بشکیک(وائس آف رشیا) روسی صدر ولادیمیر پوتن اور کرغیزستان کے صدر سادر جاپاروف کے درمیان ہونے والے اعلیٰ سطحی مذاکرات کے بعد دونوں رہنماؤں نے میڈیا سے مشترکہ گفتگو کی، جس میں دوطرفہ تعلقات کو ایک نئے مرحلے میں داخل کرنے کا اعلان کیا گیا۔
گفتگو سے قبل دونوں ممالک کے درمیان مختلف معاہدوں اور دستاویزات کے تبادلے کی رسمی تقریب منعقد ہوئی۔
روسی صدر ولادیمیر پوتن نے اپنے بیان میں کہا کہ روس اور کرغیزستان کے تعلقات حقیقی معنوں میں دوستانہ، اعتماد پر مبنی اور ہمسائیگی کے جذبے کے عکاس ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ دونوں ممالک نے ایک مشترکہ اعلامیہ جاری کیا ہے جس کے تحت روابط کو ’’مزید گہرے اسٹریٹجک پارٹنرشپ اور اتحاد‘‘ کی سطح تک لے جایا جائے گا۔
معاشی تعاون میں نمایاں پیش رفت
پوتن کے مطابق گزشتہ سال دوطرفہ تجارت 4 ارب ڈالر کی بلند ترین سطح تک پہنچی، جبکہ رواں سال اس میں 17 فیصد مزید اضافہ ہوا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ دونوں ممالک نے مالی لین دین میں تقریباً مکمل طور پر غیر ملکی کرنسی کا استعمال ختم کر دیا ہے، اور 97 فیصد تجارت روبل میں ہورہی ہے۔
روسی صدر نے کہا کہ ماسکو، کرغیزستان کی ٹیکس اصلاحات اور مصنوعات کی لیبلنگ کے نظام میں مدد کر رہا ہے، جس کے نتیجے میں کرغیز حکومت کی آمدنی میں ایک ارب ڈالر سے زیادہ کا اضافہ ہوا۔
سرمایہ کاری اور توانائی کے شعبے میں تعاون
روس کی کرغیزستان میں مجموعی سرمایہ کاری دو ارب ڈالر کے قریب ہے جبکہ 1,700 سے زائد روسی کاروبار توانائی، زراعت، کان کنی، ٹرانسپورٹ اور لاجسٹکس کے شعبوں میں کام کر رہے ہیں۔
پوتن نے کہا کہ روس کرغیزستان کو پیٹرول اور ڈیزل ڈیوٹی فری فراہم کرتا ہے، جبکہ گازپروم نے گیس فراہمی اور گیس کاری کے منصوبے میں 400 ملین ڈالر سے زیادہ کی سرمایہ کاری کی ہے۔
انہوں نے اعلان کیا کہ دونوں ممالک ایشک-کول خطے میں شمسی توانائی کا بڑا منصوبہ اور شمالی کرغیزستان میں جدید تھرمل پاور پلانٹ تعمیر کریں گے۔
روس کے جوہری ادارے “روس اٹوم” نے متروک یورینیم کانوں کی صفائی کا پروگرام شروع کیا ہے جبکہ کرغیزستان میں اس کے پہلے ایٹمی بجلی گھر کی تعمیر کے امکانات بھی زیر غور ہیں، جو جدید ’’اسمول ماڈیولر ری ایکٹر‘‘ ٹیکنالوجی پر مبنی ہوگا۔

تعلیم، زبان اور ثقافتی تعاون
پوتن نے بتایا کہ 10 ہزار سے زائد کرغیز طلبہ روس میں زیرِ تعلیم ہیں جن میں سے آدھے سرکاری وظائف پر ہیں۔ مختلف روسی جامعات نے کرغیزستان میں اپنی شاخیں قائم کی ہیں۔
انہوں نے یہ بھی اعلان کیا کہ کرغیزستان میں نو نئی روسی زبان کی اسکولیں تعمیر کی جائیں گی جن میں سے پہلی تین 2027 میں کھلیں گی۔
بشکیک میں “یوریشین سینٹر آف رشیئن لینگوئج اینڈ کلچر” اور روسی زبان کا نیا ٹی وی چینل بھی کام شروع کر چکے ہیں۔

دفاعی اور سکیورٹی تعاون
دونوں ممالک نے دہشت گردی، منشیات کی اسمگلنگ اور منظم جرائم کے خلاف مشترکہ کارروائیوں کو مضبوط بنانے پر اتفاق کیا۔ پوتن نے کہا کہ کرغیزستان میں تعینات مشترکہ روسی فوجی اڈہ خطے میں امن و استحکام کے لیے اہم کردار ادا کر رہا ہے۔
عالمی امور پر مشترکہ مؤقف
روسی صدر کے مطابق دونوں ممالک اقوام متحدہ، شنگھائی تعاون تنظیم اور سی آئی ایس سمیت مختلف بین الاقوامی فورمز پر قریبی ہم آہنگی رکھتے ہیں۔
آخر میں پوتن نے کرغیز قیادت کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ان کا موجودہ دورہ دونوں ملکوں کے تعلقات کو مزید مضبوط بنانے میں سنگِ میل ثابت ہوگا۔ صدر پوتن اور صدر جاپاروف آئندہ سی ایس ٹی او سربراہی اجلاس میں بھی مشترکہ طور پر شرکت کریں گے۔









