ماسکو(شاہد گھمن سے) دنیا بھر کی طرح روس کے دارالحکومت ماسکو میں پاکستانی سفارتخانے میں ایک پروقار تقریب کا انعقاد کیا گیا، جس میں بھارت کے مظالم کی پرزور مذمت کی گئی اور کشمیری عوام سے بھرپور یکجہتی کا اظہار کیا گیا۔
تقریب میں صدرِ پاکستان اور وزیرِاعظم پاکستان کے خصوصی پیغامات بھی پڑھ کر سنائے گئے، جب کہ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی بربریت پر ایک مؤثر ڈاکومنٹری بھی دکھائی گئی۔
تقریب کا آغاز تلاوت قرآن مجید سے کیا گیا. اس کے بعد پاکستان اور آزاد کشمیر کے قومی ترانوں کی دھنیں بجائی گئیں۔
اس موقع پر بھارتی فوج کی جانب سے مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر مبنی ایک مؤثر ڈاکومنٹری بھی دکھائی گئی، جس نے شرکاء کو جذباتی کر دیا۔

سفیر پاکستان محمد خالد جمالی نے صدر پاکستان محمد آصف زرداری کا پیغام پڑھ کر سنایا. انہوں نے کہا کہ 5 اگست 2019 کا دن تاریخ کا ایک سیاہ باب ہے، جب بھارت نے یکطرفہ طور پر اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے، مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت کو ختم کیا۔ یہ اقدام نہ صرف اقوام متحدہ کی قراردادوں کی خلاف ورزی تھا، بلکہ کشمیری عوام کے بنیادی انسانی حقوق پر بھی ایک سنگین حملہ تھا۔

انہوں نے مزید کہا کہ ہم آج اس دن کو اس عزم کے ساتھ یاد کر رہے ہیں کہ پاکستان کشمیری عوام کی جدوجہد میں ان کے ساتھ ہے — سفارتی طور پر، سیاسی طور پر اور اخلاقی طور پر۔ ہم دنیا کے ہر فورم پر کشمیریوں کے حقوق کے لیے آواز بلند کرتے رہیں گے۔
محمد خالد جمالی نے کہا کہ بھارت نے گزشتہ کئی برسوں سے مقبوضہ وادی میں جو ظلم و ستم روا رکھا ہے، وہ عالمی برادری کی آنکھیں کھولنے کے لیے کافی ہے۔ خواتین کی بے حرمتی، بچوں کی آنکھوں میں پیلٹ گن کے ذریعے چوٹیں، اور سیاسی رہنماؤں کی گرفتاریاں — یہ سب اس بات کا ثبوت ہیں کہ مقبوضہ کشمیر میں انسانیت دم توڑ رہی ہے۔

سفیر پاکستان نے عالمی برادری سے بھی اپیل کی انہوں نے کہا کہ ہم اقوام متحدہ، انسانی حقوق کی تنظیموں، اور دنیا کے تمام مہذب ممالک سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ مقبوضہ کشمیر میں جاری بھارتی بربریت کا نوٹس لیں، اور کشمیری عوام کو ان کا جائز اور قانونی حق — حقِ خودارادیت — دلوانے کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔
انہوں نے کہا کہ آج جب ہم یومِ استحصالِ کشمیر منا رہے ہیں، ہمیں اس جدوجہد کے ان عظیم شہداء کو بھی یاد رکھنا چاہیے جنہوں نے آزادی کی خاطر اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔ یہ قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی۔ پاکستان کا بچہ بچہ کشمیری عوام کے شانہ بشانہ کھڑا ہے۔
انہوں نے کشمیریوں کے حوصلے کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ کشمیری عوام کی جرات، حوصلے، اور قربانیوں کو تاریخ کبھی فراموش نہیں کرے گی۔ وہ دن دور نہیں جب مقبوضہ کشمیر میں آزادی کا سورج طلوع ہوگا، اور کشمیری عوام سکھ کا سانس لیں گے۔ پاکستان ان کے ساتھ تھا، ہے، اور ہمیشہ رہے گا۔
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کشمیری عوام کی سیاسی، سفارتی اور اخلاقی حمایت جاری رکھے گا جب تک انہیں اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حقِ خود ارادیت حاصل نہیں ہو جاتا۔
ڈپٹی ہیڈ آف مشن گیان چند نے وزیرِاعظم پاکستان میاں محمد شہباز شریف کا پیغام پڑھ کر سنایا جس میں کشمیری عوام سے پاکستان کی غیر متزلزل وابستگی اور بھارتی مظالم کی کھلی مذمت کی گئی۔

انہوں نے کہا کہ آج کا دن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ 5 اگست 2019 کو بھارت نے نہ صرف بین الاقوامی قوانین اور اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کی دھجیاں اُڑائیں، بلکہ کشمیریوں کی شناخت، ثقافت اور حقِ خودارادیت پر شب خون مارا۔ یہ اقدام جبر، تشدد اور نسلی امتیاز کی ایک بدترین مثال ہے جسے دنیا کے ضمیر کو جھنجھوڑ دینا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ بھارت کی قابض افواج نے مقبوضہ کشمیر کو ایک کھلی جیل میں تبدیل کر رکھا ہے۔ لاکھوں کشمیریوں کو ان کے بنیادی انسانی حقوق سے محروم کیا جا چکا ہے، انٹرنیٹ بند کیا جاتا ہے، سیاسی کارکنوں کو قید کیا جاتا ہے، اور میڈیا کو دبایا جاتا ہے۔ لیکن کشمیری عوام نے ہر ظلم کے آگے اپنا سر نہ جھکایا ہے۔ ان کی جدوجہد، ان کا حوصلہ، اور ان کی قربانیاں ہماری تحریک کا سرمایہ ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہم عالمی برادری سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ محض بیانات تک محدود نہ رہے بلکہ عملی اقدامات کرے۔ بھارت کو مجبور کیا جائے کہ وہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں بند کرے، اور کشمیریوں کو ان کا وہ حق دے جو اقوام متحدہ نے 1948 سے تسلیم کر رکھا ہے — یعنی رائے شماری کے ذریعے اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے کا حق۔
گیان چند نے کہا کہ پاکستان کشمیریوں کے ساتھ ہمیشہ کھڑا رہا ہے، اور جب تک انہیں آزادی نہیں ملتی، ہم ہر سطح پر ان کا مقدمہ لڑتے رہیں گے — چاہے وہ اقوام متحدہ ہو، او آئی سی ہو، یا دنیا کا کوئی اور فورم۔
وزیراعظم کے پیغام میں اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے، اور ہم اپنے کشمیری بھائیوں کے ساتھ ہر قسم کی قربانی دینے کو تیار ہیں۔ ہم اس دن کا شدت سے انتظار کر رہے ہیں جب سری نگر کی گلیوں میں پاکستان زندہ باد کے نعرے سرکاری طور پر گونجیں گے۔
تقریب میں ایک منٹ کی خاموشی بھی اختیار کی گئی.
تقریب میں روس میں مقیم پاکستانی اور کشمیری کمیونٹی کے اراکین، طلباء، دانشور، اور میڈیا نمائندگان نے شرکت کی۔ شرکاء نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ عالمی فورمز پر کشمیریوں کی آواز بلند کرتے رہیں گے۔
ہم چاہتے ہیں کہ دنیا مقبوضہ کشمیر میں ہونے والے مظالم کا نوٹس لے اور اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عملدرآمد یقینی بنائے

















