ماسکو: (وائس آف رشیا) یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی کا کہنا ہے کہ ملک کے توانائی نظام کو حالیہ عرصے کے سب سے شدید حملوں میں سے ایک کا سامنا کرنا پڑا ہے، جس میں بجلی کی پیداوار اور ترسیل کی 15 سے زائد اہم تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔
ٹیلی گرام پر جاری اپنے بیان میں زیلنسکی نے کہا کہ 16 اکتوبر کو یوکرین کے مختلف علاقوں میں بجلی کی پیداوار اور ترسیل سے جڑی بڑی تنصیبات پر حملے ہوئے۔
انہوں نے بتایا کہ لوتسک، روونو، ژیتومیر، وینیتسا، شیپیتوفکا، سلاووتا اور نیتیشین میں حالات سب سے زیادہ خراب ہیں۔
زیلنسکی کے مطابق خارکوف، کیف اور دنیپروپیٹروفسک سمیت دیگر علاقوں میں بھی توانائی کی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔
دوسری جانب روسی مسلح افواج کے چیف آف جنرل سٹاف ویلری گیراسیموف نے 16 اکتوبر کو صدر ولادیمیر پوتن کو رپورٹ دیتے ہوئے بتایا تھا کہ روسی افواج نے یوکرین کی توانائی تنصیبات کے خلاف بڑے پیمانے پر حملوں کا آغاز کر دیا ہے۔
حملوں سے ہونے والے مجموعی نقصان، بجلی کی بندش اور ممکنہ جانی نقصان کے بارے میں فوری طور پر مکمل تفصیلات سامنے نہیں آ سکیں۔









