امریکہ نے یوکرین کو 2 ارب 10 کروڑ ڈالر کے 500 پیٹریاٹ میزائل فروخت کرنے کی منظوری دے دی

ماسکو (وائس آف رشیا): امریکہ نے یوکرین کو فضائی دفاعی نظام پیٹریاٹ کے لیے 500 جدید PAC-3 میزائل اور متعلقہ فوجی سازوسامان فروخت کرنے کی منظوری دے دی ہے۔ اس دفاعی معاہدے کی مجموعی مالیت 2 ارب 10 کروڑ ڈالر بتائی گئی ہے، جبکہ امریکی حکام کے مطابق میزائلوں کی خریداری کے لیے امریکہ کے اپنے فنڈز استعمال نہیں کیے جائیں گے۔

امریکی محکمہ خارجہ اور پینٹاگون کے تحت کام کرنے والے ادارے ڈیفنس سکیورٹی کوآپریشن ایجنسی (DSCA) نے 31 اکتوبر کو اس فیصلے کا اعلان کیا۔

امریکی حکام کے مطابق مجوزہ معاہدے کے تحت یوکرین کو پیٹریاٹ فضائی دفاعی نظام کے لیے 500 PAC-3 میزائل فراہم کیے جائیں گے۔ اس کے علاوہ PAC-3 MSE میزائلوں کے خفیہ اور غیر خفیہ نوعیت کے اضافی پرزے، لاجسٹک سہولتیں اور متعلقہ تکنیکی معاونت بھی معاہدے کا حصہ ہوں گی۔

امریکی محکمہ خارجہ کے بیان کے مطابق اس معاہدے کے تمام اخراجات اتحادی اور شراکت دار ممالک برداشت کریں گے۔ یوکرین کو میزائلوں کی خریداری کے لیے کینیڈا، جرمنی اور ناروے کی جانب سے فراہم کردہ مالی وسائل کے ساتھ یورپی یونین کے قرض سے بھی مدد ملے گی۔

امریکی حکام نے واضح کیا کہ اس معاہدے میں امریکی حکومت کے فنڈز شامل نہیں ہیں۔

واشنگٹن کے مطابق مجوزہ دفاعی معاہدے کا مقصد یوکرین کی فضائی اور میزائل دفاعی صلاحیت کو مضبوط بنانا ہے تاکہ وہ موجودہ اور مستقبل کے فضائی خطرات کا زیادہ مؤثر انداز میں مقابلہ کر سکے۔

امریکی محکمہ خارجہ نے اپنے بیان میں کہا کہ یہ فروخت امریکی خارجہ پالیسی اور قومی سلامتی کے مقاصد کے مطابق ہے اور اس سے یورپ میں سیاسی و اقتصادی استحکام کے لیے اہم سمجھے جانے والے شراکت دار ملک کی سلامتی بہتر ہوگی۔

معاہدے کے تحت میزائل امریکی دفاعی کمپنی لاک ہیڈ مارٹن فراہم کرے گی، جو پینٹاگون کے اہم دفاعی ٹھیکیداروں میں شامل ہے۔

امریکی حکام کے مطابق اس معاہدے پر عمل درآمد کے لیے یوکرین میں امریکی حکومت یا دفاعی کمپنیوں کے اضافی نمائندے تعینات کرنے کی ضرورت نہیں ہوگی۔ واشنگٹن کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس فروخت سے امریکی دفاعی تیاریوں پر کوئی منفی اثر نہیں پڑے گا۔

امریکی انتظامیہ نے مجوزہ معاہدے سے متعلق کانگریس کو باضابطہ طور پر آگاہ کر دیا ہے۔ امریکی قانون سازوں کے پاس معاہدے کا جائزہ لینے اور ممکنہ طور پر اسے روکنے کے لیے 30 دن ہوں گے۔

کانگریس کی جائزہ مدت مکمل ہونے اور دیگر ضروری مراحل کے بعد معاہدے پر عمل درآمد آگے بڑھایا جا سکے گا۔ امریکی حکام نے میزائلوں کی یوکرین کو فراہمی کی حتمی تاریخ کا اعلان نہیں کیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں