ماسکو (شاہد گھمن): روس کے دارالحکومت ماسکو میں تیسرے روس افریقہ سربراہی اجلاس اور اقتصادی و انسانی تعاون فورم کا باقاعدہ آغاز ہوگیا ہے۔ دو روزہ بین الاقوامی اجتماع میں افریقی براعظم کے 48 ممالک کے وفود شرکت کر رہے ہیں، جن میں 22 ممالک کی نمائندگی سربراہان مملکت کی سطح پر کی جا رہی ہے۔ اجلاس میں روس اور افریقی ممالک کے درمیان سیاسی، اقتصادی، تجارتی، توانائی، دفاعی سلامتی، زراعت، تعلیم اور جدید ٹیکنالوجی کے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر بات چیت کی جائے گی۔
28 اور 29 اکتوبر کو منعقد ہونے والے اس سربراہی اجلاس کا مرکزی موضوع امن، سلامتی اور ترقی ہے۔ روسی صدر ولادیمیر پوتن اور افریقی یونین کے موجودہ چیئرمین، برونڈی کے صدر ایوارست ندائیشیمیے اجلاس کی مشترکہ صدارت کریں گے۔ روسی حکام کے مطابق افریقی براعظم کے 54 میں سے 48 ممالک نے شرکت کی تصدیق کی ہے، جسے روس اور افریقہ کے درمیان بڑھتے ہوئے سفارتی اور اقتصادی روابط کے حوالے سے اہم قرار دیا جا رہا ہے۔
اجلاس کے پہلے روز ماسکو کے تاریخی گوستینی دوور میں اقتصادی و انسانی تعاون فورم کی سرگرمیاں شروع ہوگئی ہیں، جہاں روس اور افریقی ممالک کے حکومتی نمائندے، کاروباری شخصیات، سرمایہ کار، ماہرین اور مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے وفود شریک ہیں۔ فورم کی مرکزی نشست میں صدر پوتن اور برونڈی کے صدر خطاب کریں گے، جبکہ اجلاس کی نظامت روسی اکیڈمی آف سائنسز کے انسٹی ٹیوٹ آف افریقہ کی ڈائریکٹر ایرینا ابرامووا کریں گی۔
روسی صدر کے معاون یوری اوشاکوف کے مطابق صدر پوتن اپنے خطاب میں روس اور افریقی ممالک کے درمیان تجارتی و سرمایہ کاری تعلقات، زراعت، توانائی، تعمیرات، اطلاعاتی ٹیکنالوجی، صحت اور تعلیم کے شعبوں میں تعاون کی موجودہ صورتحال اور مستقبل کے امکانات پر روشنی ڈالیں گے۔ اس کے علاوہ افریقی ممالک کی قومی خودمختاری، غذائی تحفظ اور جدید ٹیکنالوجی تک منصفانہ رسائی جیسے معاملات بھی اہم موضوعات میں شامل ہوں گے۔
اقتصادی و انسانی تعاون فورم کے لیے تقریباً چار ہزار روسی اور افریقی کاروباری شخصیات کو مدعو کیا گیا ہے۔ فورم کے پروگرام میں 40 سے زائد کاروباری اور موضوعاتی نشستیں رکھی گئی ہیں، جن میں صنعت، معدنیات، زراعت، مالیاتی خدمات، سیاحت، ٹیلی کمیونیکیشن، ادویہ سازی اور جدید ٹیکنالوجی سمیت مختلف شعبوں میں مشترکہ منصوبوں اور سرمایہ کاری کے مواقع پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔
فورم کی سرگرمیوں کو چار بنیادی شعبوں میں تقسیم کیا گیا ہے، جن میں پائیدار ترقی کی بنیاد کے طور پر قومی خودمختاری، خودمختار عالمی اقتصادی نظام، انسانی و سماجی تعاون اور انسانی وسائل کی ترقی، جبکہ معیار زندگی بہتر بنانے کے لیے ٹیکنالوجی اور جدت شامل ہیں۔ مختلف نشستوں میں افریقی ممالک کی صنعتی ترقی، بنیادی ڈھانچے کی تعمیر، توانائی کی ضروریات اور روسی کمپنیوں کے ساتھ مشترکہ منصوبوں پر توجہ دی جا رہی ہے۔
پہلے روز روس افریقہ میڈیا فورم بھی پروگرام کا حصہ ہے، جس میں روسی اور افریقی ذرائع ابلاغ کے نمائندے میڈیا تعاون، معلومات کے تبادلے اور بین الاقوامی صحافت سے متعلق معاملات پر گفتگو کریں گے۔ ماسکو کے بین الاقوامی تعلقات کے ادارے ایم جی آئی ایم او میں روس افریقہ یوتھ فورم اور نوجوان سفارت کاروں کے فورم کا بھی اہتمام کیا گیا ہے، جن کا مقصد نئی نسل کے درمیان تعلیمی، سفارتی اور پیشہ ورانہ روابط کو فروغ دینا ہے۔
مرکزی نشست کے بعد صدر پوتن اور افریقی رہنماؤں کے لیے گوستینی دوور میں روسی ٹیکنالوجی اور صنعتی ترقی سے متعلق نمائش کا دورہ بھی طے ہے۔ نمائش میں توانائی، قدرتی وسائل، خوراک، ادویہ سازی، ڈیجیٹل اور مالیاتی بنیادی ڈھانچے، افرادی قوت کی تربیت اور دیگر شعبوں میں روسی منصوبوں اور جدید ٹیکنالوجی کو پیش کیا جائے گا۔
سربراہی اجلاس کے موقع پر صدر پوتن کی افریقی رہنماؤں کے ساتھ دوطرفہ ملاقاتوں کا سلسلہ بھی شروع ہونے والا ہے۔ پہلے روز مصری صدر عبدالفتاح السیسی کے ساتھ مذاکرات طے ہیں، جبکہ ایتھوپیا کے وزیراعظم ابی احمد اور جمہوریہ کانگو کے صدر ڈینس ساسو نگیسو کے ساتھ ملاقاتیں بھی پروگرام میں شامل ہیں۔ روسی صدر افریقی علاقائی تنظیموں کے سربراہان کے ساتھ بھی ملاقات کریں گے، جس میں علاقائی اقتصادی انضمام اور روس کے ساتھ تعاون کے امکانات پر بات چیت متوقع ہے۔
پہلے روز کی سرگرمیوں کے اختتام پر کریملن میں صدر پوتن کی جانب سے سربراہی اجلاس کے شرکا کے اعزاز میں استقبالیہ دیا جائے گا۔ اجلاس کی مرکزی سربراہی نشستیں جمعرات 29 اکتوبر کو گرینڈ کریملن پیلس میں منعقد ہوں گی، جہاں روس اور افریقی ممالک کے رہنما عالمی سیاسی و اقتصادی صورتحال، بین الاقوامی سلامتی، کثیر قطبی عالمی نظام اور باہمی تعاون کے مستقبل پر گفتگو کریں گے۔
سربراہی اجلاس کے اختتام پر مشترکہ اعلامیے، مصنوعی ذہانت کے شعبے میں تعاون سے متعلق دستاویز اور 2027 سے 2029 تک روس افریقہ شراکت داری کے عملی منصوبے کی منظوری متوقع ہے۔
روس افریقہ سربراہی اجلاس کا آغاز 2019 میں روس کے شہر سوچی سے ہوا تھا، جبکہ دوسرا اجلاس جولائی 2023 میں سینٹ پیٹرزبرگ میں منعقد ہوا۔ ماسکو میں جاری تیسرا سربراہی اجلاس روس اور افریقی ممالک کے درمیان سیاسی روابط، اقتصادی شراکت داری، تجارت اور سرمایہ کاری کو مزید وسعت دینے کے لیے منعقد کیا جا رہا ہے۔









