واضح طور پر مسترد کر رہا ہے۔

روسی وزیر خارجہ کے مطابق ماسکو نے امریکا کو آگاہ کیا ہے کہ روس اور چین کسی باہمی فوجی اتحاد کی ذمہ داریوں کے پابند نہیں، جبکہ امریکا کے فرانس اور برطانیہ کے ساتھ فوجی اتحاد کے وعدے موجود ہیں اور ان دونوں ممالک کے پاس بھی جوہری ہتھیار ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اگر تزویراتی استحکام سے متعلق مذاکرات کا دائرہ وسیع کرنے کی بات کی جاتی ہے تو سب سے پہلے امریکا، فرانس اور برطانیہ کی جوہری صلاحیتوں پر توجہ دی جانی چاہیے، تاہم امریکا اس تجویز کو واضح طور پر مسترد کرتا ہے۔

سرگئی لاوروف نے کہا کہ ہتھیاروں پر کنٹرول کے ممکنہ نئے معاہدے کی تیاری کے لیے روس اور امریکا کے درمیان مذاکرات کی ضرورت اب پہلے سے کہیں زیادہ اہم ہوگئی ہے۔

روسی وزیر خارجہ نے کہا کہ یورپی یونین کے حکام یورپی انضمام اور رکنیت کی خواہش کے معاملے میں آرمینیا کو دھوکا دے سکتے ہیں اور ان کے خیال میں ایسا ہونا یقینی ہے۔

انہوں نے کہا کہ انہیں یہ سمجھ نہیں آتا کہ آرمینیا یورپی یونین میں کیسے شامل ہوسکتا ہے، جہاں ترکی اور سربیا جیسے ممالک کئی دہائیوں سے رکنیت کے انتظار میں ہیں۔

سرگئی لاوروف کے مطابق آرمینیائی وزیراعظم نکول پاشینیان کی حکومت کی یورپی یونین میں شامل ہونے کی خواہش پوری ہونے کے امکانات واضح دکھائی نہیں دیتے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں