ایران کا بوشہر جوہری پلانٹ معمول کے مطابق فعال، کسی حملے کے آثار نہیں: روسی جوہری ادارہ

ماسکو(وائس آف رشیا) روسی سرکاری جوہری توانائی ادارے “روساٹوم” کے سربراہ الیکسی لیخاچیف نے کہا ہے کہ ایران کا بوشہر جوہری پلانٹ معمول کے مطابق کام کر رہا ہے اور حالیہ دنوں میں پلانٹ کے قریب کسی حملے کے آثار نہیں دیکھے گئے۔

روساٹوم کے کارپوریٹ اخبار کو دیے گئے انٹرویو میں الیکسی لیخاچیف نے بتایا کہ ایران کے بوشہر نیوکلیئر پاور پلانٹ کی صورتحال “مجموعی طور پر پُرسکون” ہے اور پلانٹ کا پہلا یونٹ مکمل صلاحیت کے ساتھ بجلی پیدا کر رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ روسی عملے نے حالیہ دنوں میں پلانٹ کے اطراف کسی عسکری حملے یا خطرناک سرگرمی کا مشاہدہ نہیں کیا۔

بوشہر پلانٹ ایران کا واحد فعال جوہری بجلی گھر ہے، جسے روسی تعاون سے تعمیر کیا گیا تھا اور اسے ایران کے توانائی کے بنیادی ڈھانچے کا اہم حصہ سمجھا جاتا ہے۔

روساٹوم کے سربراہ نے خبردار کیا کہ اگر اس جوہری تنصیب کو نشانہ بنایا گیا تو اس کے نتائج “علاقائی سطح کی تباہی” کا سبب بن سکتے ہیں، کیونکہ وہاں بڑی مقدار میں جوہری ایندھن موجود ہے۔

رپورٹ کے مطابق رواں ہفتے امریکا نے آبنائے ہرمز کے قریب ایرانی اہداف پر حملے کیے تھے، جس کے بعد تہران نے امریکا پر جنگ بندی کی خلاف ورزی کا الزام عائد کرتے ہوئے امریکی بحری جہازوں کے خلاف جوابی کارروائی کی۔

بوشہر جوہری پلانٹ آبنائے ہرمز سے تقریباً 250 کلومیٹر دور واقع ہے۔

روسی حکام کے مطابق فروری میں ایران پر امریکی اور اسرائیلی حملوں کے بعد روساٹوم نے بوشہر پلانٹ پر موجود اپنے ماہرین کی تعداد تقریباً 700 سے کم کر کے صرف 20 کر دی تھی، کیونکہ مارچ اور اپریل میں پلانٹ کے قریب دھماکوں اور حملوں کی اطلاعات سامنے آئی تھیں۔

ایک واقعے میں پلانٹ کے قریب ایک پروجیکٹائل گرنے سے ایک سیکیورٹی گارڈ ہلاک بھی ہوا تھا۔

الیکسی لیخاچیف نے کہا کہ روساٹوم صورتحال مکمل طور پر محفوظ ہونے کے بعد دوبارہ اپنے تمام ماہرین کو ایران بھیجنے کے لیے تیار ہے۔

انہوں نے بتایا کہ بوشہر پلانٹ کے دوسرے اور تیسرے یونٹ کی تعمیر پر بھی کام جاری ہے، جبکہ تقریباً 2200 ایرانی کارکن دوبارہ تعمیراتی سرگرمیوں میں مصروف ہو چکے ہیں۔

بوشہر جوہری پاور پلانٹ ایران کے قومی بجلی کے نظام کو توانائی فراہم کرتا ہے۔ اس منصوبے کا آغاز 1970 کی دہائی میں ایک مغربی جرمن کمپنی نے کیا تھا، تاہم 1980 میں ایرانی انقلاب کے بعد کام روک دیا گیا، جسے بعد ازاں روساٹوم نے 1990 کی دہائی میں دوبارہ شروع کیا۔

کیٹاگری میں : روس

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں