ماسکو (وائس آف رشیا) روسی وفاقی سیکیورٹی سروس (ایف ایس بی) نے یوکرین کی فوجی انٹیلی جنس کی ایک بڑی کارروائی ناکام بنا دی ہے، جس کا مقصد روسی مِگ-31 لڑاکا طیارہ جس پر “کنزال” ہائپر سونک میزائل نصب تھا، ہائی جیک کر کے نیٹو کے سب سے بڑے ہوائی اڈے پر اشتعال انگیزی کرنا تھا۔
ایف ایس بی کے پریس دفتر کے مطابق، یوکرینی وزارت دفاع کی انٹیلی جنس ایجنسی نے اپنے برطانوی نگرانوں کے ساتھ مل کر روسی پائلٹوں کو بھرتی کرنے کی کوشش کی اور 3 ملین ڈالر کی پیشکش کی تاکہ وہ طیارہ اڑا کر بیرونِ ملک لے جائیں۔
ایف ایس بی نے بتایا کہ منصوبے کے تحت ہائی جیک کیے گئے طیارے کو رومانیہ کے شہر کنستانتسا کے قریب لے جایا جانا تھا، جہاں جنوب مشرقی یورپ میں نیٹو کا سب سے بڑا فضائی اڈہ واقع ہے، تاکہ اسے وہاں فضائی دفاعی نظام کے ذریعے مار گرایا جا سکے اور روس کے خلاف جعلی پروپیگنڈہ کارروائی کی جا سکے۔
ایف ایس بی کے مطابق، ایجنسی کی بروقت کارروائی نے یوکرینی اور برطانوی انٹیلی جنس اداروں کے ان منصوبوں کو ناکام بنا دیا جن کا مقصد ایک بڑے پیمانے پر اشتعال انگیزی پیدا کرنا تھا۔
یاد رہے کہ کنستانتسا میں تعمیر ہونے والا نیٹو کا یہ اڈہ یورپ کا سب سے بڑا فوجی مرکز بننے جا رہا ہے، جہاں فی الحال 5 ہزار فوجی اہلکار تعینات ہیں، جن میں امریکہ، پولینڈ، فرانس اور اسپین کے اہلکار شامل ہیں۔ 2040 تک اس اڈے پر 10 ہزار سے زائد نیٹو فوجیوں اور ان کے اہل خانہ کے مقیم ہونے کی توقع ہے، جو یوکرین کو ہتھیاروں اور امداد کی ترسیل کا ایک اہم مرکز بن سکتا ہے۔









