روس افریقہ سربراہی اجلاس میں تعاون کی 150 دستاویزات پر دستخط

ماسکو (وائس آف رشیا): روس کے دارالحکومت ماسکو میں منعقدہ تیسرے روس افریقہ سربراہی اجلاس کے دوران مختلف شعبوں میں تعاون سے متعلق تقریباً 150 معاہدوں اور دیگر دستاویزات پر دستخط کیے گئے ہیں۔ کریملن نے سربراہی اجلاس کے نتائج جاری کرتے ہوئے تعلیم، صحت، تجارت، ٹرانسپورٹ، زراعت اور کسٹمز سمیت متعدد شعبوں میں تعاون کی تصدیق کی ہے۔

روسی صدارتی دفتر کریملن کی جانب سے 30 اکتوبر کو جاری کردہ معلومات کے مطابق سربراہی اجلاس میں روس اور افریقی ممالک کے درمیان دوطرفہ اور کثیرالجہتی تعاون کو فروغ دینے کے لیے اہم دستاویزات پر دستخط ہوئے۔

کریملن کے مطابق ان دستاویزات میں تعلیم، طب، تجارت، نقل و حمل، زراعت، صحت عامہ اور وبائی امراض سے تحفظ، سینیٹری و وبائیاتی سلامتی اور کسٹمز کے ضوابط سے متعلق تعاون کے معاہدے شامل ہیں۔

اس کے علاوہ روس اور افریقی ممالک کے تعلیمی اداروں، خبر رساں ایجنسیوں اور تجارتی تنظیموں کے درمیان بھی بڑی تعداد میں معاہدوں اور تعاون کی دستاویزات پر دستخط کیے گئے۔

روسی صدارتی دفتر نے بتایا کہ سربراہی اجلاس کے دوران طے پانے والی تمام دستاویزات کی مجموعی تعداد تقریباً 150 ہے، جن میں مختلف سرکاری اداروں کے ساتھ ساتھ تعلیمی، ابلاغی اور نجی کاروباری شعبوں کے درمیان تعاون کی دستاویزات بھی شامل ہیں۔

ماسکو میں 28 اور 29 اکتوبر کو منعقدہ دو روزہ روس افریقہ سربراہی اجلاس میں سیاسی، اقتصادی اور تجارتی تعلقات کے فروغ کے ساتھ مختلف شعبوں میں عملی تعاون کو وسعت دینے پر توجہ دی گئی۔

سربراہی اجلاس کے دوران روسی صدر ولادیمیر پوتن نے افریقی رہنماؤں کے ساتھ ملاقاتوں اور مرکزی نشستوں میں شرکت کی۔ روسی صدر نے افریقی ممالک کے ساتھ اقتصادی تعاون بڑھانے اور باہمی تجارت کو مزید فروغ دینے پر زور دیا۔

صدر پوتن کے مطابق گزشتہ روس افریقہ سربراہی اجلاس کے بعد روس اور افریقی ممالک کی باہمی تجارت ڈیڑھ گنا بڑھ کر 27 ارب ڈالر تک پہنچ گئی ہے۔

کریملن کی جانب سے تقریباً 150 تعاون کی دستاویزات پر دستخط کی تصدیق کے بعد دو روزہ سربراہی اجلاس کے اقتصادی، تعلیمی، طبی، تجارتی اور ادارہ جاتی تعاون سے متعلق نتائج بھی سامنے آ گئے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں