برکس کو فوجی اتحاد میں تبدیل کرنے کا کوئی منصوبہ نہیں، روس

ماسکو (وائس آف رشیا) روس کے نائب وزیرِ خارجہ سرگئی ریابکوف نے واضح کیا ہے کہ برکس کو فوجی اتحاد میں تبدیل کرنے کا کوئی منصوبہ نہیں ہے اور نہ ہی اسے کبھی اجتماعی دفاعی تنظیم کے طور پر تشکیل دینے کا ارادہ کیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ برکس نہ تو کوئی فوجی اتحاد ہے اور نہ ہی یہ اجتماعی سلامتی کی ایسی تنظیم ہے جس میں باہمی دفاع کی ذمہ داریاں شامل ہوں۔ ان کے بقول، اسے ابتدا ہی سے اس مقصد کے لیے نہیں بنایا گیا اور آئندہ بھی اسے فوجی بلاک میں تبدیل کرنے کا کوئی ارادہ نہیں۔

جنوبی افریقہ میں حالیہ بحری مشقوں کے حوالے سے سوال پر سرگئی ریابکوف نے کہا کہ ان مشقوں میں برکس کے رکن ممالک نے خودمختار ریاستوں کی حیثیت سے شرکت کی، یہ کسی طور پر برکس کے پلیٹ فارم کے تحت منعقد ہونے والی سرگرمی نہیں تھی۔

انہوں نے اس سوال پر کہ آیا برکس اپنے رکن ممالک کے تجارتی بحری جہازوں کو حملوں سے بچانے کے لیے کوئی کردار ادا کر سکتا ہے، کہا کہ اس مقصد کے لیے برکس کے پاس کوئی اجتماعی طریقہ کار موجود نہیں، سوائے اس کے کہ لاجسٹکس کو بہتر بنایا جائے اور پابندیوں کے اثرات سے زیادہ تحفظ یقینی بنایا جائے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ اس نوعیت کی سلامتی کو یقینی بنانا برکس کے ایجنڈے کا حصہ نہیں اور اسے دیگر ذرائع سے یقینی بنایا جانا چاہیے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں