ماسکو میں تیسرے روس افریقہ سربراہی اجلاس کا آغاز، 48 افریقی ممالک شریک، صدر پوتن کا عالمی نظام میں تبدیلی اور اقتصادی تعاون بڑھانے پر زور

ماسکو (شاہد گھمن): روس کے دارالحکومت ماسکو میں تیسرے روس افریقہ سربراہی اجلاس اور اقتصادی و انسانی تعاون فورم کا آغاز ہوگیا، جس میں افریقی براعظم کے 48 ممالک کے وفود شریک ہیں، جبکہ 22 ممالک کی نمائندگی سربراہان مملکت کی سطح پر کی جا رہی ہے۔ روسی صدر ولادیمیر پوتن نے فورم کے افتتاحی پلینری سیشن سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ دنیا میں کثیر قطبی نظام کی تشکیل ایک ناقابل واپسی عمل ہے اور وہ دور ختم ہو رہا ہے جب چند ممالک پوری دنیا کے مستقبل سے متعلق فیصلے کیا کرتے تھے۔

28 اور 29 اکتوبر کو منعقد ہونے والے دو روزہ سربراہی اجلاس کی سرگرمیوں کا آغاز بدھ کو ماسکو کے تاریخی گوستینی دوور میں ہوا۔ اجلاس کی مشترکہ صدارت صدر پوتن اور افریقی یونین کے موجودہ چیئرمین، برونڈی کے صدر ایوارست ندائیشیمیے کر رہے ہیں۔ فورم میں افریقی ممالک کے سربراہان، وزرا، سفارتی وفود، کاروباری شخصیات، سرمایہ کاروں اور بین الاقوامی تنظیموں کے نمائندوں کی بڑی تعداد شریک ہے۔

افتتاحی پلینری سیشن میں صدر پوتن نے افریقی ممالک کے رہنماؤں اور وفود کا خیرمقدم کرتے ہوئے روس کی دعوت قبول کرنے پر ان کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ روس افریقی ممالک کے ساتھ برابری، باہمی احترام اور قومی خودمختاری کی بنیاد پر تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کا خواہاں ہے۔

روسی صدر نے اپنے خطاب میں کہا کہ افریقہ عالمی سیاست اور معیشت میں تیزی سے اہم مقام حاصل کر رہا ہے، جبکہ بین الاقوامی نظام میں طاقت کے نئے مراکز ابھر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بعض ممالک اپنی سابقہ بالادستی برقرار رکھنے کے لیے تجارتی جنگوں، اقتصادی پابندیوں اور سیاسی دباؤ کا سہارا لے رہے ہیں۔ صدر پوتن کے مطابق نوآبادیاتی دور کے اثرات آج بھی افریقی ممالک میں موجود ہیں اور عالمی مالیاتی اداروں میں ان ممالک کی نمائندگی بڑھانے کی ضرورت ہے۔

صدر پوتن نے افریقہ کو مستقبل کا براعظم قرار دیتے ہوئے اس کی نوجوان آبادی، قدرتی وسائل اور اقتصادی ترقی کے امکانات کا ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ افریقی ممالک کو اپنے قدرتی وسائل پر مکمل اختیار اور اپنی ترقی کی ترجیحات خود طے کرنے کا حق حاصل ہے۔

روسی صدر نے روس اور افریقی ممالک کے درمیان تجارتی و اقتصادی تعاون بڑھانے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ دونوں فریق زراعت، توانائی، صنعت، بنیادی ڈھانچے، تعلیم، صحت اور جدید ٹیکنالوجی کے شعبوں میں مشترکہ منصوبوں کو مزید فروغ دے سکتے ہیں۔ انہوں نے افریقی ممالک کی اقتصادی ترقی، مالیاتی استحکام اور بین الاقوامی مالیاتی اداروں میں زیادہ مؤثر نمائندگی کی حمایت بھی کی۔

صدر پوتن نے افریقی ممالک کی فضائی کمپنیوں کو روس کے لیے پروازیں شروع کرنے کی دعوت دیتے ہوئے کہا کہ براہ راست فضائی رابطوں میں اضافہ سیاحت اور دونوں خطوں کے عوام کے درمیان روابط کو فروغ دے سکتا ہے۔ انہوں نے روس کی جانب سے افریقی ممالک کے مالیاتی استحکام میں تعاون کا بھی ذکر کیا۔

فورم کے افتتاحی اجلاس میں برونڈی کے صدر اور افریقی یونین کے چیئرمین ایوارست ندائیشیمیے سمیت افریقی ممالک کے دیگر رہنماؤں نے بھی شرکت کی۔ دو روزہ اجتماع میں روس اور افریقی ممالک کے درمیان سیاسی تعلقات، تجارت، سرمایہ کاری، غذائی تحفظ، توانائی، معدنی وسائل، ٹرانسپورٹ اور جدید ٹیکنالوجی سمیت مختلف شعبوں میں تعاون پر بات چیت کی جا رہی ہے۔

روسی حکام کے مطابق اقتصادی و انسانی تعاون فورم میں تقریباً چار ہزار روسی اور افریقی کاروباری شخصیات کو مدعو کیا گیا ہے، جبکہ پروگرام میں 40 سے زائد کاروباری اور موضوعاتی نشستیں شامل ہیں۔ ان نشستوں میں صنعتی ترقی، زراعت، معدنیات، مالیاتی خدمات، ٹیلی کمیونیکیشن، سیاحت، ادویہ سازی اور جدید ٹیکنالوجی کے شعبوں میں سرمایہ کاری اور مشترکہ منصوبوں کے امکانات کا جائزہ لیا جائے گا۔

فورم کے پروگرام کو چار بنیادی موضوعات میں تقسیم کیا گیا ہے، جن میں قومی خودمختاری اور پائیدار ترقی، خودمختار عالمی اقتصادی نظام، انسانی و سماجی تعاون اور انسانی وسائل کی ترقی، جبکہ معیار زندگی بہتر بنانے کے لیے ٹیکنالوجی اور جدت شامل ہیں۔

سربراہی اجلاس کے موقع پر صدر پوتن کی افریقی رہنماؤں کے ساتھ دوطرفہ ملاقاتیں بھی پروگرام کا حصہ ہیں۔ ان ملاقاتوں میں سیاسی و اقتصادی تعلقات، تجارت، سرمایہ کاری اور مختلف شعبوں میں تعاون کے معاملات زیر بحث آئیں گے۔

تیسرے روس افریقہ سربراہی اجلاس کی مرکزی نشستیں 29 اکتوبر کو گرینڈ کریملن پیلس میں منعقد ہوں گی، جہاں روسی صدر اور افریقی ممالک کے سربراہان عالمی سیاسی و اقتصادی صورتحال، بین الاقوامی سلامتی اور باہمی تعاون کے مستقبل پر تبادلہ خیال کریں گے۔

اجلاس کے اختتام پر روس افریقہ تعاون سے متعلق مشترکہ اعلامیے، مصنوعی ذہانت کے شعبے میں تعاون کی دستاویز اور 2027 سے 2029 تک شراکت داری کے عملی منصوبے کی منظوری متوقع ہے۔ اس کے علاوہ مختلف شعبوں میں 30 سے زائد بین الحکومتی اور بین الادارہ دستاویزات پر دستخط کا بھی پروگرام ہے۔

روس افریقہ سربراہی اجلاس پہلی مرتبہ 2019 میں روس کے شہر سوچی میں منعقد ہوا تھا، جبکہ دوسرا اجلاس جولائی 2023 میں سینٹ پیٹرزبرگ میں ہوا۔ ماسکو پہلی مرتبہ اس سربراہی اجلاس کی میزبانی کر رہا ہے، جس میں افریقی براعظم کے 54 میں سے 48 ممالک کے وفود شرکت کر رہے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں