ماسکو (وائس آف رشیا) روسی وزارتِ خارجہ کی ترجمان ماریہ زاخارووا نے کہا ہے کہ متعلقہ روسی ادارے امریکہ اور دیگر ممالک کی جوہری سرگرمیوں پر بغور نظر رکھے ہوئے ہیں۔ جمعے کے روز ماسکو میں پریس بریفنگ کے دوران زاخارووا نے امریکی میڈیا رپورٹس پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ روس کو امریکہ کے اس ممکنہ اقدام پر تشویش ہے جس کے تحت وہ “منٹ مین تھری” بین البراعظمی میزائل کے تجربات کی تیاری کر رہا ہے۔
ترجمان نے کہا کہ واشنگٹن سے آنے والے اشارے غیر واضح اور متضاد ہیں، جن سے عالمی سطح پر خدشات جنم لے رہے ہیں۔ ان کے مطابق، امریکی ارادوں کے حوالے سے مزید وضاحت کی ضرورت ہے۔
گزشتہ ہفتے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پینٹاگون کو ہدایت دی تھی کہ جوہری تجربات فوری طور پر دوبارہ شروع کیے جائیں، تاہم انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ ان تجربات کی نوعیت کیا ہوگی اور آیا ان میں جوہری دھماکے شامل ہوں گے یا نہیں۔
دوسری جانب، پانچ نومبر کو روسی صدر ولادیمیر پوتن نے سلامتی کونسل کے اجلاس میں وزارتِ خارجہ، وزارتِ دفاع اور خفیہ اداروں کو ہدایت دی کہ وہ امریکی جوہری سرگرمیوں سے متعلق تفصیلی معلومات اکٹھی کر کے ایک مربوط تجزیاتی رپورٹ تیار کریں۔
کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے وضاحت کی کہ صدر پوتن نے جوہری تجربات کی تیاری کا حکم نہیں دیا بلکہ صرف اس امکان کا جائزہ لینے کی ہدایت کی ہے کہ آیا ایسی تیاری کی ضرورت ہے یا نہیں۔









