وزیراعظم میشوسٹن ڈیجیٹل سلوشنز فورم سے خطاب

حساس شعبوں میں صرف روسی مصنوعی ذہانت کے ماڈلز استعمال کرنے کا فیصلہ حکومت کرے گی، میشوسٹن

ماسکو:(شاہد گھمن) روسی وزیراعظم میخائل میشوسٹن نے کہا ہے کہ حکومت اس بات کا تعین کرے گی کہ ملک کے حساس شعبوں اور اہم بنیادی ڈھانچے میں صرف خودمختار یا روس میں تیار کردہ بنیادی مصنوعی ذہانت کے ماڈلز کب استعمال کیے جائیں گے۔

ماسکو میں نیشنل سینٹر ’’رشیا‘‘ میں منعقدہ ’’ڈیجیٹل سلوشنز‘‘ فورم سے خطاب کرتے ہوئے روسی وزیراعظم نے وزارتِ ڈیجیٹل ترقی، مواصلات اور ذرائع ابلاغ کو سرکاری خدمات کے پورٹل ’’گوس اسلوگی‘‘ پر شہریوں کے اکاؤنٹس کا تحفظ مزید مضبوط بنانے کی ہدایت بھی کی۔

میشوسٹن نے کہا کہ گوس اسلوگی پورٹل کو اس وقت 12 کروڑ افراد استعمال کررہے ہیں، اس لیے صارفین کا ذاتی ڈیٹا محفوظ رکھنا انتہائی ضروری ہے۔ انہوں نے وزارتِ ڈیجیٹل ترقی کو پلیٹ فارم تک رسائی اور اکاؤنٹس کی بحالی کے لیے اضافی حفاظتی تقاضے تیار کرنے کی ہدایت دی۔

روسی وزیراعظم کے مطابق قانون سازی میں کی گئی ترامیم کے بعد 2026 کے ابتدائی آٹھ ماہ کے دوران سائبر جرائم کی تعداد میں تقریباً ایک تہائی کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔

انہوں نے سرکاری ویب سائٹس میں سکیورٹی خامیاں تلاش کرنے والے آزاد ماہرین کو انعام دینے کا پروگرام مزید وسیع کرنے پر بھی زور دیا۔ ان کے مطابق گوس اسلوگی پورٹل میں کسی حفاظتی کمزوری کی نشاندہی پر دس لاکھ روبل تک انعام دیا جاتا ہے، جبکہ ہزاروں آزاد ماہرین سرکاری انفارمیشن سسٹمز کی سکیورٹی جانچنے کے پروگرام میں حصہ لے رہے ہیں۔

میشوسٹن نے بتایا کہ صدر پوتن کی ہدایت پر روسی حکومت خودمختار نظاموں اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کی ترقی کے لیے حکمت عملی تیار کررہی ہے۔ اس اقدام کا مقصد اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ کسی ایک کلاؤڈ سروس یا سافٹ ویئر کے ناکام ہونے سے صنعتی پیداوار اور ضروری عوامی خدمات بڑے پیمانے پر متاثر نہ ہوں۔

روسی وزیراعظم کے مطابق ملک میں ڈیجیٹل کمپنیوں کا مجموعی کاروبار ایک سال کے دوران تقریباً 20 فیصد اضافے کے بعد 21 ٹریلین روبل سے تجاوز کرگیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ڈیجیٹل شعبہ روسی قومی معیشت کا اہم حصہ بن چکا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ 2026 کی پہلی ششماہی میں روسی سافٹ ویئر مصنوعات کی فروخت تقریباً تین ٹریلین روبل تک پہنچ گئی، جو گزشتہ سال کی اسی مدت کے مقابلے میں تقریباً ایک تہائی زیادہ ہے۔

میشوسٹن کے مطابق تقریباً 20 ہزار آئی ٹی کمپنیوں نے اپنی ایکریڈیشن کی تصدیق کرکے حکومت کی جانب سے فراہم کی جانے والی مراعات حاصل کی ہیں۔ ریاست کی جانب سے اس شعبے پر خرچ کیے جانے والے ہر ایک روبل کے بدلے تقریباً ڈھائی روبل قومی بجٹ میں واپس آرہے ہیں۔

روسی وزیراعظم نے کہا کہ حکومت بھاری اور بنیادی صنعتوں کے لیے انفارمیشن ٹیکنالوجی کے منصوبوں اور روسی مصنوعی ذہانت پر مبنی حل کی ترقی کی حمایت کرے گی۔ ایسے اہم منصوبوں کے اخراجات کا بڑا حصہ سرکاری بجٹ سے فراہم کیا جاسکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ روسی کمپنیوں کو ملکی ٹیکنالوجی کی جانب تیزی سے منتقل ہونا چاہیے۔ عام حالات میں کمپنیوں کو اپنی ضرورت کے مطابق ٹیکنالوجی منتخب کرنے کی آزادی ہوگی، تاہم اہم بنیادی ڈھانچے اور حساس شعبوں میں حکومت طے کرے گی کہ صرف روس کے خودمختار مصنوعی ذہانت کے ماڈلز کب استعمال کیے جائیں۔

میشوسٹن نے خبردار کیا کہ مصنوعی ذہانت میں عالمی برتری حاصل کرنے کی کوشش کرنے والے ممالک دوسرے ملکوں کو اپنی ٹیکنالوجی کا محتاج بنانا چاہتے ہیں۔ روس اپنے لیے ایسی صورت حال کی اجازت نہیں دے سکتا، اس لیے ملکی ٹیکنالوجی کی ترقی قومی مسابقت اور ڈیجیٹل خودمختاری کا اہم معاملہ ہے۔

انہوں نے مصنوعی ذہانت سے چلنے والے ایجنٹس کے اختیارات اور ذمہ داریوں کی واضح حدود مقرر کرنے کے لیے حکومت اور کاروباری اداروں کے درمیان تعاون کی ضرورت پر بھی زور دیا تاکہ ڈیجیٹل نظام قابل پیش گوئی انداز میں کام کریں اور ان میں خلل پیدا نہ ہو۔

روسی وزیراعظم نے بتایا کہ روسی آن لائن سینما گھروں، میوزک اسٹریمنگ سروسز اور الیکٹرانک کتابوں سے حاصل ہونے والی آمدن گزشتہ دو سال میں دوگنا ہوگئی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ وہ خود بھی وی کے کی خدمات اور یانڈیکس کے مصنوعی ذہانت پر مبنی معاون ’’ایلس‘‘ کو استعمال کرتے ہیں۔

آن لائن تجارت کے حوالے سے میخائل میشوسٹن نے کہا کہ روس دنیا کی 20 بڑی ای کامرس منڈیوں میں ترقی کی رفتار کے اعتبار سے پہلے نمبر پر ہے اور مسلسل پانچ سال سے یہ مقام برقرار رکھے ہوئے ہے۔

انہوں نے بتایا کہ 2025 کے اختتام تک روس میں آن لائن فروخت کا حجم 13 ٹریلین روبل سے تجاوز کرگیا، جو ملک کی مجموعی ریٹیل تجارت کے پانچویں حصے سے زیادہ ہے۔ مجموعی آن لائن فروخت میں ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کا حصہ تقریباً 70 فیصد ہے۔

مواصلاتی شعبے کے بارے میں روسی وزیراعظم نے کہا کہ 2025 میں کمیونیکیشن سروسز کی مارکیٹ 13 فیصد بڑھ کر ڈھائی ٹریلین روبل تک پہنچ گئی۔ ایک سال کے دوران بیس اسٹیشنوں کی تعداد تقریباً نو فیصد اضافے کے بعد دس لاکھ ہوگئی، جبکہ فور جی نیٹ ورک روس کے تقریباً تمام گھرانوں تک پہنچ چکا ہے۔

میشوسٹن نے کہا کہ روس میں فائیو جی سروس کی کامیاب ترقی کے لیے ملکی ساختہ ٹیلی کمیونیکیشن آلات پر منتقلی تیز کرنا ضروری ہے۔ روسی کمپنیاں اب تک دس ہزار سے زیادہ ملکی بیس اسٹیشن تیار کرچکی ہیں۔

ان کے مطابق ماسکو، سینٹ پیٹرزبرگ، یکاترین برگ اور درجنوں دوسرے شہروں میں فائیو جی نیٹ ورک کو فعال بنانے کے ساتھ آئندہ نسل کے مواصلاتی نظام کی بنیاد بھی ابھی سے رکھنا ہوگی۔

روسی وزیراعظم نے مزید بتایا کہ گزشتہ چھ برسوں کے دوران آٹھ ہزار چھوٹی آبادیوں کو ایل ٹی ای موبائل انٹرنیٹ فراہم کیا گیا، جبکہ رواں سال مزید ڈیڑھ ہزار سے زیادہ چھوٹی آبادیوں کو یہ سہولت فراہم کی جائے گی۔

میشوسٹن نے کہا کہ وی کے سمیت روسی ڈیجیٹل پلیٹ فارم غیر معمولی پابندیوں کے باوجود شہریوں کو عالمی معیار کی خدمات فراہم کررہے ہیں۔ انہوں نے اعتماد ظاہر کیا کہ روس کے جغرافیائی اور مواصلاتی اعتبار سے اہم مقام کے باعث غیر دوست ممالک کو بھی بالآخر ماسکو کے ساتھ تعاون کی ضرورت تسلیم کرنا پڑے گی۔

رپورٹ کی تاریخ: 6 اکتوبر 2026

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں