امریکی امن پلان چار حصوں میں تقسیم؛صدر پوتن کا انٹرویو،یوکرین بحران پر روس–امریکا رابطوں میں تیزی

ماسکو(وائس آف رشیا) روسی صدر ولادیمیر پوتن نے انکشاف کیا ہے کہ امریکی ایلچی اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کُشنر کی جانب سے پیش کی گئی تازہ تجاویز الاسکا میں ہونے والی روس–امریکا سربراہی ملاقات پر مبنی ہیں اور واشنگٹن نے اپنے 28 نکاتی یوکرین امن منصوبے کو اب چار پیکجز میں تقسیم کرکے ماسکو کے ساتھ بات چیت کی نئی حکمتِ عملی اختیار کی ہے۔

بھارتی نیوز چنینل کو دیے گئے انٹرویو میں پوتن نے بتایا کہ کریملن میں امریکی ایلچیوں کے ساتھ ہونے والی ملاقات پانچ گھنٹے جاری رہی، جس میں ہر نکتے پر تفصیل سے گفتگو ہوئی۔ انہوں نے اس ملاقات کو “بہت مفید اور نتیجہ خیز” قرار دیا۔

پوتن کے مطابق امریکہ کا گزشتہ 28 نکاتی امن پلان بدستور موجود ہے، لیکن اسے چار الگ حصوں میں تقسیم کرکے مذاکرات آگے بڑھانے کی پیشکش کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ یوکرین مسئلے کا حل تلاش کرنے کی “سنجیدہ کوشش” کر رہے ہیں، تاہم اس میں کئی معاملات ایسے ہیں جن پر فریقین کے درمیان اتفاق رائے پیدا نہیں ہو سکا۔

روس کے صدر نے کہا کہ ماسکو نے ابتداء میں ہی کییف کو تجویز دی تھی کہ وہ ڈونباس سے اپنی فوجیں واپس کھینچ لے تاکہ فوجی تصادم سے بچا جاسکے، مگر یوکرین نے مسلح کارروائی جاری رکھنے کا فیصلہ کیا۔ پوتن نے واضح کیا کہ روس ڈونباس اور نوووروسیا کو یا تو طاقت کے ذریعے آزاد کرائے گا، یا پھر یوکرینی فوج کے انخلا سے وہاں امن قائم ہوگا۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ یورپی ممالک کو یوکرین تنازع کے حل میں تعمیری کردار ادا کرنا چاہیے، نہ کہ مذاکراتی عمل میں رکاوٹیں پیدا کرنی چاہئیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں