روس کو اپنی کامیابی پر مکمل یقین، یوکرین میں نیٹو فوج کی تعیناتی ناقابل قبول ہے، کریملن

ماسکو(وائس آف رشیا) کریملن نے کہا ہے کہ روس کو خصوصی فوجی آپریشن میں اپنی کامیابی پر مکمل یقین ہے، تاہم اس وقت یوکرین تنازع کے پرامن حل کے لیے ضروری حالات موجود نہیں، جبکہ یوکرین میں نیٹو ممالک کے فوجی دستوں کی تعیناتی روس کے لیے ناقابل قبول ہے۔

روسی صدر کے ترجمان دیمتری پیسکوف نے صحافیوں کو بریفنگ دیتے ہوئے یوکرین تنازع، ماسکو پہنچنے والے امریکی فوجی ٹرانسپورٹ طیارے، ویٹی کن کے اعلیٰ سفارت کار کے دورہ روس، اہم بنیادی ڈھانچے کی سکیورٹی اور مغربی رہنماؤں کے حالیہ بیانات سمیت مختلف امور پر روسی موقف بیان کیا۔

ماسکو پہنچنے والے امریکی بوئنگ C-17A گلوب ماسٹر III فوجی ٹرانسپورٹ طیارے سے متعلق سوال پر دیمتری پیسکوف نے کہا کہ ان کے پاس اس حوالے سے کوئی معلومات نہیں ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ رواں ہفتے کریملن میں امریکی انتظامیہ کے نمائندوں کے ساتھ کسی ملاقات کا کوئی منصوبہ نہیں۔

ویٹی کن کے سیکریٹری برائے تعلقاتِ ریاست پال رچرڈ گالاگر کے دورہ روس کے حوالے سے پیسکوف نے کہا کہ انہیں اس بات میں کوئی شبہ نہیں کہ روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف کے ساتھ ملاقات میں یوکرین کا معاملہ بھی زیر بحث آئے گا۔ تاہم انہوں نے ملاقات کی مزید تفصیلات کے لیے روسی وزارت خارجہ کی ترجمان ماریہ زخارووا سے رجوع کرنے کا کہا۔

اہم بنیادی ڈھانچے کی سکیورٹی سے متعلق کریملن کے ترجمان نے کہا کہ روس کو اہم اقتصادی اور سماجی تنصیبات کے خلاف ڈرون حملوں کے واضح خطرے کا سامنا ہے، اس لیے ان تنصیبات کے حفاظتی اقدامات مزید سخت کیے جائیں گے۔

دیمتری پیسکوف کے مطابق بعض تنصیبات کے مالکان سکیورٹی اور ڈرون حملوں سے تحفظ کے لیے ضروری اقدامات پر مناسب توجہ نہیں دیتے۔ انہوں نے کہا کہ اہم انفراسٹرکچر کو عارضی انتظام کے تحت لینے سے متعلق صدارتی فرمان کا مقصد مخصوص سکیورٹی مسائل سے نمٹنا ہے۔

فن لینڈ کے صدر الیگزینڈر اسٹب اور برطانوی وزیراعظم اینڈی برنہم کی جانب سے روس کی شکست سے متعلق بیانات پر ردعمل دیتے ہوئے پیسکوف نے انہیں “بہت بڑا فریب” قرار دیا اور کہا کہ ایسے بیانات دینے والے زمینی حقائق کو تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں۔

کریملن کے ترجمان نے کہا کہ مغربی سیاست دانوں کے حالیہ بیانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ روس کے خلاف جارحانہ پالیسی بدستور جاری ہے، اس لیے ماسکو کو اپنی سلامتی یقینی بنانے کے لیے ضروری اقدامات کرنا ہوں گے۔ انہوں نے الیگزینڈر اسٹب اور اینڈی برنہم کو “جنگ کی جماعت” کے نمایاں نمائندے قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ جنگ جاری رکھنے کے خواہاں ہیں۔

یوکرین تنازع کے ممکنہ حل سے متعلق دیمتری پیسکوف نے کہا کہ روس صرف کامیابی کی امید نہیں کر رہا بلکہ اسے اپنی کامیابی پر مکمل یقین ہے۔ ان کے مطابق پرامن تصفیے کے لیے ضروری حالات موجود نہ ہونے کی وجہ سے روس اپنا خصوصی فوجی آپریشن جاری رکھے ہوئے ہے۔

ڈونباس کو کسی بیرونی یا تیسرے فریق کی انتظامیہ کے حوالے کرنے کی یوکرینی تجویز کو مسترد کرتے ہوئے پیسکوف نے کہا کہ روس کے موقف کے مطابق ڈونباس روسی فیڈریشن کا حصہ ہے، اس لیے کسی تیسرے فریق کے لیے روسی علاقے کا انتظام سنبھالنا ممکن نہیں۔

یوکرین میں غیر ملکی فوجیوں کی ممکنہ تعیناتی کے حوالے سے کریملن کے ترجمان نے ایک بار پھر واضح کیا کہ ماسکو مختلف سطحوں پر بارہا اپنا موقف بیان کر چکا ہے کہ یوکرین میں نیٹو ممالک کے فوجی دستوں کی تعیناتی روس کے لیے ناقابل قبول ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں