روس پر نئی پابندیاں معطل، ایران میں بات کرنے کیلئے کوئی نہیں بچا: ٹرمپ

واشنگٹن: (وائس آف رشیا) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے روس پر نئی پابندیاں لگانے کے منصوبے کے بڑے حصے کو روک دیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے کہا ہے کہ ایران کی تمام قیادت ختم ہو چکی ہے اور اب بات چیت کے لیے کوئی باقی نہیں رہا۔

برطانوی خبر رساں ادارے کے مطابق، یہ فیصلہ ایسے موقع پر سامنے آیا جب ٹرمپ روس کے معاملے میں نسبتاً نرم رویہ اختیار کر رہے ہیں اور انہوں نے یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی پر کھل کر تنقید بھی کی ہے۔

مجوزہ منصوبے میں امریکہ کو یہ اختیار ملنا تھا کہ وہ روس سے آنے والی تمام اشیا، جن میں خام تیل اور گیس بھی شامل ہیں، پر 100 فیصد تک ٹیرف عائد کر سکے۔ اس منصوبے کے نمایاں حامی امریکی سینیٹر لنڈسے گراہم تھے، جو حال ہی میں انتقال کر گئے۔

مجوزہ قانون کے مطابق، امریکہ ان ممالک کے خلاف بھی قدم اٹھا سکتا تھا جو قانون کے نفاذ کے 30 روز کے اندر روس سے جان بوجھ کر تیل یا گیس خریدیں، یا ان پانچ بڑے ممالک میں شمار ہوں جو پابندیوں سے بچنے میں روس کی معاونت کرتے ہیں۔

پابندیوں کو معطل کرنے کا فیصلہ ٹرمپ کے اس اعلان کے ایک ہفتے بعد آیا ہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ دنیا بھر میں توانائی کی قیمتوں میں کمی کے لیے امریکہ نے روس سے ڈیزل خریدنے پر اتفاق کیا ہے۔

ٹرمپ نے ستمبر کے وسط میں روس اور ایران پر پابندیاں لگانے کے لیے ’لنڈسے گراہم ایکٹ‘ کے نام سے ایک بل پر دستخط کیے تھے۔

دوسری جانب، امریکی صدر نے کہا کہ شاید ایرانی رہنماؤں کے معاملے میں انہوں نے کچھ زیادہ سختی دکھا دی، کیونکہ اب ان کے پاس بات کرنے کے لیے کوئی نہیں بچا۔

جارجیا میں ایک انتخابی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے ایک بار پھر دعویٰ کیا کہ ایران کے ساتھ جنگ بہت جلد ختم ہو جائے گی، اور امریکہ کے پاس ایران کے حکام اور رہنماؤں کی تمام گفتگو سننے کی صلاحیت موجود ہے۔

امریکی وسط مدتی انتخابات سے قبل ایک انتخابی جلسے سے خطاب میں ٹرمپ نے کہا کہ یقیناً یہ خفیہ اور راز کی بات ہے، لیکن میں نے اب اسے ظاہر کر دیا ہے۔

اپنے خطاب کے ایک اور حصے میں امریکی صدر نے ایران کے ساتھ جنگ کو ایک فوجی مشق قرار دیا۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ اگر آبنائے ہرمز کا نام تبدیل کرکے آبنائے ٹرمپ رکھ دیا جائے تو عرب ممالک کو کیسا محسوس ہوگا؟ یہ کام ہم آسانی سے کر سکتے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں