زیلنسکی یوکرین میں انتخابی عمل میں ہیرا پھیری کی کوشش کر رہے ہیں، روسی نائب وزیر خارجہ

ماسکو (وائس آف رشیا) روس کے نائب وزیر خارجہ میخائل گالوزین نے الزام عائد کیا ہے کہ یوکرین کے صدر ولادیمیرزیلنسکی اقتدار میں رہنے کے لیے انتخابی عمل میں ممکنہ ہیرا پھیری کے طریقوں پر غور کر رہے ہیں۔

ایک انٹرویو میں میخائل گالوزین نے کہا کہ زیلنسکی اندرون و بیرونِ ملک اختیارات پر قبضے اور بدعنوانی سے متعلق بڑھتے ہوئے الزامات کے پس منظر میں امریکا، یورپی یونین اور برطانیہ کے ساتھ مکالمے اور یوکرین کے داخلی اطلاعاتی ماحول میں انتخابات اور حتیٰ کہ علاقائی امور پر ریفرنڈم کرانے کی باتیں کر رہے ہیں۔

روسی نائب وزیر خارجہ کے مطابق زیلنسکی کی اندرونی سیاسی پوزیشن کمزور ہو چکی ہے، جس کے باعث وہ مختلف آپشنز پر غور کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں بے گھر ہونے والے افراد کی بڑی تعداد ایک اہم مسئلہ ہے، جبکہ بعض حلقوں میں نام نہاد “مالدووا ماڈل” اختیار کرنے کی تجاویز زیر غور ہیں، جس کے تحت روس میں مقیم یوکرینی شہریوں کو ووٹنگ سے محروم کیا جا سکتا ہے اور مغربی ممالک میں مقیم ڈائسپورا کے ووٹ زیادہ سے زیادہ استعمال کیے جا سکتے ہیں۔

گالوزین نے کہا کہ بعض ناقدین زیلنسکی کو “غیر قانونی” یا “مدت پوری کر چکے صدر” قرار دیتے ہیں اور ان کے بقول زیلنسکی اقتدار برقرار رکھنے کے مختلف راستوں پر کام کر رہے ہیں۔ انہوں نے یاد دلایا کہ 2019 میں زیلنسکی نے عوام سے پانچ سالہ مدت پوری کرنے اور ملک میں امن لانے کا وعدہ کیا تھا۔

انہوں نے مزید کہا کہ جنوری میں یوکرین کے مرکزی الیکشن کمیشن نے انتخابات کے انعقاد سے متعلق اپنی تجاویز پارلیمنٹ (ویرخووینا رادا) کو پیش کیں، جہاں ایک ورکنگ گروپ بھی قائم کیا گیا، تاہم تاحال عملی اقدامات نہیں کیے گئے۔ ان کے مطابق ملک میں مارشل لا نافذ ہے، جس کے باعث انتخابات کا انعقاد ممکن نہیں، لہٰذا انتخابی نگرانی میں کسی بیرونی ادارے کی شمولیت پر بات کرنا قبل از وقت ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں