ماسکو(وائس آف رشیا) ماسکو میں روسی صدر ولادیمیر پوتن اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف کے درمیان ہونے والی طویل اور اہم ملاقات کو روس نے نہایت مفید، تعمیری اور جامع قرار دیا ہے۔ روسی صدارتی معاون یوری اوشاکوف نے صحافیوں کو بتایا کہ دونوں وفود کے درمیان بات چیت تقریباً پانچ گھنٹے جاری رہی، جو آدھی رات کے بعد اختتام پذیر ہوئی۔
اوشاکوف کے مطابق گفتگو میں مختلف معاملات پر کھل کر تبادلۂ خیال ہوا، تاہم ابھی تک کسی باقاعدہ سمجھوتے تک پہنچنا ممکن نہیں ہوسکا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس مرحلے پر پوتن اور ٹرمپ کے درمیان کسی الگ ملاقات کی منصوبہ بندی نہیں کی جا رہی۔
انہوں نے کہا کہ مذاکرات میں الفاظ یا مسودوں پر نہیں بلکہ اصل معاملات پر بات ہوئی، اور دونوں جانب تعاون کے لیے ”بہت بڑی گنجائش“ موجود ہے۔ ان کے مطابق امریکی وفد کی کچھ تجاویز روس کے لیے قابلِ قبول ہیں، جب کہ بعض نکات ایسے بھی ہیں جن پر ماسکو کو تحفظات ہیں۔ یوری اوشاکوف نے یہ بھی تصدیق کی کہ بات چیت میں علاقائی امور پر بھی گفتگو ہوئی۔
ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ان مذاکرات کے بعد امن ”مزید دور نہیں ہوا“ بلکہ پیش رفت کی امید برقرار ہے۔ امریکی وفد نے یوکرین تنازع کے تصفیے سے متعلق چار اضافی دستاویزات بھی روس کے حوالے کیں جن کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔
روسی سرمایہ کاری کے اعلیٰ عہدیدار کریل دمترییف، جو روسی وفد کا حصہ تھے، نے ایکس (سابق ٹوئٹر) پر کہا کہ ملاقات ”نتائج خیز“ رہی۔ دوسری جانب اسٹیو وٹکوف گفتگو مکمل ہوتے ہی امریکی سفارت خانے روانہ ہوگئے۔
مذاکرات سے قبل ولادیمیر پوتن نے یورپی ممالک کے کردار پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا تھا کہ یورپ حقیقت سے نظریں چُرا رہا ہے اور وہ امریکی کوششوں کو سبوتاژ کر رہا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر یوکرین روسی تیل لے جانے والے غیر ملکی جہازوں پر بحیرہ اسود میں ڈرون حملے جاری رکھتا ہے تو روس یوکرین کی سمندری رسائی کو مکمل طور پر بند کرنے کا بھی فیصلہ کر سکتا ہے۔









