ماسکو (وائس آف رشیا): پولینڈ کے دارالحکومت وارسا میں آئینی عدالت کے باہر اپوزیشن رہنماؤں کے احتجاج کے دوران صدر کارول ناوروٹسکی کو عدالت کی عمارت میں داخلے کے موقع پر مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا، جبکہ مقامی میڈیا کے مطابق پولیس نے صدارتی سکیورٹی اہلکاروں کو عمارت میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دی۔
پولینڈ کے صدارتی دفتر کے چیف آف اسٹاف پاویل شیفرناکر نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر بتایا کہ صدر کارول ناوروٹسکی صدارتی محل سے روانہ ہو کر آئینی عدالت پہنچے، جہاں اپوزیشن رہنماؤں کی شرکت سے احتجاج جاری تھا۔
انہوں نے تصدیق کی کہ صدر ناوروٹسکی، سپریم کورٹ کے فرسٹ پریزیڈنٹ زبگنیف کاپنسکی کے ہمراہ آئینی عدالت کی عمارت میں داخل ہوگئے۔
دوسری جانب پولینڈ کے ٹیلی ویژن چینل ٹیلی ویزیا ریپبلیکا نے رپورٹ کیا کہ پولیس نے صدر کے سکیورٹی عملے کو عدالت کی عمارت میں داخل ہونے سے روک دیا۔
رپورٹ کے مطابق آئینی عدالت کے نئے مقرر ہونے والے جج ماچیج بیریک کی جانب سے سوشل میڈیا پر جاری کی گئی ایک ویڈیو میں صدر ناوروٹسکی کو عمارت میں داخل ہونے سے روکنے کی کوشش کے مناظر سامنے آئے ہیں۔
پولینڈ کے صدارتی دفتر نے صدر کے عدالت کی عمارت میں داخل ہونے کی تصدیق کی ہے، تاہم فراہم کردہ اطلاعات میں احتجاج کے دوران کسی گرفتاری، جھڑپ یا زخمی ہونے کی تفصیلات سامنے نہیں آئیں۔









