ماسکو: (وائس آف رشیا) روسی صدر ولادیمیر پوتن اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان ہونے والی ٹیلی فونک گفتگو ڈیڑھ گھنٹے تک جاری رہی، جسے کریملن نے تفصیلی، بامقصد اور دوستانہ قرار دیا ہے۔
روسی صدر کے معاون یوری اوشاکوف نے صحافیوں کو بتایا کہ صدر ٹرمپ نے گفتگو کے آغاز میں صدر پوتن کو ان کی سالگرہ پر گرمجوشی سے مبارک باد دی اور ان کے لیے کامیابی اور خوش حالی کی خواہشات کا اظہار کیا۔ امریکی صدر نے اپنی اہلیہ میلانیا ٹرمپ کی جانب سے بھی نیک تمنائیں پہنچائیں۔
یوری اوشاکوف کے مطابق دونوں رہنماؤں کے درمیان گفتگو اتنی طویل اور دوستانہ تھی کہ کوئی بھی پہلے فون بند نہیں کرنا چاہتا تھا۔ صدر ٹرمپ نے کہا کہ وہ صدر پوتن کے ساتھ آج، شام، رات اور اگلے روز بھی بات چیت جاری رکھنے کے لیے تیار ہیں۔
دونوں صدور نے صدارتی انتظامیہ، انٹیلی جنس اداروں اور دیگر متعلقہ محکموں کے ذریعے روس اور امریکا کے درمیان رابطوں کے تسلسل پر اطمینان کا اظہار کیا۔
صدر پوتن نے صدر ٹرمپ کو بتایا کہ خصوصی فوجی آپریشن کے مقاصد سے متعلق روس کا مؤقف تبدیل نہیں ہوا۔ تاہم ماسکو دیرپا اور پائیدار امن کے حصول کے لیے سیاسی اور سفارتی تصفیے پر اب بھی تیار ہے۔
یوری اوشاکوف کے مطابق روس، امریکا اور یوکرین کے سہ فریقی مذاکرات روسی پارلیمانی انتخابات کے بعد دوبارہ شروع کرنے کا امکان زیر غور تھا، لیکن انتخابات کے دوران مبینہ یوکرینی حملوں نے فوری طور پر مذاکرات کی بحالی کے امکانات کو متاثر کیا۔ اب روس حالات کا جائزہ لینے کے بعد فیصلہ کرے گا کہ مذاکرات کب دوبارہ شروع کیے جاسکتے ہیں۔
صدر پوتن نے یوکرینی حملوں کے جواب میں روس کی جانب سے کیے جانے والے اقدامات سے بھی امریکی صدر کو تفصیلی طور پر آگاہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ کیف نے کشیدگی بڑھانے اور تنازع کو طول دینے کا راستہ اختیار کیا ہے۔
روسی صدر نے کہا کہ رابطہ لائن پر روسی افواج کو مکمل عملی برتری حاصل ہے اور وہ اعتماد کے ساتھ آگے بڑھ رہی ہیں۔ روسی علاقوں کے اندر حملے کرکے پیش قدمی روکنے کی یوکرینی کوششیں کامیاب نہیں ہوں گی۔
دونوں رہنماؤں نے آئندہ بالمشافہ ملاقات کی کوئی حتمی تاریخ طے نہیں کی۔ یوری اوشاکوف کے مطابق صدر پوتن اور صدر ٹرمپ چین میں ہونے والے ایشیا بحرالکاہل اقتصادی تعاون، ایپک، کے سربراہی اجلاس میں شرکت کا ارادہ رکھتے ہیں۔ اگر دونوں رہنما اجلاس میں موجود ہوئے تو ان کے درمیان ملاقات کا امکان ہے۔
صدر پوتن اور صدر ٹرمپ نے بڑے اقتصادی منصوبوں کی تیاری پر بھی گفتگو کی، جن میں روسی پٹرولیم مصنوعات کی امریکی اور عالمی منڈیوں کو ممکنہ فراہمی شامل ہے۔
صدر پوتن نے روس اور یوکرین کے بچوں کو ان کے خاندانوں سے دوبارہ ملانے میں کردار ادا کرنے پر امریکی خاتون اول میلانیا ٹرمپ کا شکریہ ادا کیا۔ خیرسون ریجن کے شہر الیوشکی کی انسانی صورتِ حال کے حوالے سے روسی انسانی حقوق کمشنر یانا لانتراٹووا اور میلانیا ٹرمپ کے عملے کے درمیان مستقل رابطہ برقرار رکھنے پر بھی اتفاق ہوا۔
ایران کی صورتِ حال پر صدر پوتن نے کہا کہ سفارتی امکانات ابھی ختم نہیں ہوئے اور تہران کے ساتھ مذاکرات کے ذریعے معاہدہ کیا جاسکتا ہے۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ ایران کا افزودہ یورینیم روس منتقل کرنے کی ماسکو کی پیشکش اب بھی برقرار ہے۔
یوری اوشاکوف نے مزید بتایا کہ امریکی صدر کے خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر نے بھی صدر پوتن کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا اور وٹکوف نے روسی صدر سے جلد ملاقات کی امید ظاہر کی۔









