کابل (وائس آف رشیا) افغانستان میں موسمِ سرما نے حالات مزید کٹھن بنا دیے ہیں، جہاں پہلے ہی غربت، بھوک اور بنیادی سہولیات کے فقدان نے شہریوں کی زندگی کو شدید متاثر کر رکھا ہے۔ موسم کی شدت کے ساتھ ملک ایک نئی انسانی بحرانی لہر سے گزر رہا ہے۔
افغان ذرائع ابلاغ کے مطابق کئی صوبوں میں ہزاروں خاندان ایسے ہیں جو اپنے بچوں کے لیے گرم کپڑوں، جوتوں اور روزمرہ ضروریات کا بندوبست بھی نہیں کر پا رہے۔ متعدد علاقوں میں بچے کھلے پاؤں اور پھٹے پرانے لباس میں سردی کا مقابلہ کرنے پر مجبور ہیں۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ گھروں میں نہ مناسب خوراک موجود ہے، نہ پینے کا صاف پانی، اور نہ ہی سردی سے بچاؤ کا کوئی انتظام۔ ان کے بقول یہ حالات ملک میں جاری وسیع انسانی بحران کی ایک واضح تصویر پیش کرتے ہیں۔
اقوامِ متحدہ کی رپورٹ کے مطابق رواں برس تقریباً دو کروڑ افغان کسی نہ کسی شکل میں امداد کے منتظر ہیں اور انہیں فوری انسانی معاونت کی ضرورت ہے۔ عالمی اداروں نے اس بات پر بھی تشویش ظاہر کی ہے کہ تعلیم، ذریعہ معاش اور بنیادی سہولیات کی کمی طالبان حکومت کی بدانتظامی اور ناقص طرزِ حکمرانی کے باعث مزید بڑھ رہی ہے۔









