ماسکو(وائس آف رشیا) روسی سلامتی کونسل کے نائب چیئرمین دیمتری میدویدیف نے خبردار کیا ہے کہ دنیا ایک خطرناک مرحلے میں داخل ہو چکی ہے اور جوہری تباہی کا امکان حقیقی ہے، جسے نظر انداز کرنا سنگین غلطی ہوگی۔
ماسکو میں منعقدہ تعلیمی فورم “زنانئے.پہلے” سے خطاب کرتے ہوئے دیمتری میدویدیف نے کہا کہ موجودہ عالمی صورتحال پہلی اور دوسری جنگ عظیم سے قبل کے حالات سے مشابہت رکھتی ہے، جہاں مقامی تنازعات بڑے عالمی تصادم کی بنیاد بن سکتے ہیں۔
انہوں نے یورپی قیادت کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ یورپی یونین اس وقت ایسے رہنماؤں کے ہاتھ میں ہے جو دہائیوں میں قائم ہونے والے نظام کو تباہ کر رہے ہیں۔
روسی رہنما کے مطابق روس اور مغربی ممالک کے درمیان موجودہ تنازع محض سیاسی نہیں بلکہ ایک “وجودی” نوعیت کا ہے، جس کا تعلق ریاست کی بقا سے ہے۔
انہوں نے الزام عائد کیا کہ متعدد مغربی ممالک براہِ راست اس تنازع میں شامل ہیں اور یوکرین کے ذریعے روس کے خلاف کارروائیوں میں مدد فراہم کر رہے ہیں۔
امریکا کے حوالے سے بات کرتے ہوئے میدویدیف نے کہا کہ واشنگٹن روس کا بڑا جیوپولیٹیکل حریف ہے، تاہم دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کی بنیاد جوہری طاقت کے توازن پر قائم ہے۔
انہوں نے کہا کہ مشرق وسطیٰ میں جاری تنازع جلد ختم ہوتا نظر نہیں آتا، کیونکہ مختلف قوتیں اس کشیدگی کو برقرار رکھنے میں دلچسپی رکھتی ہیں۔
ایران کے حوالے سے انہوں نے واضح کیا کہ روس کے پاس اس بات کے شواہد نہیں کہ ایران جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
دمتری میدویدیف نے کہا کہ عالمی تنازعات کے حل کے لیے محض “ڈیلز” یا سودے بازی مؤثر نہیں ہوتی، بلکہ اس کے لیے جامع اور سنجیدہ سفارتی کوششوں کی ضرورت ہوتی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ روس کی فتح ملک کی معاشی و سماجی ترقی کا راستہ ہموار کرے گی، جبکہ عوام کی اکثریت جنگ کے خاتمے اور استحکام کی خواہاں ہے۔









