فرانس میں مہنگائی کے خلاف پرتشدد احتجاج، مظاہرین کی لوٹ مار، دو ہزار افراد گرفتار

پیرس: (وائس آف رشیا)

فرانس میں مہنگائی کے خلاف پرتشدد احتجاج دوسرے روز بھی جاری رہا جہاں مظاہرین نے دکانوں میں لوٹ مار کی جبکہ پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے دو ہزار افراد کو گرفتار کر لیا۔

غیر ملکی خبر ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق پیرس میں انتظامیہ ایک روز قبل احتجاج کے دوران جلائی گئی گاڑیوں، توڑی گئی دکانوں کے شیشوں اور جلے ہوئے ملبے کی صفائی کر رہی تھی کہ دوبارہ مظاہرے شروع ہو گئے اور سیاسی الزام تراشی کا سلسلہ بھی چل پڑا۔

رپورٹس میں بتایا گیا کہ سوشل میڈیا پر اجتماع کی کالز کے بعد دارالحکومت کے ری پبلک چوک میں سیکڑوں مظاہرین جمع ہوئے جنہوں نے حکومت سے اجازت نہیں لی تھی، دوسری جانب ٹی وی فوٹیج میں کپڑوں کی دکان میں لوٹ مار دکھائی گئی اور قریب ہی سائیکلوں کو بھی آگ لگا دی گئی۔

پیرس پولیس پریفیکچر کے مطابق کشیدگی کے خدشات سامنے آتے ہی سیکیورٹی فورسز حرکت میں آ گئیں اور چوک میں جمع سینکڑوں افراد پر آنسو گیس اور اسٹن گرینیڈ فائر کیے جبکہ مظاہرین نے پولیس پر بوتلیں اور پتھر پھینکے، جس پر پولیس نے متعدد گرفتاریاں کیں۔

لیگل ٹیم پیرس نے بتایا کہ ہفتے کو ہوئے مظاہروں کے سلسلے میں پیرس میں گرفتار کیے گئے 855 افراد میں سے تقریباً 550 تاحال زیر حراست ہیں جبکہ پولیس اسٹیشنز کو صورت حال سے نمٹنے میں شدید دشواری کا سامنا ہے۔

فرانس کے صدر ایمانوئیل میکرون نے سخت بیان دیتے ہوئے مظاہرین کو خبردار کیا تھا کہ جو کوئی توڑ پھوڑ اور لوٹ مار میں ملوث ہوا اسے قانون کے کٹہرے میں کھڑا کیا جائے گا۔

دوسری جانب اپوزیشن اور صدارتی انتخاب میں میکرون کی حریف نیشنل ریلی پارٹی کی امیدوار میرین لی پین نے کہا کہ ناگفتہ بہ حالات سے ظاہر ہوتا ہے کہ میکرون کی انتظامیہ شعلوں پر چل رہی ہے، پریشان ہے اور اپنی سمت کھو چکی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہم اعتماد اور اقتدار کے ایک گہرے بحران سے گزر رہے ہیں، جو جمہوریت کے لیے خطرہ ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں