صدرپوتن کی نیتن یاہو اور ایرانی صدر سے الگ الگ ٹیلیفونک گفتگو

ماسکو (وائس آف رشیا) روسی صدر ولادیمیر پوتن نے مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی کشیدگی کے پس منظر میں اسرائیلی وزیرِاعظم بنیامین نیتن یاہو اور ایران کے صدر مسعود پزیشکیان سے الگ الگ ٹیلیفونک بات چیت کی۔ کریملن کے مطابق گفتگو کا محور ایران کے گرد کشیدہ صورتحال اور علاقائی استحکام کا معاملہ رہا۔

کریملن کے بیان کے مطابق پوتن اور نیتن یاہو نے خطے کے موجودہ حالات اور ایران کے حوالے سے تازہ پیش رفت پر بات چیت کی۔ روسی صدر نے کہا کہ خطے میں استحکام اور سکیورٹی یقینی بنانے کے لیے سیاسی و سفارتی اقدامات کو تیز کرنا ضروری ہے۔

انہوں نے اس بات کی بھی تصدیق کی کہ روس تمام متعلقہ ممالک کی شمولیت کے ساتھ مذاکرات اور ثالثی کی کوششیں جاری رکھنے کے لیے تیار ہے۔ دونوں رہنماؤں نے باہمی رابطے جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔

ایرانی صدر مسعود پزیشکیان سے گفتگو میں دونوں ممالک نے ایران اور خطے کی مجموعی صورتحال کو جلد معمول پر لانے کی ضرورت پر زور دیا۔ اس موقع پر ماسکو اور تہران نے اپنے اسٹریٹیجک شراکت داری کو مضبوط بنانے اور مختلف شعبوں میں مشترکہ اقتصادی منصوبوں کے عملی نفاذ کے عزم کا اظہار کیا۔

ایرانی صدر نے پوتن کو اسلامی جمہوریہ کے اندر صورتحال معمول پر لانے کے لیے جاری اقدامات سے بھی آگاہ کیا۔

تجزیہ کاروں کے مطابق روس مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی میں کمی اور فریقین کے درمیان رابطوں کی بحالی کے لیے ڈپلومیٹک پراکسی کا کردار ادا کرتا نظر آ رہا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں