افغان سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال نہ ہونے دی جائے، ماسکو کانفرنس میں پاکستان کا دوٹوک مؤقف

ماسکو (شاہد گھمن) وسطی ایشیا اور افغانستان میں سلامتی سے متعلق ماسکو کانفرنس میں پاکستان نے واضح کیا ہے کہ وہ ایک پرامن، مستحکم اور خوش حال افغانستان کا خواہاں ہے، تاہم افغان سرزمین سے سرگرم دہشت گرد تنظیموں کے خلاف مؤثر اور قابل تصدیق کارروائی علاقائی امن کے لیے ناگزیر ہے۔

ماسکو میں اجتماعی سلامتی معاہدہ تنظیم، دولتِ مشترکہ اور شنگھائی تعاون تنظیم کے زیر اہتمام منعقدہ کانفرنس میں پاکستان کی نمائندگی افغانستان میں پاکستان کے سابق سفیر سید ابرار حسین نے کی۔

کانفرنس سے روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف، سی ایس ٹی او کے سیکریٹری جنرل طلعت بیک مسادیکوف، سی آئی ایس کے سیکریٹری جنرل سرگئی لیبیدیف، شنگھائی تعاون تنظیم کے نائب سیکریٹری جنرل احمد سعید مراد زادہ، روسی صدر کے خصوصی نمائندے برائے افغانستان ضمیر کابلوف اور مختلف ممالک کے سفیروں، سکیورٹی ماہرین اور علاقائی تنظیموں کے نمائندوں نے خطاب کیا۔

سید ابرار حسین نے اپنے خطاب میں کہا کہ پاکستان اور افغانستان جغرافیے، تاریخ، مذہب، ثقافت اور عوامی روابط کے مضبوط رشتوں میں بندھے ہوئے ہیں۔ افغانستان میں رونما ہونے والی پیش رفت کے براہ راست اثرات پاکستان اور پورے خطے کی سلامتی پر مرتب ہوتے ہیں، اسی لیے افغانستان میں امن و استحکام پاکستان کی بنیادی ترجیحات میں شامل ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان نے کئی دہائیوں تک لاکھوں افغان مہاجرین کی میزبانی کی اور مشکل ترین حالات میں افغان عوام کی مدد جاری رکھی۔ پاکستان نے افغانستان میں امن کے قیام، سیاسی مذاکرات اور علاقائی رابطہ کاری کو فروغ دینے کے لیے بھی مسلسل کردار ادا کیا۔

سابق پاکستانی سفیر کے مطابق افغانستان میں طویل جنگ اور عدم استحکام کا پاکستان کو بھی بھاری نقصان اٹھانا پڑا۔ دہشت گردی کے نتیجے میں پاکستان کے شہریوں اور سکیورٹی اہلکاروں نے جانوں کی قربانیاں دیں، جبکہ ملکی معیشت کو بھی شدید نقصان پہنچا۔

انہوں نے کہا کہ اگست 2021 میں افغانستان میں حکومت کی تبدیلی کے بعد پاکستان کو توقع تھی کہ افغان سرزمین کسی دوسرے ملک، خصوصاً پاکستان، کے خلاف استعمال نہیں ہونے دی جائے گی۔ اس کے باوجود تحریک طالبان پاکستان اور دیگر دہشت گرد عناصر کی سرگرمیاں بدستور پاکستان کے لیے سنگین تشویش کا باعث ہیں۔

سید ابرار حسین نے کہا کہ پاکستان دہشت گردی کا معاملہ افغان عبوری حکومت کے ساتھ مختلف سطحوں پر مسلسل اٹھاتا رہا ہے۔ کابل کو دہشت گرد تنظیموں کے خلاف ایسے ٹھوس اقدامات کرنا ہوں گے جن کے نتائج واضح، مؤثر اور قابل تصدیق ہوں۔

انہوں نے زور دیا کہ دہشت گردی کو کسی سیاسی، مذہبی یا نظریاتی بنیاد پر جائز قرار نہیں دیا جاسکتا۔ اچھے اور برے دہشت گردوں کے درمیان امتیاز پورے خطے کی اجتماعی سلامتی کے لیے نقصان دہ ہوگا۔

پاکستانی نمائندے نے دہشت گرد تنظیموں، منشیات کی اسمگلنگ، غیر قانونی اسلحے اور سرحد پار منظم جرائم کے خلاف مشترکہ علاقائی حکمت عملی اپنانے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔

انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان افغانستان کو تنہا کرنے کے حق میں نہیں اور افغان حکام کے ساتھ بامقصد اور تعمیری روابط کی حمایت کرتا ہے، تاہم ان روابط کے ساتھ افغان عبوری حکومت کو اپنی ذمہ داریاں بھی پوری کرنا ہوں گی۔

سید ابرار حسین نے کہا کہ افغانستان میں امن قائم ہونے سے وسطی اور جنوبی ایشیا کے درمیان تجارت، ٹرانزٹ، توانائی اور مواصلاتی رابطوں کے وسیع امکانات پیدا ہوں گے۔ افغانستان علاقائی تجارت کے ایک اہم مرکز کے طور پر سامنے آسکتا ہے، لیکن بڑے اقتصادی اور مواصلاتی منصوبوں پر عمل درآمد کے لیے سلامتی بنیادی شرط ہے۔

کانفرنس کے بعد وائس آف رشیا سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے سید ابرار حسین نے کہا کہ پاکستان نے افغانستان اور افغان عوام کے لیے بڑے اقدامات کیے اور امن کے قیام کی خاطر بہت کچھ کیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ افغان سفیر نے اپنے خطاب میں مسائل کی تمام ذمہ داری پاکستان پر ڈالنے کی کوشش کی، جو حقائق کے منافی تھی۔ پاکستانی وفد نے کانفرنس میں ان الزامات کا بھرپور اور مدلل جواب دیا اور پاکستان کا مؤقف واضح انداز میں شرکا کے سامنے رکھا۔

روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے کانفرنس کے افتتاحی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سی ایس ٹی او، سی آئی ایس اور شنگھائی تعاون تنظیم کے درمیان تعاون وسطی ایشیا اور افغانستان سے متعلق خطرات کے مقابلے میں اہم کردار ادا کرسکتا ہے۔

انہوں نے کانفرنس کو علاقائی سلامتی، دہشت گردی، منشیات کی اسمگلنگ اور افغانستان کی صورتحال پر عملی تبادلہ خیال کا اہم موقع قرار دیا۔ روسی وزیر خارجہ کے مطابق تینوں تنظیموں کے مقاصد اور سلامتی سے متعلق ترجیحات ایک دوسرے سے قریب ہیں، اس لیے ان کے درمیان رابطہ کاری کو عملی سطح پر مزید مضبوط بنایا جانا چاہیے۔

سرگئی لاوروف نے کہا کہ افغانستان کو تنہا کرنے کے بجائے اسے علاقائی تعاون، اقتصادی منصوبوں اور نقل و حمل کے نظام میں شامل کرنا ضروری ہے۔ افغانستان کی اقتصادی ترقی سے دہشت گردی اور انتہا پسند نظریات کے پھیلاؤ کے لیے موجود ماحول کو کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔

انہوں نے افغانستان کی معیشت، علاقائی تجارت اور بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں کی ترقی کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ افغان عوام کو ایک مستحکم اور محفوظ مستقبل فراہم کرنا پورے خطے کے مفاد میں ہے۔

روسی وزیر خارجہ نے دہشت گرد تنظیم داعش اور اس سے وابستہ گروہوں کی سرگرمیوں کو خطے کے لیے خطرہ قرار دیا۔ انہوں نے دہشت گردی کے مقابلے کے لیے انٹیلی جنس معلومات کے تبادلے، سرحدی سلامتی اور علاقائی ممالک کے سکیورٹی اداروں کے درمیان تعاون بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا۔

سرگئی لاوروف نے منشیات کی اسمگلنگ اور مصنوعی نشہ آور اشیا کی تیاری کو بھی ایک بڑا سکیورٹی چیلنج قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ منشیات سے حاصل ہونے والی آمدن دہشت گرد اور جرائم پیشہ گروہوں کی مالی معاونت کا ذریعہ بن سکتی ہے، اس لیے اس خطرے کا مشترکہ طور پر مقابلہ کرنا ہوگا۔

انہوں نے افغانستان اور اس کے ہمسایہ ممالک میں مغربی ممالک کی فوجی تنصیبات قائم کرنے کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ بیرونی فوجی موجودگی ماضی میں خطے میں استحکام کے بجائے تنازعات اور بدامنی کا باعث بنی۔

روسی صدر کے خصوصی نمائندے برائے افغانستان ضمیر کابلوف نے اپنے خطاب میں کہا کہ ماسکو افغان حکام کے ساتھ تعمیری اور باہمی مفاد پر مبنی تعلقات کو فروغ دے رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ روس اور افغانستان کے درمیان سیاسی روابط، تجارت، انسداد دہشت گردی اور منشیات کی روک تھام کے شعبوں میں تعاون بڑھانے کے امکانات موجود ہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان متعلقہ معاہدے اس تعاون کے لیے قانونی بنیاد فراہم کرسکتے ہیں۔

ضمیر کابلوف نے کہا کہ خطے کے بیشتر ممالک افغانستان کو تنہا کرنے کے بجائے کابل کے ساتھ عملی روابط قائم کرنے کی پالیسی پر عمل پیرا ہیں۔ افغانستان کو علاقائی اور بین الاقوامی اقتصادی عمل میں شامل کرنے سے اس کی معیشت مضبوط اور سلامتی کی صورتحال بہتر بنائی جاسکتی ہے۔

روسی نمائندے کے مطابق افغانستان کے مسائل کے حل کے لیے علاقائی ممالک کے درمیان تعاون سب سے مؤثر راستہ ہے۔ ماسکو دہشت گردی اور منشیات کے خلاف افغان حکام کے ساتھ تعاون کے ساتھ ساتھ تجارتی اور اقتصادی تعلقات کو بھی وسعت دینا چاہتا ہے۔

ایران کے سفیر کاظم جلالی نے کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ خطے سے باہر کی طاقتیں علاقائی ممالک کے تاریخی، سماجی اور سیاسی حالات کا درست ادراک نہیں رکھتیں اور ان کی مداخلت اکثر بدامنی اور سکیورٹی خطرات میں اضافے کا سبب بنتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ مغربی ایشیا اور وسطی ایشیا میں پائیدار امن کے لیے دیانت دارانہ مذاکرات، علاقائی تعاون اور بیرونی مداخلت سے گریز ضروری ہے۔

قازقستان کے سفیر دورین ابایوف نے مصنوعی ذہانت، سائبر سکیورٹی، موسمیاتی تبدیلی اور قدرتی آفات کو نئے علاقائی چیلنجز قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ خطرات قومی سرحدوں تک محدود نہیں رہتے، اس لیے ان کے مقابلے کے لیے اجتماعی حکمت عملی اور معلومات کے تبادلے کی ضرورت ہے۔

سی ایس ٹی او، سی آئی ایس اور شنگھائی تعاون تنظیم کے نمائندوں نے دہشت گردی، انتہا پسندی، منشیات کی اسمگلنگ، سرحد پار جرائم اور سائبر خطرات کے خلاف تعاون بڑھانے پر زور دیا۔

شرکا نے کہا کہ وسطی ایشیا میں سلامتی کو افغانستان کی صورتحال سے الگ کرکے نہیں دیکھا جاسکتا۔ افغانستان میں امن اور اقتصادی استحکام سے پورے یوریشیائی خطے کو فائدہ پہنچے گا، جبکہ دہشت گردی اور منشیات کی اسمگلنگ خطے کی اجتماعی سلامتی کے لیے بدستور خطرہ ہیں۔

افغانستان کے سفیر حسن گل حسن نے اپنے خطاب میں کابل کا مؤقف پیش کرتے ہوئے افغانستان میں دہشت گرد تنظیموں کی موجودگی سے متعلق الزامات مسترد کیے اور بعض مسائل کی ذمہ داری پاکستان پر عائد کرنے کی کوشش کی۔

پاکستانی نمائندے نے ان الزامات کو حقائق کے منافی قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے افغانستان میں امن کے لیے عملی اقدامات کیے، افغان عوام کی طویل عرصے تک مدد کی اور دہشت گردی کے خلاف بے مثال قربانیاں دیں۔

کانفرنس میں مجموعی طور پر اس امر پر زور دیا گیا کہ افغانستان میں پائیدار امن، دہشت گردی کا خاتمہ، محفوظ سرحدیں اور اقتصادی ترقی وسطی اور جنوبی ایشیا کے مشترکہ مفاد میں ہیں۔ شرکا نے علاقائی تنظیموں کے درمیان رابطہ کاری اور عملی تعاون کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت پر اتفاق کیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں