تیانجن (وائس آف رشیا) چین کے شہر تیانجن میں شنگھائی تعاون تنظیم (SCO) کا دو روزہ سربراہی اجلاس شروع ہوگیا، جس کی کوریج کے لیے دنیا بھر سے تقریباً تین ہزار صحافی موجود ہیں۔
پہلے روز سربراہان مملکت کے درمیان متعدد دو طرفہ ملاقاتیں ہوئیں۔ صحافیوں کی بڑی تعداد کے باعث پریس سینٹر کے مرکزی ہال میں جگہ کم پڑ گئی جس پر منتظمین نے اضافی ہال فراہم کیا تاکہ نیوز کانفرنسز اور رپورٹس کے لیے سہولت دی جا سکے۔
اجلاس کی سب سے اہم کارروائی یکم ستمبر کو متوقع ہے، جب رکن ممالک تیانجن سمٹ ڈیکلریشن سمیت متعدد اہم دستاویزات اور ترجیحی فیصلوں کی منظوری دیں گے۔
شنگھائی تعاون تنظیم کی بنیاد 15 جون 2001 کو رکھی گئی تھی۔ اس کے بانی ممالک میں چین، قازقستان، کرغزستان، روس، تاجکستان اور ازبکستان شامل تھے۔ 2017 میں بھارت اور پاکستان، 2023 میں ایران اور گزشتہ برس بیلاروس نے تنظیم میں شمولیت اختیار کی۔
اس اجلاس میں روسی صدر ولادیمیر پوتن سمیت بیس سے زائد ممالک کے سربراہان اور دس بین الاقوامی تنظیموں کے نمائندے شریک ہیں، جسے شنگھائی تعاون تنظیم کا اب تک کا سب سے بڑا اجلاس قرار دیا جا رہا ہے۔









