پشاور:(وائس آف رشیا) خیبرپختونخوا میں پاکستان تحریک انصاف کے اراکین اسمبلی کی مبینہ گرفتاریوں کا سلسلہ جاری ہے۔ پی ٹی آئی کا دعویٰ ہے کہ 20 ستمبر سے اب تک تین ارکان قومی اسمبلی اور پانچ ارکان صوبائی اسمبلی کو اغوا یا گرفتار کیا گیا ہے، جبکہ متعدد کارکن اور عہدیدار بھی لاپتا ہیں۔
پارٹی کے مطابق اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ کے اعلان کے بعد 20 ستمبر سے ارکان قومی و صوبائی اسمبلی اور عہدیداروں کے مبینہ اغوا اور گرفتاری کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔ صوبائی وزیر تعمیرات و مواصلات شکیل خان کو 20 ستمبر کو اغوا کرنے کی کوشش کی گئی، جبکہ صوبائی وزیر آب پاشی فضل شکور خان کو 21 ستمبر کو موٹروے ٹول پلازہ سے اغوا کرلیا گیا۔
پی ٹی آئی نے بتایا کہ چارسدہ سے رکن قومی اسمبلی فضل خان کو 22 ستمبر کو رشکئی سے اٹھایا گیا۔ جنوبی وزیرستان سے منتخب رکن قومی اسمبلی زبیر خان کو 22 اور 23 ستمبر کی درمیانی شب ڈیرہ اسماعیل خان میں ان کے گھر سے اغوا کیے جانے کا واقعہ بھی رپورٹ ہوا۔
پارٹی کے مطابق کولائی پالس سے رکن صوبائی اسمبلی محمد ریاض کو 25 ستمبر اور سوات سے رکن صوبائی اسمبلی سلطان روم کو 26 ستمبر کو نامعلوم افراد نے اغوا کرلیا۔
دوسری جانب رکن صوبائی اسمبلی عبدالکریم تورڈھیر کے صوابی میں واقع حجرے پر نامعلوم افراد نے حملہ کرکے شدید فائرنگ کی، جس کے بعد ان کے بھائی عبدالناصر اور تین محافظوں کو اغوا کرلیا گیا۔ چترال سے رکن صوبائی اسمبلی فتح الملک ناصر اور ٹانک سے رکن قومی اسمبلی داور کنڈی کو اسلام آباد سے گرفتار کیے جانے کی اطلاعات ہیں۔
پی ٹی آئی کا دعویٰ ہے کہ انصاف لائرز فورم کے ریجنل جنرل سیکریٹری امیر اعجاز کو 17 ستمبر کو اغوا کیا گیا۔ انصاف ڈاکٹر فورم کے ڈاکٹر نبی جان کے بارے میں پارٹی کا کہنا ہے کہ انہیں نامعلوم افراد نے اغوا کیا ہے۔ مردان سے رکن صوبائی اسمبلی عبدالسلام آفریدی کو بھی اغوا کا واقعہ پیش آیا ہے اور ان کے اغوا کا مقدمہ بھی درج کیا گیا ہے۔









