ماسکو: (شاہد گھمن) روس کے مختلف علاقوں میں موسم نے تیزی سے کروٹ بدل لی ہے۔ سائبیرین اور مشرقی خطوں میں برف باری ریکارڈ کی گئی، جبکہ کئی مقامات پر درجہ حرارت نقطہ انجماد سے نیچے چلا گیا۔
روسی موسمیاتی اداروں کے مطابق جمہوریہ خاکاسیا کے مختلف علاقوں میں 17 اکتوبر کو برف باری ہوئی، جس کے باعث سڑکوں پر پھسلن پیدا ہوگئی۔ ڈرائیوروں کو رفتار کم رکھنے اور سفر کے دوران اضافی احتیاط برتنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
نووسیبیرسک ریجن کے بعض علاقوں میں بھی برف پڑی، جبکہ رات کے وقت درجہ حرارت منفی 5 ڈگری سینٹی گریڈ تک گرگیا۔ بعض مقامات پر تیز ہواؤں کے باعث سردی کی شدت مزید بڑھ گئی۔
روس کے مشرق بعید میں واقع خاباروفسک ریجن میں شدید برف باری کو موسمیاتی ماہرین نے اکتوبر کے وسط کے لیے غیر معمولی قرار دیا ہے۔ برف باری کے ساتھ 26 میٹر فی سیکنڈ تک تیز ہوائیں چلیں اور صرف دو روز میں بعض مقامات پر ایک ماہ کے برابر بارش اور برف ریکارڈ کی گئی۔
شدید برف باری اور تیز ہواؤں سے بجلی کی لائنوں کو نقصان پہنچا۔ خاباروفسک ریجن میں 21 ہزار سے زیادہ شہریوں اور 49 سماجی اداروں کی بجلی متاثر ہوئی۔ ہنگامی ٹیموں نے بجلی کی بحالی اور سڑکوں سے برف ہٹانے کا کام شروع کردیا۔
اکتوبر کے دوران جمہوریہ کومی، ادمورتیا، پرم، کیروف، تاتارستان اور باشکورتوستان میں بھی موسم کی پہلی برف پڑ چکی ہے۔ برف باری کا سلسلہ سوردلوفسک اور اولیانوفسک ریجن تک بھی پہنچا، جبکہ بعض علاقوں میں تقریباً ایک سینٹی میٹر برف کی تہہ بن گئی۔
کوزباس کے پہاڑی سیاحتی مقام شیریگیش میں اکتوبر کے آغاز میں برف کی تہہ 9 سینٹی میٹر تک پہنچ گئی تھی، جبکہ ماگادان ریجن میں شدید برف باری کے باعث ٹریفک کی روانی متاثر ہوئی۔
موسمیاتی ماہرین کے مطابق روس کے وسیع رقبے کی وجہ سے مختلف علاقوں میں موسم نمایاں طور پر مختلف ہے۔ سائبیرین اور مشرقی علاقوں میں برف باری اور منفی درجہ حرارت ریکارڈ کیا جارہا ہے، جبکہ ماسکو اور روس کے بعض یورپی علاقوں میں نسبتاً گرم موسم برقرار ہے۔
ماسکو میں فی الحال برف باری کا امکان نہیں۔ دن کے وقت درجہ حرارت 15 سے 17 ڈگری سینٹی گریڈ کے درمیان رہنے کی پیش گوئی کی گئی ہے، جبکہ دارالحکومت میں پہلی برف اکتوبر کے آخری دنوں یا نومبر کے آغاز میں متوقع ہے۔









