ماسکو (وائس آف رشیا) روسی وزیرِ خارجہ سرگئی لاوروف نے کہا ہے کہ یورپی ممالک نے یوکرین بحران سے متعلق پہلے طے شدہ معاہدوں پر عمل نہ کرکے خود ہی امن بات چیت سے کنارہ کشی اختیار کی۔
ایک انٹرویو میں لاوروف کا کہنا تھا کہ فروری 2014 میں بحران کے حل کے لیے طے پانے والا ابتدائی معاہدہ اسی وقت ناکام ہوگیا جب معاہدے کے اگلے ہی روز اپوزیشن نے سرکاری عمارتوں پر قبضہ کر لیا، اور یورپ نے اس خلاف ورزی پر کچھ نہیں کیا۔ ان کے مطابق منسک معاہدوں پر بھی یورپی ممالک مطلوبہ کردار ادا کرنے میں ناکام رہے۔
لاوروف نے بتایا کہ اپریل 2022 میں استنبول میں ہونے والے مذاکرات بھی اسی طرح سبوتاژ ہوئے، مبینہ طور پر اس وقت کے برطانوی وزیرِ اعظم بورس جانسن کی ہدایت پر، اور یورپ نے اس پر بھی کوئی مزاحمت نہیں کی۔
انہوں نے کہا کہ موجودہ صورتحال میں مذاکرات میں یورپی ممالک کی شمولیت پر “تقریباً کوئی بات چیت نہیں ہو رہی”۔ اس سے قبل کریملن کے ترجمان دیمتری پیسکوف نے کہا تھا کہ یوکرین معاملے پر روس صرف امریکہ سے بات چیت کر رہا ہے۔









