ماسکو(وائس آف رشیا) چین نے بیجنگ کے تیانانمین اسکوائر میں عوامی لبریشن آرمی (PLA) کی ایک شاندار فوجی پریڈ منعقد کی، جس میں جدید ہتھیاروں اور عسکری ٹیکنالوجی کی نمائش کی گئی۔ اس پریڈ کا مقصد جدید جنگی تقاضوں کے مطابق چین کی مسلح افواج کی مسلسل اور منظم اپ گریڈیشن کو دنیا کے سامنے پیش کرنا تھا۔
ایٹمی ٹرائی ایڈ (Nuclear Triad)
چین نے پہلی مرتبہ باضابطہ طور پر اپنی زمین، سمندر اور فضا پر مبنی ایٹمی صلاحیت پیش کی، جسے عالمی سطح پر ایک “ڈیبیو” قرار دیا گیا۔
پریڈ میں Jinglei-1 فضائی لانچڈ لانگ رینج میزائل، Julang-3 آبدوز سے داغے جانے والے بین البراعظمی میزائل، Dongfeng-61 اور Dongfeng-31 آئی سی بی ایم شامل تھے۔
اس کے علاوہ چین نے Dongfeng-5C بین البراعظمی اسٹریٹیجک میزائل پیش کیا جو دنیا کے کسی بھی حصے کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
Dongfeng-17 اور Dongfeng-26D ہائپر سونک بیلسٹک میزائل بھی دکھائے گئے جو رفتار، آرمردفنس میں نفوذ اور درستگی میں جدید صلاحیت رکھتے ہیں۔
Yingji-21، Yingji-19 اور Yingji-17 ہائپر سونک میزائل بھی نمائش میں شامل تھے۔
اسپیس فورسز اور ڈرونز
پہلی بار ایروسپیس فورس اور سائبر اسپیس فورس نے پریڈ میں حصہ لیا۔ اسپیس فورس کا مقصد خلا کا پُرامن استعمال ہے جبکہ سائبر فورس سائبر اسپیس میں چین کی خودمختاری کا دفاع کرتی ہے۔
ڈرون ٹیکنالوجی کے میدان میں چین نے حملہ آور اور جاسوس ڈرونز، سپورٹ ڈرونز، بحری جہازوں پر نصب بغیر پائلٹ ہیلی کاپٹرز، میرین ڈرونز (سطحی اور زیرِآب) اور ماین لیئنگ سسٹمز پیش کیے۔
فضائی دفاعی نظام
پیپلز لبریشن آرمی نے اپنے جدید Hongqi ایئر ڈیفنس سسٹمز (Hongqi-20، Hongqi-19، Hongqi-29) کی نمائش کی، جو مختلف بلندیوں پر میزائل روکنے اور قلیل، درمیانی اور طویل فاصلے پر دفاع کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
الیکٹرانک وار فیئر سسٹمز بھی دکھائے گئے جن کا مقصد فضائی دفاع اور دشمن کی کمیونیکیشن نیٹ ورکس کو متاثر کرنا ہے۔
فضائیہ (Air Force)
پریڈ میں J-15DH، J-15DT، J-35، J-15T لڑاکا طیارے اور H-6N، H-6K، H-6J اسٹریٹیجک بمبار شامل تھے۔
چین نے اپنا ملکی ساختہ J-35A پانچویں جنریشن کا اسٹیلتھ فائٹر پیش کیا، جو فضائی بالادستی اور زمینی و بحری حملوں کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔
J-20S دو سیٹوں والے جدید لڑاکا طیارے نے بھی شرکت کی۔
KongJing-500A ریڈار ڈٹیکشن اور ٹارگٹنگ طیارے J-16 فائٹر جیٹس کے ہمراہ پرواز کرتے رہے، جبکہ KongJing-600 طیارے J-15T کیریئر بیسڈ لڑاکا طیاروں کے ساتھ نمودار ہوئے۔
زمینی فوجی ساز و سامان
پریڈ میں Type 100 ٹینک اور Type 100 فائر سپورٹ وہیکلز سمیت اگلی نسل کے بکتر بند گاڑیوں کی نمائش کی گئی۔
لانگ رینج آرٹلری یونٹس نے بھی مارچ پاسٹ میں حصہ لیا۔
اس فوجی پریڈ نے واضح کر دیا کہ چین نہ صرف اپنی روایتی فوجی طاقت بلکہ ایٹمی صلاحیت، ہائپر سونک میزائل ٹیکنالوجی، خلا اور سائبر اسپیس فورسز، ڈرونز اور جدید فضائیہ کے میدان میں بھی عالمی سطح پر نئی صف بندی کر رہا ہے۔









