وفاقی حکومت کا 40 سال پرانے افغان مہاجرین کیمپس بند کرنے کا فیصلہ

گوجرانوالہ (حافظ ثاقب) وفاقی حکومت نے افغان مہاجرین کی وطن واپسی کے بعد 40 سال پرانے کیمپس بند کرنے کا فیصلہ کر لیا۔

وفاقی حکومت نے خیبر پختونخوا میں پانچ افغان مہاجرین کیمپس بند کرنے کا حکم دے دیا۔ وزارت امور کشمیر اور گلگت بلتستان نے کیمپوں کی بندش کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا۔

کیمپوں کی زمین صوبائی حکومت اور متعلقہ ڈپٹی کمشنرز کے حوالے کرنے کا حکم دے دیا گیا۔

بند کیے گئے کیمپس میں تین ضلع ہری پور جبکہ ایک ضلع چترال اور ایک اپر دیر میں تھا۔ 40 سال پرانے ہری پور کے پنیان کیمپ میں 1 لاکھ سے زائد مہاجرین رہائش پذیر تھے۔

یو این ایچ سی آر کے مطابق اس وقت افغان مہاجرین کی زیادہ تعداد خیبر پختونخوا میں ہے۔

وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور افغان مہاجرین کی زبردستی وطن واپسی کے خلاف بیان دے چکے ہیں۔

واضح رہے کہ چند روز قبل مشیر اطلاعات کے پی نے افغان مہاجرین کی واپسی کا عمل فوری روکنے کا مطالبہ کیا تھا۔

ملکی معیشت کے لیے اچھی خبر، پاکستان کو 40 ارب ڈالرز تک قرض ملنے کا امکان

اسلام آباد(وائس آف رشیا) پاکستان کو 40 ارب ڈالرز تک کے قرضے ملنے کا امکان ہے جس میں 20 ارب ڈالر عالمی بینک دے گا جب کہ باقی 20 ارب ڈالر کے لیے عالمی بینک کے 2 ذیلی ادارے ملک کی معاونت کریں گے۔

تفصیلات کے مطابق ذرائع نے کہا کہ عالمی بینک پاکستان کو 10 سال میں 20 ارب ڈالرز قرض دینے کے لیے رضامند ہوگیا ہے اور رواں ماہ کے وسط میں ورلڈ بینک کے بورڈ آف ڈائریکٹرز سے قرض کی منظوری متوقع ہے۔

رپورٹ کے مطابق قرض کی منظوری کے بعد ورلڈ بینک کے نائب صدر مارٹن ریسر کا اسلام آباد کا دورہ بھی متوقع ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ قرض پروگرام کے تحت 10 سال کے اہداف طے کیے گئے، قرض کنٹری پارٹنرشپ فریم ورک 35-2025 کے تحت دیا جائے گا۔

ذرائع کے مطابق 10 سالہ قرض پروگرام کا مقصد سب سے زیادہ نظر اندازاہم شعبوں کو بہتر بنانے پر توجہ دینا ہے، قرض کے تحت منصوبوں کو سیاسی تبدیلیوں سے محفوظ رکھا جائے گا۔

رپورٹ کے مطابق عالمی بینک کے 2 ذیلی ادارے مزید 20 ارب ڈالرز کے نجی قرضوں کے حصول میں معاونت کریں گے جب کہ مزید 20 ارب ڈالرز سے مجموعی پیکیج 40 ارب ڈالرز تک پہنچ جائے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں