ماسکو(وائس آف رشیا) روس کے نائب وزیر خارجہ سرگئی ریابکوف نے کہا ہے کہ روسی وفد جنیوا میں ہونے والے مذاکرات کے لیے روانہ ہو رہا ہے اور امریکا کے ساتھ بات چیت آسان نہیں ہوگی۔
خبر رساں ادارے تاس کے مطابق ریابکوف نے روس-امریکہ تعلقات پر خصوصی اشاعت کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ماسکو یوکرین تنازع کے حل کے لیے ایسے معاہدے کا خواہاں ہے جو پائیدار ہو اور تنازع کی بنیادی وجوہات کا خاتمہ کرے۔
ریابکوف کے مطابق روسی وفد پیر کی شام جنیوا کے لیے روانہ ہو رہا ہے اور اسے وہی ہدایات دی گئی ہیں جن پر روس اور امریکا کے صدور نے اینکریج میں ملاقات کے دوران اتفاق کیا تھا۔
ان کا کہنا تھا کہ کسی بھی ممکنہ معاہدے کو صرف عارضی جنگ بندی تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ اسے تنازع کی بنیادی وجوہات کا مستقل حل فراہم کرنا ہوگا۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ یورپ میں موجود ’’جنگی جماعت‘‘ امریکا کی موجودہ انتظامیہ کو روس کے ساتھ معقول بنیادوں پر مذاکرات سے روک رہی ہے اور کیف کو یہ باور کرا رہی ہے کہ روس کو اسٹریٹجک شکست دی جا سکتی ہے۔
ریابکوف نے کہا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کے دوران واشنگٹن کے ساتھ مکالمے کی کچھ امیدیں پیدا ہوئی ہیں اور روس کو اس موقع سے فائدہ اٹھانا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ ماسکو امریکا کے ساتھ قابل قبول حل اور مشترکہ نکات تلاش کرنے کی کوشش جاری رکھے گا اور جذباتی ردعمل سے گریز کرے گا، چاہے روسوفوبیا کے مظاہر سامنے آئیں۔
روسی نائب وزیر خارجہ کے مطابق امریکا میں قید روسی شہریوں کا معاملہ بھی دوطرفہ مذاکرات میں مستقل طور پر زیر بحث رہتا ہے۔
ریابکوف نے کہا کہ روس امریکا کی اندرونی سیاسی صورتحال پر نظر رکھتا ہے، تاہم وہ کسی بھی ملک کے داخلی معاملات میں مداخلت نہیں کرتا۔ انہوں نے عندیہ دیا کہ نومبر میں ہونے والے وسط مدتی انتخابات کے نتائج سے یہ واضح ہوگا کہ ٹرمپ انتظامیہ کی خارجہ پالیسی کس سمت جاتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ کیوبا کی صورتحال بھی ماسکو کی توجہ میں ہے اور روس آزادیِ جہازرانی کے تحفظ کا وسیع تجربہ رکھتا ہے۔ ان کے بقول اگر کوئی روسی بحری بیڑے کو ’’محدود‘‘ کرنے کی کوشش کرے گا تو اس کے نتائج سنگین ہو سکتے ہیں۔
ریابکوف نے کہا کہ روس ’’بورڈ آف پیس‘‘ سے متعلق تجاویز کا جائزہ لے رہا ہے اور فوری طور پر شرکت یا عدم شرکت کا فیصلہ نہیں کرے گا۔ واشنگٹن میں 19 فروری کو ہونے والے افتتاحی اجلاس کے شرکا اور سطح کو دیکھنے کے بعد حتمی مؤقف اختیار کیا جائے گا۔









