زیلنسکی روس کے ساتھ علاقائی مسئلے پر بات کے لیے تیار ہیں ، یوکرین وزارتِ خارجہ

کیف(وائس آف رشیا) یوکرین کے اعلیٰ سفارت کار نے کہا ہے کہ صدر ولادیمیر زیلنسکی روسی صدر ولادیمیر پوتن کے ساتھ براہِ راست مذاکرات کے لیے تیار ہیں اور ان مذاکرات میں علاقائی تنازعے پر بات کی جا سکتی ہے۔

یوکرین کے نائب وزیر خارجہ سرگئی کیسلیتسا نے امریکی نشریاتی ادارے این بی سی نیوز کو انٹرویو میں کہا کہ “صدر زیلنسکی نے بالکل واضح کیا ہے کہ وہ صدر پوتن کے ساتھ بیٹھنے اور اس معاملے پر بات کرنے کے لیے تیار ہیں، اور ان مذاکرات کی بنیاد موجودہ محاذِ جنگ ہوگا۔”

ان کا مزید کہنا تھا کہ یوکرینی عوام اپنی زمین کے بدلے امن کے سخت خلاف ہیں۔ تاہم، میڈیا رپورٹس کے مطابق زیلنسکی ممکنہ معاہدے کے تحت موجودہ محاذوں کو منجمد کرنے پر آمادہ ہو سکتے ہیں۔

کیسلیتسا نے یہ بھی بتایا کہ امریکہ اور یورپی ممالک یوکرین کو سیکیورٹی گارنٹی دینے پر غور کر رہے ہیں، جن میں زیادہ تر یورپی ممالک اپنی افواج فراہم کر سکتے ہیں جبکہ امریکہ کمانڈ سنبھال سکتا ہے۔

ادھر روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف کا کہنا ہے کہ ماسکو زیلنسکی کے ساتھ براہِ راست مذاکرات کو رد نہیں کرتا، تاہم اس سے پہلے سنجیدہ سفارتی تیاری ضروری ہے۔ روس نے یہ خدشہ بھی ظاہر کیا ہے کہ زیلنسکی کا صدارتی دورانیہ ختم ہو چکا ہے، اس لیے ان کے کسی معاہدے پر دستخط کرنے کے اختیار پر سوال اٹھتے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں