برکس، شنگھائی تعاون تنظیم اور اقوام متحدہ میں مشترکہ کوششیں تیز کرنے پر روس اور ایران کا اتفاق

ماسکو: (وائس آف رشیا) روس اور ایران نے برکس، شنگھائی تعاون تنظیم، یوریشین اکنامک یونین اور اقوام متحدہ سمیت مختلف بین الاقوامی پلیٹ فارمز پر مشترکہ کوششیں تیز کرنے اور دوطرفہ اسٹریٹجک شراکت داری کو مزید مضبوط بنانے میں باہمی دلچسپی کا اعادہ کیا ہے۔

روسی وزارت خارجہ کے مطابق وزیر خارجہ سرگئی لاوروف کے دورہ تہران کے دوران دونوں ممالک نے سیاسی، اقتصادی، تجارتی اور سرمایہ کاری کے شعبوں میں تعاون کو وسعت دینے پر تبادلہ خیال کیا۔

دورے کے دوران روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے ایرانی صدر مسعود پزشکیان سے ملاقات کی، جبکہ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی اور ایران کی سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کے سیکریٹری محسن رضائی کے ساتھ بھی مذاکرات کیے۔

روسی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ دونوں ممالک نے اقوام متحدہ، برکس، شنگھائی تعاون تنظیم اور یوریشین اکنامک یونین کے پلیٹ فارمز پر مشترکہ سرگرمیوں اور تعاون کو مزید فعال بنانے میں باہمی دلچسپی ظاہر کی۔

بیان کے مطابق فریقین نے دونوں ممالک کے درمیان جاری سیاسی مکالمے، حکومتی اور مختلف شعبہ جاتی سطح پر قریبی تعاون کے ساتھ ساتھ پارلیمانوں، علاقائی اداروں اور کاروباری برادری کے درمیان روابط پر اطمینان کا اظہار کیا۔

مذاکرات میں دوطرفہ تجارت، اقتصادی تعلقات اور سرمایہ کاری میں اضافے کے امکانات کا بھی جائزہ لیا گیا۔ اس سلسلے میں مشترکہ ٹرانسپورٹ، لاجسٹکس اور توانائی کے منصوبوں پر عمل درآمد اور ان شعبوں میں تعاون کو مزید وسعت دینے کے امور پر خصوصی توجہ دی گئی۔

روسی وزارت خارجہ کے مطابق ملاقاتوں میں روسی صدر ولادیمیر پیوٹن اور ایرانی صدر مسعود پزشکیان کے درمیان حال ہی میں کرغزستان اور ترکمانستان میں منعقدہ تقریبات کے موقع پر طے پانے والے معاہدوں کی روشنی میں جامع اسٹریٹجک شراکت داری کو مضبوط بنانے پر بھی بات چیت ہوئی۔

بیان میں کہا گیا کہ دوطرفہ تعلقات سے متعلق تمام اہم امور پر روایتی طور پر تعمیری ماحول میں تبادلہ خیال کیا گیا اور سیاسی، اقتصادی اور خارجہ پالیسی کے شعبوں میں تعاون کو مزید آگے بڑھانے کے امکانات کا جائزہ لیا گیا۔

روسی وزارت خارجہ نے مزید کہا کہ سرگئی لاوروف کا دورہ تہران دونوں ممالک کے درمیان جاری بامقصد سیاسی مذاکرات کا تسلسل ہے، جس کے دوران روس اور ایران کے دوطرفہ تعلقات اور خارجہ پالیسی میں تعاون کو مزید فروغ دینے کے لیے عملی اقدامات کی نشاندہی کی گئی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں