یورپی یونین کی جنگ بندی کی اپیلوں کا مقصد یوکرین جنگ کو طول دینا ہے، روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف

منسک (شاہد گھمن): روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے یورپی یونین کی جانب سے یوکرین میں فوری جنگ بندی کے مطالبات پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ برسلز کی جنگ بندی اور عارضی معاہدوں کی اپیلوں کا اصل مقصد امن قائم کرنا نہیں بلکہ یوکرین میں جاری جنگ کو طول دینا ہے۔

بیلاروس کے دارالحکومت منسک میں چوتھی بین الاقوامی یوریشین سکیورٹی کانفرنس کے اعلیٰ سطحی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے سرگئی لاوروف نے کہا کہ دنیا میں ایک نئے عالمی نظام کی تشکیل کے اصول طے کرنے کے لیے سنجیدہ کشمکش جاری ہے اور اس کا سب سے نمایاں اظہار یوریشیائی خطے میں ہو رہا ہے۔

نئی عالمی ترتیب میں تمام ممالک کو مساوی حقوق ملنے چاہئیں

روسی وزیر خارجہ نے کہا کہ دنیا کے بیشتر ممالک کو ایک ایسے نئے عالمی نظام کی ضرورت ہے جو تمام خودمختار ریاستوں کے درمیان حقیقی مساوات کو یقینی بنائے۔

ان کے مطابق ریاستوں کی برابری اور خودمختاری کا احترام تمام اقوام کی محفوظ اور پائیدار ترقی کے لیے بنیادی شرط ہے۔

لاوروف نے کہا کہ اس وقت عالمی سطح پر یہ طے کرنے کی جدوجہد جاری ہے کہ مستقبل کے بین الاقوامی نظام کے بنیادی اصول کون وضع کرے گا۔

یورپی یونین کی جنگ بندی کی تجاویز پر تنقید

سرگئی لاوروف نے الزام عائد کیا کہ یورپی یونین یوکرین کے بحران کو روس کے خلاف سیاسی محاذ آرائی کے لیے استعمال کر رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ برسلز کی جانب سے فوری جنگ بندی، توانائی، خوراک، فضائی اور سمندری شعبوں میں عارضی جنگ بندی کے مطالبات بظاہر امن کے لیے پیش کیے جاتے ہیں، لیکن روس کے نزدیک ان کا مقصد تنازع کا حقیقی حل تلاش کرنا نہیں۔

روسی وزیر خارجہ نے برطانیہ اور فرانس کی ان تجاویز پر بھی تنقید کی جن میں موجودہ محاذی پوزیشنوں پر لڑائی روکنے، یوکرین کی تعمیر نو اور بین الاقوامی استحکام فورسز کی تعیناتی کی بات کی گئی ہے۔

لاوروف نے الزام عائد کیا کہ لندن اور پیرس تنازع ختم کرنے کے بجائے کیف کی موجودہ حکومت کو مزید مضبوط بنانا چاہتے ہیں۔ انہوں نے یوکرینی حکومت کو نازی نظریات سے منسلک قرار دیتے ہوئے سوال اٹھایا کہ مجوزہ بین الاقوامی فورسز آخر کس چیز کو مستحکم کرنے کے لیے تعینات کی جائیں گی۔

یورپی یونین جارحانہ فوجی بلاک بن رہی ہے

روسی وزیر خارجہ نے کہا کہ یورپی یونین تیزی سے اپنی اصل اقتصادی اور سماجی انضمام کی حیثیت سے ہٹ کر ایک جارحانہ فوجی اتحاد کی شکل اختیار کر رہی ہے، جس کی پالیسیوں کا رخ روس اور بیلاروس کے خلاف ہے۔

ان کے مطابق مغربی ممالک یورپ میں ایک ایسا سکیورٹی نظام قائم کرنا چاہتے ہیں جو روس، بیلاروس اور ان تمام ممالک کے خلاف ہو جو نیٹو اور یورپی یونین کی پالیسیوں کی غیر مشروط پیروی کرنے سے انکار کرتے ہیں۔

لاوروف نے الزام عائد کیا کہ مغربی ممالک یورپ میں سلامتی اور تعاون کی تنظیم، او ایس سی ای، کو بھی اپنے سیاسی اور فوجی مفادات کے لیے استعمال کرنے کی کوشش کرتے رہے ہیں۔

مغرب کے ساتھ مذاکرات کے دروازے بند نہیں کیے، لاوروف

روسی وزیر خارجہ نے کہا کہ روس مغربی ممالک کے ساتھ مذاکرات کے لیے تیار ہے، بشرطیکہ وہ اپنی معاندانہ پالیسیوں سے دستبردار ہوں اور باہمی مفادات کے منصفانہ توازن کے لیے عملی آمادگی ظاہر کریں۔

انہوں نے کہا کہ روس نے یوریشیا میں مشترکہ سلامتی کا نظام تشکیل دینے کی تجاویز پیش کرتے وقت یورپ کے مغربی حصے کے لیے کبھی دروازے بند نہیں کیے۔

تاہم لاوروف نے واضح کیا کہ روس کسی ملک پر مذاکرات مسلط نہیں کرے گا اور نہ ہی بات چیت کے لیے کسی کے پیچھے جائے گا۔

ان کے مطابق روس ایسے تمام ممالک کے ساتھ تعاون کے لیے تیار ہے جو مساوی بنیادوں پر مذاکرات اور مشترکہ سلامتی کے قیام میں حقیقی دلچسپی رکھتے ہوں۔

جاپان کی فوجی صلاحیتوں میں اضافے پر تشویش

سرگئی لاوروف نے جاپان کی دفاعی پالیسیوں پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ٹوکیو تیزی سے اپنی فوجی صلاحیتوں میں اضافہ کر رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ جاپان کی سیاسی قیادت وزیراعظم سانائے تاکائچی کی حکومت میں ملک کے تین غیر جوہری اصولوں کو ترک کرنے کے امکانات پر بھی گفتگو کر رہی ہے۔

روسی وزیر خارجہ نے کہا کہ جاپان کو ہیروشیما اور ناگاساکی پر امریکی ایٹمی حملوں سے ملنے والے تاریخی اسباق کو فراموش نہیں کرنا چاہیے۔

او ایس سی ای کو بنیادی اصلاحات کی ضرورت ہے

روسی وزیر خارجہ نے یورپ میں سلامتی اور تعاون کی تنظیم، او ایس سی ای، کی موجودہ صورتحال کو انتہائی مشکل قرار دیتے ہوئے کہا کہ مغربی ممالک کی محاذ آرائی پر مبنی پالیسیوں اور بلاک سیاست نے اس تنظیم کی مؤثریت کو شدید متاثر کیا ہے۔

لاوروف نے او ایس سی ای کے سیکریٹری جنرل فریدون سنیرلی اوغلو کے لیے احترام کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ حالات میں یہ واضح نہیں کہ تنظیم یوریشیا کے مشترکہ سلامتی کے نظام میں کیا کردار ادا کر سکتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ او ایس سی ای کو اپنی بقا اور مستقبل میں مؤثر کردار برقرار رکھنے کے لیے بنیادی اور وسیع اصلاحات کی ضرورت ہوگی۔

روسی وزیر خارجہ نے اس بات پر زور دیا کہ عالمی سلامتی کے مستقبل کا نظام محاذ آرائی اور فوجی بلاکوں کے بجائے ریاستوں کی خودمختاری، مساوات اور باہمی مفادات کے احترام پر قائم ہونا چاہیے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں