ماسکو:(وائس آف رشیا) روسی صدر ولادیمیر پوتن نے کہا ہے کہ روسی افواج یوکرین کے دفاعی صنعتی اداروں اور فوجی رسد کے مراکز پر بڑے اور مربوط حملے جاری رکھیں گی، جبکہ روسی سرحدی علاقوں کے تحفظ کے لیے قائم کیے جانے والے سکیورٹی زون پر کیف کے ساتھ کوئی بات چیت نہیں ہوگی۔
مشترکہ فوجی گروپ کی ایک معاون کمانڈ پوسٹ کے دورے کے دوران صدر پوتن نے کہا کہ یوکرینی افواج کی کرسک ریجن میں دراندازی کے بعد روسی فوج کو دشمن کو روسی علاقے سے نکالنے کے ساتھ سرحد کے دوسری جانب ایک محفوظ زون قائم کرنے کی ذمہ داری بھی دی گئی تھی۔
صدر پوتن کے مطابق اس منصوبے پر کامیابی سے عمل جاری ہے۔ روس اپنے سرحدی علاقوں کی مکمل سلامتی یقینی بنائے گا اور سکیورٹی زون کے معاملے کو یوکرین کے ساتھ ممکنہ امن مذاکرات کا حصہ نہیں بنایا جائے گا۔
انہوں نے روسی فوجی گروپوں کے کمانڈروں کو خصوصی فوجی آپریشن کے مقررہ اہداف کے مطابق کارروائیاں جاری رکھنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ یوکرینی دفاعی تنصیبات اور لاجسٹک مراکز کے خلاف بڑے اور باہمی مربوط حملے جاری رہنے چاہئیں۔
روسی صدر نے کیف حکومت سے وابستہ اہداف کے خلاف حالیہ کارروائیوں کے نتائج کو مثبت قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ میدان جنگ میں روس کی اہم ترجیحات میں ڈونیٹسک عوامی جمہوریہ کی مکمل آزادی بھی شامل ہے۔
پوتن کے مطابق روسی فوج پورے محاذ پر پیش قدمی کررہی ہے اور حالیہ عرصے میں اس کی رفتار میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ صرف ستمبر کے دوران ڈونباس اور نووروسیا میں ایک ہزار 300 مربع کلومیٹر سے زیادہ علاقہ روسی افواج کے کنٹرول میں آیا۔
انہوں نے بتایا کہ رواں سال کے آغاز سے اب تک تقریباً 6 ہزار 500 مربع کلومیٹر علاقہ اور 310 آبادیاں روسی افواج کے کنٹرول میں آچکی ہیں۔
صدر پوتن نے ڈونیٹسک میں دوبروپولیے کے کنٹرول کو روسی فوج کی اہم کامیابی قرار دیتے ہوئے اس کارروائی میں حصہ لینے والے تمام فوجی اہلکاروں کا شکریہ ادا کیا۔
ان کا کہنا تھا کہ یوکرینی فوج نے شہر کو ایک مضبوط دفاعی مرکز میں تبدیل کر رکھا تھا، تاہم روسی دستوں نے مربوط اور پیشہ ورانہ کارروائی کرتے ہوئے پہلے وہاں موجود یوکرینی فورسز کا محاصرہ کیا اور بعد میں شہر کا مکمل کنٹرول حاصل کرلیا۔
پوتن کے مطابق دوبروپولیے کا کنٹرول ڈونیٹسک کی انتظامی سرحدوں کی جانب براہ راست پیش قدمی کا راستہ کھولتا ہے۔
انہوں نے الیکسییوو دروژکووکا کے کنٹرول اور دروژکووکا اور کراماتورسک میں یوکرینی دفاعی پوزیشنوں پر کارروائیوں کے آغاز کو بھی اہم قرار دیا۔ روسی صدر کے مطابق اس پیش رفت سے ڈونباس کو کیف کی فوجی یونٹوں سے آزاد کرانے کا عمل تیز ہوسکتا ہے۔
روسی صدر نے خارکوف ریجن میں تقریباً دو ہزار یوکرینی فوجیوں پر مشتمل ایک گروپ کے محاصرے کو بھی اہم فوجی کامیابی قرار دیا۔ ان کے مطابق یہ محاصرہ 460 مربع کلومیٹر کے قریب علاقے میں قائم کیا گیا۔
پوتن نے کہا کہ زاپوروژے ریجن میں بھی روسی پیش قدمی تیز رفتاری سے جاری ہے اور بیٹل گروپ دنیپر اور بیٹل گروپ ایسٹ کے دستے کامیابی کے ساتھ آگے بڑھ رہے ہیں۔
انہوں نے روسی فوجیوں اور افسروں کی پیشہ ورانہ صلاحیت، حوصلے اور وطن سے وفاداری کو پیش قدمی میں فیصلہ کن عنصر قرار دیا۔
روسی صدر نے فضائی دفاعی یونٹوں کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ شہری اور فوجی تنصیبات کے تحفظ کو مزید مؤثر بنانے کی ضرورت ہے۔









