بیجنگ: دوسری عالمی جنگ کی 80ویں سالگرہ پر شاندار فوجی پریڈ

بیجنگ (وائس آف رشیا) چین کے دارالحکومت بیجنگ میں دوسری عالمی جنگ کے خاتمے اور جاپانی عسکریت پسندی پر فتح کی 80ویں سالگرہ کے موقع پر ایک شاندار فوجی پریڈ کا انعقاد کیا گیا۔

روس کے صدر ولادیمیر پوتن نے اپنے سرکاری دورۂ چین کے دوران بیجنگ کے تیانانمین اسکوائر میں منعقدہ اس تاریخی پریڈ میں شرکت کی۔ اس تقریب میں دنیا بھر سے متعدد رہنما اور اعلیٰ سطحی غیر ملکی وفود شریک ہوئے۔

پریڈ سے قبل چین اور روس میں اس دن کو جاپان پر فتح اور دوسری عالمی جنگ کے خاتمے کی یادگار کے طور پر منایا گیا۔

پریڈ کے بعد صدر ولادیمیر پوتن دیگر عالمی رہنماؤں کے ہمراہ پیپلز گریٹ ہال میں منعقدہ ایک شاندار استقبالیہ تقریب میں شریک ہوئے۔

صدر پوتن نے پریڈ میں شریک سوویت فوجی ویٹرنز کے اہلِ خانہ کو خصوصی طور پر مبارکباد پیش کی۔ ان میں سوویت یونین کے عظیم فوجی کمانڈرز مارشل ژوکوف، روکوسوفسکی، واسیلوسکی اور چُوئیکوف کے خاندان کے افراد بھی شامل تھے۔

یہ پریڈ نہ صرف چین کی فوجی طاقت کا مظاہرہ تھی بلکہ روس اور چین کے درمیان تاریخی رشتوں اور دوسری عالمی جنگ میں مشترکہ قربانیوں کو بھی اجاگر کرتی ہے۔ اس موقع پر روسی صدر کی موجودگی دونوں ممالک کے بڑھتے ہوئے اسٹریٹجک تعلقات کی علامت قرار دی جا رہی ہے۔

روس میں دوسری جنگ عظیم کی فتح کی 80 ویں سالگرہ کا جشن دھوم دھام سے منایا گیا

ماسکو(شاہد گھمن سے) ماسکو میں دوسری جنگ عظیم میں نازی جرمنی کے خلاف فتح کی 80 ویں سالگرہ کا جشن دھوم دھام سے منایا گیا اس موقع پر روس کے دارالحکومت ماسکو میں ملک کی سب سے بڑی فوجی پریڈ منعقد ہوئی ۔ عوامی جمہوریہ چین کے صدر شی جن پنگ سمیت دنیا کے 20 سے زائد ممالک اور بین الاقوامی تنظیموں کے رہنماؤں نے اس پریڈ میں شرکت کی..

اس موقع پر صدر پوتن نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سوویت یونین نے کروڑوں جانوں کی قربانی دے کر پوری انسانیت کے لیے امن اور آزادی کا دفاع کیا۔ انہوں نے کہا، “ہم فتح کے لمحے کو ہمیشہ یاد رکھیں گے، اپنے آبا و اجداد کے ورثے کو زندہ رکھیں گے، اتحاد کے ساتھ کھڑے ہوں گے اور مقدس فتح کی عظمت کو ہمیشہ بلند رکھیں گے۔
صدر پوتن نے جنگ عظیم دوم میں چینی عوام کی بہادری کو سراہتے ہوئے کہا کہ چین نے انسانیت کے مشترکہ مستقبل کی تشکیل میں نمایاں کردار ادا کیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ ہم جنگ عظیم دوم کی تاریخ کو یاد رکھتے ہیں اور اس سے سبق حاصل کرتے ہیں۔ فتح مقدس ہے، تاریخ کو مسخ نہیں کیا جانا چاہیے، اور فاتحین کی توہین برداشت نہیں کی جائے گی۔ تاریخ اور انصاف ہمیشہ ہمارے ساتھ ہیں۔
صدر پوتن کے خطاب کے بعد عظیم الشان فوجی پریڈ کا آغاز ہوا، جس میں روس کا قومی ترانہ بجایا گیا اور توپوں کی سلامی دی گئی۔ مسلح افواج کے دستے منظم انداز میں ریڈ اسکوائر سے مارچ کرتے ہوئے گزرے۔

پریڈ کے تاریخی حصے میں روسی فوجی سویت دور کی وردیوں میں ملبوس تھے، اور اس دور کے فوجی جھنڈے اور اسلحہ اٹھائے ہوئے تھے، جو فاشزم کے خلاف مزاحمت کے یادگار مناظر کو تازہ کر رہے تھے۔

جدید حصے میں روس کی مختلف فوجی شاخوں اور جدید ہتھیاروں کے دستوں نے مارچ کیا، جبکہ روسی فضائیہ کے طیاروں نے فضاؤں میں شاندار فلائی پاسٹ پیش کیا۔

ریڈ اسکوائر پر مارچ کرنے والے کالم میں 55 پریڈ یونٹس شامل تھے: ساڑھے گیارہ ہزار سے زیادہ فوجی، جن میں سے ڈیڑھ ہزار سے زیادہ خصوصی فوجی آپریشن میں شریک تھے۔ وکٹری پریڈ میں آذربائیجان، بیلاروس، قازقستان، کرغزستان، تاجکستان، ترکمانستان، ازبکستان، ویت نام، مصر، چین، لاؤس، منگولیا اور میانمار کے فوجی جوانوں نے بھی شرکت کی۔جبکہ بکتر بند گاڑیاں، جدید ٹیکنالوجی سے آراستہ فوجی سازوسامان کے ساتھ ساتھ جدید میزائل سسٹم بھی خصوصی پریڈ میں شریک ہوئے۔۔

تقریبات کے اختتام پر صدرپوتن، چینی صدر شی جن پنگ اوردیگر عالمی رہنماؤں کے ہمراہ ریڈ اسکوائر سے الیگزینڈر گارڈن کی جانب روانہ ہوئے، جہاں انہوں نے “گمنام سپاہی کی قبر” پر پھول چڑھائے اور خاموشی اختیار کر کے شہداء کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔

ٹرمپ کی نئی سفری پابندیاں، 80ہزار سے زیادہ بین الاقوامی طلباء متاثر ہوں گے

واشنگٹن (وائس آف‌رشیا) ٹرمپ 2025 کے لیے سفری پابندیاں عائد کر رہے ہیں 80,000 سے زیادہ بین الاقوامی طلباء متاثر ہوں گے.

امریکی حکام کی طرف سے دی نیو یارک ٹائمز اور رائٹرز کو اطلاع کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ سفری پابندیوں سے متعلق ایک بل کو حتمی شکل دے رہی ہے جو کچھ مخصوص ممالک کے شہریوں کو امریکہ میں داخل ہونے سے روک دے گی۔

ٹرمپ نے اپنی انتظامیہ کو حکم دیا کہ وہ امریکہ میں داخلے کے لیے جانچ اور اسکریننگ کے معیارات اور طریقہ کار قائم کریں اور ان ممالک کی فہرست پیش کریں جو ان معیارات پر پورا نہیں اترتے، یہ کام 21 مارچ تک مکمل ہونا چاہیے۔ انہوں نے حکام کو یہ بھی ہدایت دی کہ وہ ان ممالک کے شہریوں کی نشاندہی کریں اور ممکنہ طور پر انہیں ملک بدر کریں جو بائیڈن انتظامیہ کے دوران امریکہ میں داخل ہوئے۔

یہ حکم ایک انتخابی وعدے اور ٹرمپ کے عہدہ سنبھالنے کے پہلے دن کی ایک مہم کا حصہ ہے۔جس کا عنوان “امریکہ کو غیر ملکی دہشت گردوں اور دیگر خطرات سے بچانا” ہے اور اس کا مقصد “قومی سلامتی اور عوامی تحفظ کے خطرات” سے نمٹنا ہے۔

اس حکم نامے میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ یہ عمل امریکی شہریوں کو ان “غیر ملکیوں سے بچائے گا جو دہشت گرد حملے کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں، ہماری قومی سلامتی کو خطرہ پہنچاتے ہیں، نفرت انگیز نظریات کی حمایت کرتے ہیں، یا امیگریشن قوانین کا غلط استعمال کرتے ہیں۔”

ایک رپورٹ کے مطابق، 40 سے زائد ممالک کی فہرست زیر غور ہے جن کے شہریوں کو امریکہ میں داخلے سے روکا یا محدود کیا جا سکتا ہے۔

رائٹرز کے مطابق، درج ذیل “ریڈ لسٹ” ممالک سفری پابندی کی فہرست میں شامل ہو سکتے ہیں: سوڈان، وینزویلا، صومالیہ، شام، یمن، ایران، لیبیا، کیوبا، شمالی کوریا، پاکستان اور افغانستان۔

کالجز نے بین الاقوامی طلباء کو ٹرمپ انتظامیہ کے امیگریشن احکامات کے جواب میں بیرون ملک سفر کرنے سے منع کیا ہے۔ ماہرین ان احکامات کو “غیر معمولی” قرار دے رہے ہیں، اور کئی اعلیٰ تعلیمی اداروں نے بین الاقوامی طلباء کو امریکی سرحدیں نہ چھوڑنے کی تاکید کی ہے۔ ملک چھوڑنے کی صورت میں انہیں ملک بدری کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، جیسا کہ کچھ طلباء اور عملے کے ساتھ پہلے ہی ہو چکا ہے۔

16 مارچ کو، براؤن یونیورسٹی نے ایک ای میل کے ذریعے فیکلٹی، طلباء اور دیگر کمیونٹی ممبران کو مشورہ دیا کہ وہ 22 سے 30 مارچ تک ہونےو الی موسمِ بہار کی چھٹیوں کے دوران ذاتی بین الاقوامی سفر ملتوی کریں۔ کولمبیا یونیورسٹی اور کارنیل یونیورسٹی نے بھی اپنی ویب سائٹ پر اسی طرح کی ہدایات جاری کیں۔ گزشتہ سال کے آخر میں، کئی اداروں نے بین الاقوامی طلباء کو مشورہ دیا کہ وہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے عہدہ سنبھالنے سے پہلے امریکہ واپس آ جائیں۔

یہ خبریں ایک کروڑ 12 لاکھ سے زائد بین الاقوامی طلباء میں تشویش پیدا کر رہی ہیں جو اس بات سے خوفزدہ ہیں کہ انہیں ان کی قومیت کی بنیاد پر نشانہ بنایا جائے گا۔ ویزا کھونے کی صورت میں، وہ اپنی محنت سے حاصل کی گئی ڈگریوں سے بھی محروم ہو سکتے ہیں۔ متبادل طور پر، انہیں اپنے سفر کے حق سے دستبردار ہونا پڑ سکتا ہے، جس کا مطلب یہ ہے کہ وہ اپنے خاندان سے ملنے یا ذاتی یا اسکول سے متعلق سفر پر نہیں جا سکیں گے۔

2022-23 کے تعلیمی سال میں، ٹیکساس میں 80,757 بین الاقوامی طلباء تھے۔ ٹیکساس نے ریاستوں میں کیلیفورنیا (138,393) اور نیویارک (126,782) کے بعد تیسری سب سے زیادہ تعداد کا دعویٰ کیا۔

ٹیکساس کی دس سب سے بڑی یونیورسٹیوں میں بین الاقوامی طلباء کے اعداد و شمار کچھ یوں ہیں

· ٹیکساس اے اینڈ ایم یونیورسٹی-کالج اسٹیشن: + 6,000 (2024)

· یونیورسٹی آف ٹیکساس ایٹ آسٹن: 4,173 (2020)

· یونیورسٹی آف ہیوسٹن:+ 4,500 (2023)

· یونیورسٹی آف نارتھ ٹیکساس: 11,917 (2023)

· یونیورسٹی آف ٹیکساس ایٹ آرلنگٹن: 6,325 (2022)

· ٹیکساس ٹیک یونیورسٹی: 2,096 (2020)

· ٹیکساس اسٹیٹ یونیورسٹی : 1,500+ (2024)

· یونیورسٹی آف ٹیکساس ایٹ سان انتونیو: 21,109 (2022)

· یونیورسٹی آف ٹیکساس ایٹ ڈلاس: 10,491 (2023)

· یونیورسٹی آف ٹیکساس ریو گرانڈے ویلی:+ 700 (2018)

پاکستان میں موجود تقریباً 80 ہزار افغان مہاجرین بیرون ملک آباد، 40 ہزار باقی: دفترِ خارجہ

اسلام آباد( وائس آف رشیا) دفترِ خارجہ کے ترجمان شفقت علی خان نے کہا کہ رواں ہفتے پاکستان میں موجود تقریباً 80,000 افغان باشندوں کو بیرونِ ملک مختلف ممالک میں آباد کیا گیا جب کہ مزید 40,000 بدستور پاکستان میں موجود ہیں۔

کابل سے 2021 میں امریکی فوجیوں کے انخلاء سے دو عشروں پر محیط جنگ کا خاتمہ ہوا لیکن ایک نیا خروج شروع ہو گیا کیونکہ افغان باشندے طالبان حکومت کی پابندیوں اور واشنگٹن اور اس کے اتحادیوں کے ساتھ کام کرنے پر انتقامی کارروائی کے خوف سے ملک چھوڑ دینا چاہتے تھے۔ ہزاروں افغان جنہوں نے امریکہ اور یورپی ممالک میں آبادکاری کے لیے درخواستیں دی ہوئی تھیں، وہ ہمسایہ ملک پاکستان میں داخل ہو گئے جہاں وہ ہزاروں کی تعداد میں بدستور قانونی شکنجے میں پھنسے ہوئے ہیں۔

غیر منافع بخش #AfghanEvac کے مطابق ٹرمپ نے گذشتہ ہفتے پناہ گزینوں کے ویزا کی کارروائی کو کم از کم 90 دنوں کے لیے روک دینے کا جو فیصلہ کیا ہے، وہ اس سلسلے میں تازہ ترین دھچکا ہے۔ اس تعطل سے امریکہ میں داخلے کے لیے منظور شدہ 10,000 افغان باشندوں کے لیے ایک نئی زندگی شروع کرنے کا موقع تاخیر کا شکار ہو گیا ہے۔ امریکہ میں قائم تنظیم نے کہا کہ زیرِ عمل دسیوں ہزار مزید درخواستیں بھی منجمد کر دی گئی ہیں۔

پاکستان میں موجود افغان شہری جو بیرون ملک آبادکاری کے منتظر ہیں، ان کی تعداد سے متعلق ایک سوال کے جواب میں ترجمان شفقت علی خان نے کہا، “میں آپ کو ایک وسیع تعداد بتا سکتا ہوں۔ تقریباً 80,000 کو مختلف ممالک اپنے ہاں دوبارہ آبادکاری کے لیے لے گئے ہیں اور تقریباً 40,000 اب بھی پاکستان میں ہیں۔”

ٹرمپ کے حکم نامے میں کہا گیا، “امریکہ کے پاس بڑی تعداد میں تارکینِ وطن اور خاص طور پر مہاجرین کو جذب کرنے کی صلاحیت کا فقدان ہے” اور اس نے نقلِ مکانی سکیم روک دی ہے جب تک کہ یہ “امریکہ کے مفادات سے ہم آہنگ نہ ہو جائے۔”

لیکن مہم کاروں کا خیال ہے کہ ملک پر افغانوں کا قرض واجب الادا ہے جو امریکی انخلاء کے باعث مصیبت میں پھنسے رہ گئے تھے جس کا ٹرمپ نے اپنی پہلی مدتِ صدارت میں وعدہ کیا تھا لیکن اس کی نگرانی ان کے جانشین صدر جو بائیڈن نے کی تھی۔

ان افغانوں کے لیے ایک خصوصی ویزا پروگرام بدستور فعال ہے جو امریکہ یا امریکہ کی طرف سے ملازم تھے۔

لیکن زیادہ وسیع پیمانے پر پناہ گزین سکیم کا انحصار ان درخواست دہندگان پر تھا جن میں سابق افغان فوجیوں اور امریکی حمایت یافتہ حکومت کے ملازمین کے ساتھ ساتھ ان کے افرادِ خانہ شامل ہیں۔

کابل میں امریکہ کا سفارت خانہ بند ہو جانے کے بعد کئی لوگوں نے کاغذی کارروائی کرنے، انٹرویو لینے اور جانچ پڑتال کے لیے ہمسایہ ملک پاکستان کا سفر کیا۔

خان نے پاکستان کی طرف سے امید ظاہر کی کہ امریکہ اپنا پناہ گزین پروگرام دوبارہ شروع کرے گا تاکہ بقیہ افغان مہاجرین “امریکی حکومت کے وعدوں کے مطابق” دوبارہ آباد ہو سکیں۔ انہوں نے یہ امید بھی ظاہر کی کہ امریکہ غیر ملکی ترقیاتی امدادی پروگرام دوبارہ شروع کر دے گا جنہیں ٹرمپ نے ایک صدارتی حکم نامے کے ذریعے کم از کم 90 دنوں کے لیے معطل کر دیا ہے۔

اسلام آباد نے 2023 میں ملک میں غیر قانونی طور پر مقیم غیر دستاویزی افغانوں کو بے دخل کرنے کے لیے ایک وسیع مہم کا اعلان کیا تھا جس میں انہیں ملک چھوڑنے یا گرفتاری کا سامنا کرنے کا حکم دیا گیا کیونکہ طالبان حکومت کے ساتھ تعلقات خراب ہو گئے تھے۔

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق نومبر 2023 کے بعد سے کم از کم 800,000 افغان پاکستان چھوڑ چکے ہیں۔

لیکن منتقلی کے منتظر افغانوں نے پاکستانی حکام کی طرف سے وسیع پیمانے پر ہراسگی کی اطلاع دی ہے جبکہ وہ اس الزام سے انکار کرتے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں