ماسکو (وائس آف رشیا): روسی سلامتی کونسل کے سیکریٹری سرگئی شوئیگو نے کہا ہے کہ اجتماعی مغرب تیزی سے زوال کا شکار ہو رہا ہے، جبکہ روس کو اندر سے کمزور کرنے اور اس کی ریاستی بنیادوں کو نقصان پہنچانے کی کوششیں جاری ہیں۔
شوئیگو نے 2 نومبر کو بین الاقوامی ہفتۂ اقوامِ روس کی افتتاحی تقریب سے خطاب میں کہا کہ مغربی ممالک انسانی معاشرے کی بدترین اخلاقی خرابیوں کا مرکز بنتے جا رہے ہیں، وہاں انسانی حقوق اور آزادیوں کے بنیادی تصورات اپنی اصل اہمیت کھو چکے ہیں، اور ان حقوق کو معاشرتی ڈھانچے کو نقصان پہنچانے اور ہر قسم کی بے قاعدگی کو فروغ دینے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ مغرب میں انصاف کی جگہ الزام کی بنیاد پر مجرم تصور کرنے کا رجحان بڑھ رہا ہے، کسی پر الزام لگانے کے لیے ثبوت پیش کرنا بھی ضروری نہیں سمجھا جاتا، اور یہی طرزِ عمل بین الاقوامی تعلقات میں بھی عام ہو چکا ہے۔
روس کے خلاف مغربی کوششیں مزید جارحانہ ہو رہی ہیں
شوئیگو نے دعویٰ کیا کہ یوکرین میں فوجی کارروائی کے کامیاب اختتام اور روسی کامیابی کے امکانات بڑھنے کے ساتھ روس کی مخالفت زیادہ جارحانہ اور پیچیدہ ہوتی جا رہی ہے، اور روسی ریاست کو اندر سے نقصان پہنچانے کے خواہش مند افراد کو بھرتی کرنے، مالی معاونت دینے اور ان کی حمایت کی کوششیں جاری ہیں۔ شوئیگو کے مطابق روس کو ماضی میں بھی بیرونی حملوں، وسائل پر قبضے اور عوام کو محکوم بنانے کی کوششوں کا سامنا رہا، لیکن روسی عوام نے ہمیشہ متحد ہو کر ان کا مقابلہ کیا۔
روس کا یورپ پر حملے کا کوئی منصوبہ نہیں
انہوں نے واضح کیا کہ روس کسی ملک کو تباہ کرنے یا یورپ پر حملہ کرنے کا ارادہ نہیں رکھتا، بعض سابق نوآبادیاتی طاقتیں اپنے اندرونی مسائل کے باعث خود زوال کا شکار ہو رہی ہیں، اور سابق نوآبادیاتی ممالک کے عوام میں خود آگاہی اور حقِ خودارادیت کا شعور بڑھنے سے پرانی استعماری طاقتوں کی عالمی حیثیت متاثر ہو رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مغرب کو ہمیشہ کسی دشمن کی ضرورت رہتی ہے، حالانکہ صدر ولادیمیر پوتن گزشتہ دو ماہ کے دوران متعدد مرتبہ واضح کر چکے ہیں کہ روس یورپ پر حملہ نہیں کرے گا۔ انہوں نے مغربی ممالک سے کہا کہ وہ روس کے خلاف جارحانہ رویہ ترک کر کے اسے اپنے معاملات پر توجہ دینے دیں۔
ابوظہبی میں روس، امریکہ اور یوکرین کے مذاکرات کی تیاریاں
شوئیگو نے بتایا کہ روس، امریکہ اور یوکرین کے درمیان مذاکرات کا اگلا دور متحدہ عرب امارات کے دارالحکومت ابوظہبی میں منعقد کرنے کی تیاریاں جاری ہیں، صدر پوتن تصدیق کر چکے ہیں کہ یہ ملاقات ممکنہ طور پر نومبر کے دوسرے نصف میں ہوگی، وفود کی سطح اور ترکیب میں تبدیلی متوقع نہیں، اور یورپی ممالک کی ممکنہ شرکت پر تینوں فریقوں کو باہمی مشاورت کے بعد فیصلہ کرنا ہوگا۔
روس کی اصل طاقت عوام کا اتحاد ہے
انہوں نے کہا کہ روس کی اصل طاقت صرف اس کی بڑھتی ہوئی اقتصادی اور تکنیکی خودمختاری یا جدید اور طاقتور ہتھیاروں تک محدود نہیں ہے، بلکہ اس کے شہریوں کا اتحاد، حکومت پر عوام کا اعتماد اور ملک کی ترقی و خوشحالی کے لیے عوامی حمایت ہے، جو بیرونی چیلنجز کا مقابلہ کرنے اور قومی اہداف حاصل کرنے میں بنیادی کردار ادا کرتی ہے۔









