میونخ کانفرنس کیف کی ’ہولناک دہشت گردی‘ نظر انداز کر رہی ہے — ماسکو

ماسکو (وائس آف رشیا) روسی وزارتِ خارجہ کی ترجمان ماریہ زخارووا نے کہا ہے کہ میونخ سیکیوٹی کانفرنس کو یوکرین کے مبینہ طور پر روسی شہریوں پر حملوں اور ’’ہولناک دہشت گردی‘‘ پر توجہ دینی چاہیے، نہ کہ کیف کے لیے مزید فوجی امداد پر بحث کرنی چاہیے۔

یہ بیان اس کے بعد سامنے آیا جب بیلگورود ریجن کے گورنر ویچسلاو گلادکوو نے جمعے کو کہا کہ سرحدی علاقے پر یوکرینی حملے میں دو افراد ہلاک اور پانچ زخمی ہوئے۔ ان کے مطابق حملے کے نتیجے میں بجلی، حرارت اور پانی کی فراہمی معطل ہو گئی جبکہ رہائشی عمارتوں اور کھڑی گاڑیوں کو بھی نقصان پہنچا۔

روسی حکام کا کہنا ہے کہ 2022 میں تنازع کے شدت اختیار کرنے کے بعد سے یوکرین کی جانب سے سرحدی علاقوں پر ڈرون، توپ خانے اور میزائل حملے کیے جاتے رہے ہیں، جن میں متعدد شہری ہلاک ہو چکے ہیں۔

زاخارووا نے میونخ کانفرنس میں شریک مغربی رہنماؤں سے مطالبہ کیا کہ وہ ان حملوں کو ایجنڈے میں شامل کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ کانفرنس کو ’’کیف حکومت کی جانب سے شہری آبادی کے خلاف اس ہولناک دہشت گردی‘‘ پر بات کرنی چاہیے، بجائے اس کے کہ وہ یوکرین کے لیے مزید رقوم اور اسلحہ فراہم کرنے کے طریقوں پر غور کرے۔

تین روزہ میونخ سیکیورٹی کانفرنس جمعے کو شروع ہوئی جس میں 60 سے زائد سربراہانِ مملکت و حکومت شریک ہیں۔ ایجنڈے میں یوکرین تنازع کے علاوہ امریکہ اور یورپی یونین کے درمیان بڑھتے اختلافات بھی شامل ہیں۔

جرمن چانسلر فریدرچ میرز نے کہا کہ قواعد پر مبنی عالمی نظام ’’اب موجود نہیں رہا‘‘ جبکہ فرانسیسی صدر ایمانوئیل میکرون نے یورپ پر زور دیا کہ وہ اپنی ’’اسٹریٹیجک خودمختاری‘‘ کو تیز کرے۔

یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی بھی کانفرنس سے خطاب کریں گے اور متعدد ملاقاتیں کریں گے، جن میں مشترکہ فوجی پیداوار کے فروغ پر بات چیت متوقع ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں