روس میں پل گرنے سے ٹرین پٹری سے اتر گئی، 7 افراد ہلاک، 66 زخمی

ماسکو(وائس آف رشیا) روس کے یوکرین سے متصل بریانسک ریجن میں ایک پل گرنے کے نتیجے میں مسافر ٹرین پٹری سے اتر گئی، جس کے باعث کم از کم 7 افراد ہلاک اور 66 زخمی ہو گئے، جن میں 3 بچے بھی شامل ہیں۔ یہ واقعہ ہفتے کی شب دیر گئے پیش آیا جسے حکام نے ”نقل و حمل میں غیرقانونی مداخلت“ کا نتیجہ قرار دیا ہے۔

بریانسک کے گورنر الیگزینڈر بوگومیز نے ٹیلیگرام پر بتایا کہ پل گرنے سے ریل کی پٹڑی مکمل طور پر ملبے تلے دب گئی، جس کے نتیجے میں مسافر ٹرین متاثر ہوئی جو کلیموو سے ماسکو جا رہی تھی۔ ریسکیو ٹیمیں موقع پر پہنچ چکی تھیں اور رات بھر امدادی کارروائیاں جاری رہیں۔

سوشل میڈیا پر شیئر کی گئی ویڈیوز میں متاثرہ ٹرین اور ملبے میں پھنسے افراد کو دکھایا گیا ہے جبکہ کئی لوگ چیختے چلاتے اور مدد کے لیے پکار رہے تھے۔ ایک ویڈیو میں ایک خاتون کو چیختے ہوئے سنا جا سکتا ہے: ”یہ پل کیسے گر گیا؟ وہاں بچے بھی ہیں!“

روسی ریلوے حکام نے تصدیق کی کہ واقعہ ہفتے کی شب 10 بج کر 44 منٹ پر پِلشینو اور ویگونچی اسٹیشنز کے درمیان پیش آیا۔ اگرچہ دیگر ریلوے آپریشن متاثر نہیں ہوئے، تاہم واقعے کی مکمل تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں۔

کینیڈا میں جی 7 اجلاس، یوکرین اور ٹیرف پالیسیوں کے باعث ٹرمپ کے ساتھ بڑھتے ہوئے تنازعات

ٹورنٹو (وائس آف رشیا) سات ترقی یافتہ ممالک کے وزرائے خارجہ جمعرات کو کینیڈا میں ملاقات کر رہے ہیں دوسری طرف گذشتہ سات ہفتوں سے امریکہ کے اتحادیوں اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان یوکرین کی خارجہ پالیسی میں تبدیلی اور محصولات کے نفاذ پر کشیدگی بڑھ رہی ہے ۔

برطانیہ، کینیڈا، فرانس، جرمنی، اٹلی، جاپان اور امریکہ پر مشتمل 7 ملکی گروپ کے وزراء اور یورپی یونین کے نمائندے، کیوبیک کی پہاڑیوں میں واقع دور دراز سیاحتی قصبے لا مالبائی میں دو روزہ اجلاس کررہے ہیں۔ ماضی میں یہ اجلاس عموماً ان ممالک کو درپیش مسائل پر اتفاق رائے کے ساتھ ہوتے رہے ہیں ۔

واشنگٹن کے شراکت داروں کے لیے ایجنڈے میں سب سے اہم بات، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کی جدہ، سعودی عرب میں یوکرین کے ساتھ منگل کو ہونے والی اور یوکرین کی طرف سے 30 روزہ جنگ بندی معاہدے کی حمایت پر مبنی بات چیت کے بارے میں، بریفنگ لینا ہوگی۔

لیکن کینیڈا کی صدارت میں پہلے جی 7 اجلاس سے پہلے، ایک جامع حتمی بیان تیار کرنا مشکل ثابت ہوا ہے۔

امریکہ کے فیصلے نے، جس کے تحت تمام اسٹیل اور ایلومینیم کی درآمدات پر 25 فیصد محصولات عائد کیے گئے، فوری طور پر کینیڈا اور یورپی یونین کی جانب سے جوابی اقدامات کو جنم دیا، جس سے کشیدگی واضح ہو گئی ہے۔

واشنگٹن نے یوکرین کے حوالے سے زبان پر سرخ لکیریں عائد کرنے کی کوشش کی ہے، روس کےپابندیوں سے پاک شپنگ نیٹ ورک’ نام نہاد شیڈو فلیٹ’ پر ایک علیحدہ اعلامیہ کی مخالفت کی اور چین کے لئے سخت زبان کا مطالبہ کیا ہے۔

جی 7 کے سفارت کاروں نے کہا کہ جدہ سے مثبت نتیجہ کم از کم یوکرین پر بات چیت کو آسان بنا سکتا ہے۔

20 جنوری کو ٹرمپ کے دوبارہ عہدہ سنبھالنے کے بعد سے، امریکہ نے یوکرین کے لئے دوستانہ روّیہ محدود کر دیا اور جنگ کو جلد ختم کرنے کے معاہدے پر زور دیا ہے۔ ٹرمپ نے،یورپی شراکت داروں سے زیادہ بوجھ اٹھانے کا مطالبہ کیا اور واشنگٹن کے ماسکو کے ساتھ تعلقات کو گرم کیا ہے۔

یہاں تک کہ امریکی سلامتی کی ضمانتوں پر بہت زیادہ انحصار کرنے والا ملک ‘جاپان’ بھی ٹرمپ کے نشانے پر آ گیا ہے۔

ایک یورپی سفارت کار نے طنزیہ انداز میں کہا ہے کہ “یہ بہت مشکل ہے۔ شاید ہمیں جی 8 کا انتظار کرنا چاہیے۔”

ٹرمپ نے تجویز دی ہے کہ جی 8 کو ماسکو کی واپسی کے ساتھ بحال کیا جا سکتا ہے، جس کی رکنیت 11 سال قبل کریمیا کے الحاق پر معطل کر دی گئی تھی۔

کہیں بھی امریکہ کے اتحادیوں کے لیے مشکلات کینیڈا سے زیادہ واضح نہیں ہوئیں۔

ٹرمپ کی جانب سے کینیڈا سے تمام درآمدات پر محصولات عائد کرنے کی دھمکیوں اور ملک کو 51ویں امریکی ریاست بنانے کے بارے میں ان کے مسلسل خیالات کی وجہ سے کینیڈا اور امریکہ کے درمیان تعلقات اپنی کم ترین سطح پر ہیں۔

روبیو نے صحافیوں کو بتایا کہ”ہم جی 7 میں ان تمام چیزوں پر توجہ مرکوز کریں گے۔ یہی اجلاس کا مقصد ہے۔ یہ اجلاس اس بارے میں نہیں ہے کہ ہم کینیڈا پر قبضہ کیسے کریں گے۔”

صدر پوتن کل 7 جنوری کو کرسمس کی تقریبات میں شرکت کریں گے

ماسکو(وائس آف رشیا) روس میں‌کل 7 جنوری کو کرسمس کا تہوار منایا جائے گا، کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے کہا کہ روسی صدر ولادیمیر پوتن روایتی طور پر اس سال چرچ کی کرسمس سروس میں شرکت کریں گے۔

انہوں نے اس معاملے پر ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ ہاں، یقیناً صدر اس سال بھی اس روایت کو برقرار رکھیں گے۔

کریملن کے اہلکار نے نوٹ کیا کہ مزید تفصیلات بعد میں فراہم کی جائیں گی۔

گزشتہ 7 سال میں موسمیاتی تبدیلیوں کے حوالے سے ہم نے کچھ نہیں کیا، جسٹس منصور علی شاہ

اسلام آباد(وائس آف رشیا) جسٹس منصور علی شاہ کا کہنا ہے کہ پاکستان کو موسمیاتی تبدیلی کے چیلنج کا سامناہے،پچھلے پانچ 7سال ہم نے اس حوالے سے کچھ نہیں کیا۔

تفصیلات کے مطابق جسٹس منصور علی شاہ نے نجی یونیورسٹی میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کلائمیٹ فنانس ہی کلائمیٹ جسٹس ہے ، موسمیاتی ایمرجنسی کا پاکستان کو سامنا ہے، پاکستان دنیا کا آٹھواں بڑا ملک ہے جو موسمیاتی تبدیلیوں سے متاثر ہے۔

سپریم کورٹ کے جج کا کہنا تھا کہ عدالتوں نے ہمیشہ موسمیاتی ایمرجنسی کے کیسز کو سنجیدہ لیا ، 90 کی دہائی میں انڈسٹریوں کو بند کرنے سے لیکر دیگر عوامل پر بات کی گئی ، عملدرآمد کون کرے گا اس پر بات نہیں ہوئی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں