ماسکو:(وائس آف رشیا) روسی صدر ولادیمیر پوتن کو ان کی 74 ویں سالگرہ پر امریکی رہنما ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے کوئی مبارکبادی پیغام موصول نہیں ہوا، کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے بتایا۔ ٹاس نے روسی صدارتی ترجمان کے اہم بیانات مرتب کیے ہیں۔
پیسکوف نے صحافیوں کو بتایا کہ پوتن اور ٹرمپ کے درمیان ممکنہ ٹیلی فونک گفتگو کا درست وقت ابھی طے ہونا باقی ہے۔ ان کے بقول جیسے ہی گفتگو کا وقت طے ہو جائے گا اور فون کال ہو جائے گی، میڈیا کو آگاہ کر دیا جائے گا اور کچھ نہیں چھپایا جائے گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ کال کے انتظام میں کوئی تاخیر نہیں ہوئی۔
یوکرین میں تصفیے کے امکانات پر بات کرتے ہوئے پیسکوف نے کہا کہ ماسکو یوکرین تنازع کے حل میں دلچسپی لینے پر نئی دہلی کا شکر گزار ہے اور ہر اس ملک کی کوششوں کا خیر مقدم کرتا ہے جو صورتحال کے حل میں کردار ادا کر سکے یا کیف حکومت اور یورپی ممالک کو پُرامن راستے پر لانے میں مدد دے۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ فی الوقت یوکرین تنازع کا کوئی پُرامن حل نظر نہیں آ رہا۔
پیسکوف نے زور دے کر کہا کہ روس کے نزدیک یوکرین کا تصفیہ جامع ہونا چاہیے کیونکہ جزوی اقدامات سے کام نہیں چلے گا۔ ان کے مطابق یوکرین سے متعلق معاہدے آنے والی نسلوں کے لیے ضمانت شدہ اور ٹوٹ پھوٹ سے محفوظ ہونے چاہئیں، صدر اس نکتے پر بارہا زور دے چکے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ تنازع کو منجمد کرنے سے بھی اس کا حل نہیں نکلے گا۔
ایران کے جوہری عدم پھیلاؤ کے معاہدے سے ممکنہ علیحدگی کے سوال پر کریملن ترجمان نے کہا کہ آئندہ سی آئی ایس سربراہی اجلاس کے موقع پر صدر پوتن اور ایرانی صدر مسعود پزشکیان کی ملاقات میں یہ موضوع زیر بحث آ سکتا ہے، لیکن یہ دیکھنا ضروری ہے کہ آیا یہ واقعی ایجنڈے پر ہے کیونکہ ارکان پارلیمنٹ کے بیانات ہمیشہ ملک کی عملی خارجہ پالیسی کی عکاسی نہیں کرتے۔
سی آئی ایس کے حوالے سے پیسکوف نے کہا کہ آزاد ریاستوں کی دولت مشترکہ گزشتہ دہائیوں میں اپنے رکن ممالک کے لیے مفید ثابت ہوئی ہے اور اس نے گہرے انضمام کی راہ ہموار کی ہے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ پوتن ترکمانستان میں ہونے والے آئندہ سی آئی ایس سربراہی اجلاس کے موقع پر تمام شریک رہنماؤں سے ملاقات کریں گے۔
ماخذ: ٹاس









