ماسکو(وائس آف رشیا) روسی وزارت خارجہ کے ڈائریکٹر برائے بین الاقوامی تنظیمات کریل لوگوینوف نے کہا ہے کہ اقوام متحدہ میں ایران کے معاملے پر روس کی متوازن اور غیر تصادمی حکمت عملی مؤثر ثابت ہوئی، جس نے ایران اور امریکہ کے درمیان جاری سفارتی عمل کو متاثر ہونے سے بچانے میں اہم کردار ادا کیا۔
ذرائع کے مطابق کریل لوگوینوف نے ایک انٹرویو میں کہا کہ روس نے ابتدا ہی سے اقوام متحدہ میں ایسی یکطرفہ قراردادوں اور اقدامات کی مخالفت کی جو بحران کی بنیادی وجوہات کو نظرانداز کرتے تھے اور مذاکرات کے نتائج کو پہلے سے طے شدہ سمت میں لے جانا چاہتے تھے۔
انہوں نے کہا کہ روس کی حکمت عملی کا مقصد تہران اور واشنگٹن کے درمیان سفارتی کوششوں کے گرد ایک غیر محاذ آرائی پر مبنی ماحول برقرار رکھنا تھا، اور حالیہ پیش رفت سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ حکمت عملی کامیاب رہی۔
کریل لوگوینوف کے مطابق ایران اور امریکہ کے درمیان حالیہ امن معاہدے اور جنگ بندی سے متعلق اطلاعات اس بات کا ثبوت ہیں کہ روس کا مؤقف درست تھا۔ انہوں نے کہا کہ روس اور چین نے مشترکہ کوششوں سے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں ایسے فیصلے کی منظوری کو روکا جو خلیج فارس میں جاری نازک مذاکراتی عمل کو نقصان پہنچا سکتا تھا۔
روسی سفارتکار نے بتایا کہ 7 اپریل کو روس اور چین نے آبنائے ہرمز کی سلامتی سے متعلق سلامتی کونسل کی ایک قرارداد کو روک دیا تھا، جس کے فوراً بعد ایران اور امریکہ جنگ بندی کے معاہدوں تک پہنچنے میں کامیاب ہوئے۔
انہوں نے زور دیا کہ روس آئندہ بھی بین الاقوامی تنازعات کے حل کے لیے سفارتکاری، مذاکرات اور متوازن رویے کی حمایت جاری رکھے گا، کیونکہ یہی طریقہ علاقائی اور عالمی استحکام کو یقینی بنا سکتا ہے۔









