دوحہ:(وائس آف رشیا) یمن کی انصاراللہ تحریک کے حوثیوں نے سعودی عرب میں آرامکو کی توانائی تنصیبات اور ریاض و دمام کے بین الاقوامی ہوائی اڈوں پر حملے کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔
حوثی فوجی ترجمان یحییٰ سریع کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں میں بیلسٹک و کروز میزائلوں اور ڈرونز کی مدد سے چار بڑے حملے کیے گئے۔
ان کا کہنا تھا کہ مشرقی سعودی عرب میں شدقم کے مقام پر سعودی آرامکو کے گیس پروسیسنگ پلانٹ اور تنجیب میں ایک تیل تنصیب کو نشانہ بنایا گیا، جس کے بعد وہاں آگ لگ گئی۔
یحییٰ سریع نے دعویٰ کیا کہ حوثیوں نے ریاض کے شاہ خالد بین الاقوامی ہوائی اڈے اور دمام کے شاہ فہد بین الاقوامی ہوائی اڈے پر بھی حملے کیے۔ ان کے مطابق دونوں ہوائی اڈوں پر فضائی آمدورفت معطل ہوئی، جبکہ ریاض ہوائی اڈہ مکمل طور پر بند کردیا گیا۔
حوثی ترجمان نے مزید دعویٰ کیا کہ راس العارہ اور السقیہ میں سعودی فوجی اہلکاروں کے مقامات کو چھ بیلسٹک میزائلوں سے نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں درجنوں افراد ہلاک یا زخمی ہوئے۔ ان دعوؤں کی سعودی حکام کی جانب سے فوری طور پر تصدیق نہیں کی گئی۔
یحییٰ سریع کے مطابق یہ کارروائیاں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران یمن پر سعودی قیادت میں اتحادی افواج کے 124 فضائی حملوں کے جواب میں کی گئیں۔
اس سے قبل سعودی قیادت میں قائم اتحاد کے ترجمان ترکی المالکی نے بتایا تھا کہ ایک نامعلوم میزائل ریاض کے بین الاقوامی ہوائی اڈے کے مسافر ٹرمینل سے ٹکرایا، جس کے نتیجے میں آگ لگ گئی۔
سعودی عرب کی جنرل اتھارٹی آف سول ایوی ایشن کے مطابق 10 اکتوبر کو ریاض ہوائی اڈے پر حوثی حملے میں 12 افراد ہلاک اور 309 زخمی ہوئے۔
حوثیوں نے بین الاقوامی فضائی کمپنیوں اور مسافروں سے سعودی ہوائی اڈے استعمال نہ کرنے کی اپیل کرتے ہوئے انہیں اپنے حملوں کا ہدف قرار دیا ہے۔









