ٹک ٹاکر مسٹر پتلو کی مہندی کی تقریب میں بھگدڑ سے 2 افراد جاں بحق، 18 زخمی، 8 قانونی دفعات کے تحت مقدمہ درج

سیالکوٹ (وائس آف رشیا): پاکستان کے صوبہ پنجاب کے شہر سیالکوٹ میں معروف ٹک ٹاکر انصر محمود جٹ المعروف مسٹر پتلو کی مہندی کی تقریب کے دوران بھگدڑ مچنے سے دو افراد جاں بحق اور متعدد زخمی ہو گئے۔ پولیس نے مسٹر پتلو، ان کے بھائی اور تقریب کے منتظمین سمیت نو نامزد اور 45 نامعلوم افراد کے خلاف مختلف قانونی دفعات کے تحت مقدمہ درج کر کے چھ ملزمان کو گرفتار کر لیا ہے۔

یہ واقعہ سیالکوٹ کے ڈسکہ روڈ پر واقع فراز کرکٹ گراؤنڈ میں پیش آیا، جہاں معروف ٹک ٹاکر کی شادی کی تقریبات کے سلسلے میں مہندی اور انعامات کی تقسیم کا پروگرام منعقد کیا گیا تھا۔

پولیس کی مدعیت میں 31 اکتوبر کو درج ہونے والی ایف آئی آر کے مطابق تقریب کے منتظمین نے سوشل میڈیا کے ذریعے شہریوں کو گاڑی، موٹر سائیکلوں اور دیگر قیمتی انعامات کی قرعہ اندازی کا اعلان کر کے شرکت کی دعوت دی تھی، جس کے نتیجے میں سیالکوٹ سمیت پنجاب کے مختلف شہروں سے بڑی تعداد میں لوگ گراؤنڈ پہنچ گئے۔

ایف آئی آر میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ تقریب کے دوران مسٹر پتلو نے اسٹیج پر آ کر مائیکروفون کے ذریعے لوگوں کو فوری طور پر گراؤنڈ میں داخل ہونے کا کہا، جس کے بعد شرکا کی بڑی تعداد نے بیک وقت اندر جانے کی کوشش کی۔

اس دوران شدید دھکم پیل اور بھگدڑ مچ گئی۔ متعدد افراد زمین پر گر گئے اور بعض لوگ ہجوم کے پیروں تلے دب گئے۔

واقعے میں عقیل نامی شہری جاں بحق جبکہ 18 افراد زخمی ہوئے۔ ریسکیو 1122 اور پولیس کی ٹیموں نے موقع پر پہنچ کر امدادی کارروائیاں شروع کیں اور زخمیوں کو علامہ اقبال میموریل ٹیچنگ ہسپتال سمیت مختلف طبی مراکز منتقل کیا۔

یکم نومبر کو سامنے آنے والی تازہ اطلاعات کے مطابق زخمیوں میں شامل ریحان بھی زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے لاہور میں انتقال کر گیا، جس کے بعد اس واقعے میں جاں بحق ہونے والوں کی تعداد دو ہو گئی۔

مسٹر پتلو کے خلاف کون سی دفعات لگائی گئیں؟

پولیس کی جانب سے درج ایف آئی آر میں ٹک ٹاکر مسٹر پتلو اور دیگر نامزد ملزمان کے خلاف تعزیراتِ پاکستان کی دفعات 322، 431، 440، 188، 109، 148 اور 149 شامل کی گئی ہیں۔

اس کے علاوہ پنجاب مینٹیننس آف پبلک آرڈر آرڈیننس 1960 کی دفعہ 16 بھی مقدمے میں شامل ہے۔

مقدمے میں قتل بالسبب، سرکاری احکامات کی خلاف ورزی، عوامی راستوں میں رکاوٹ، املاک کو نقصان پہنچانے، جرم میں معاونت اور غیر قانونی اجتماع سے متعلق الزامات عائد کیے گئے ہیں۔

ایف آئی آر کے مطابق تقریب کے منتظمین پر حفاظتی انتظامات اور اجازت نامے کی شرائط کی خلاف ورزی کا بھی الزام ہے۔

پولیس نے مسٹر پتلو کے علاوہ ان کے بھائی کاشف، کرکٹ گراؤنڈ کے مالک حاجی شاہد جاوید اور تقریب کے انتظامات سے وابستہ دیگر افراد کو بھی مقدمے میں نامزد کیا ہے۔

پولیس حکام کے مطابق چھ افراد کو گرفتار کیا جا چکا ہے جبکہ مسٹر پتلو سمیت دیگر مطلوب افراد کی گرفتاری کے لیے کارروائیاں جاری ہیں۔

انتظامیہ نے تقریب کا اجازت نامہ پہلے ہی منسوخ کر دیا تھا

سیالکوٹ کی ضلعی انتظامیہ نے انکشاف کیا ہے کہ مہندی کی تقریب کے لیے جاری کردہ اجازت نامہ پروگرام شروع ہونے سے پہلے ہی منسوخ کر دیا گیا تھا۔

ضلعی انتظامیہ کے ترجمان کے مطابق منتظمین کو ڈسکہ روڈ پر ایک نجی تقریب کے انعقاد کی مشروط اجازت دی گئی تھی اور پروگرام نماز عشا کے بعد شروع ہونا تھا۔

تاہم شام تقریباً چار بجے ہی انتظامات اور اجازت نامے کی شرائط کی خلاف ورزیوں کی اطلاعات موصول ہونے لگیں، جس کے بعد ڈپٹی کمشنر نے این او سی منسوخ کر دیا۔

اس کے باوجود تقریب کے مقام پر بڑی تعداد میں لوگ جمع ہوئے اور انعامات کے حصول کے لیے گراؤنڈ میں داخل ہونے کی کوشش کرتے رہے۔

ابتدائی تحقیقات میں یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ سوشل میڈیا پر کار، موٹر سائیکلوں اور دیگر قیمتی تحائف کی تشہیر نے لوگوں کی بڑی تعداد کو تقریب کی جانب متوجہ کیا تھا۔

بھگدڑ کے بعد ڈسکہ سیالکوٹ روڈ پر ٹریفک متاثر

پولیس کے مطابق واقعے کے بعد ڈسکہ سیالکوٹ روڈ پر ٹریفک کی روانی شدید متاثر ہوئی جبکہ ہجوم کی جانب سے ہنگامہ آرائی اور بعض املاک کو نقصان پہنچنے کی اطلاعات بھی سامنے آئیں۔

سیالکوٹ کے ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر کیپٹن ریٹائرڈ دوست محمد پولیس نفری کے ہمراہ موقع پر پہنچے اور امدادی کارروائیوں اور امن و امان کی صورتحال کا جائزہ لیا۔

پولیس حکام نے کہا کہ شہریوں کی جان و مال کا تحفظ اولین ترجیح ہے اور تقریب کے حفاظتی انتظامات میں غفلت یا قانون کی خلاف ورزی کے ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔

ریسکیو حکام کے مطابق واقعے میں زخمی ہونے والے افراد کا تعلق سیالکوٹ کے علاوہ گوجرانوالہ، نارووال، شیخوپورہ، خانیوال، گجرات اور پنجاب کے دیگر علاقوں سے بھی تھا۔

مسٹر پتلو کون ہیں؟

مسٹر پتلو کا اصل نام انصر محمود جٹ بتایا جاتا ہے اور وہ پاکستان کے معروف ٹک ٹاک لائیو میزبانوں میں شمار ہوتے ہیں۔

انہوں نے ٹک ٹاک پر براہ راست نشریات، مداحوں کے ساتھ گفتگو اور لائیو گفٹنگ کے ذریعے شہرت حاصل کی۔ سوشل میڈیا پر ان کے لاکھوں فالوورز ہیں۔

مسٹر پتلو اپنی شادی کی مختلف تقریبات کی تصاویر اور ویڈیوز بھی سوشل میڈیا پر شیئر کر رہے تھے۔

واقعے کے بعد سامنے آنے والی اطلاعات کے مطابق انہوں نے اپنی شادی کی باقی تقریبات ملتوی کرنے کا اعلان بھی کیا۔

پولیس نے واقعے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں اور منتظمین کی ذمہ داری، حفاظتی انتظامات، ہجوم کو دیے گئے اعلانات اور اجازت نامے کی خلاف ورزیوں کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔

پولیس کی جانب سے درج مقدمے میں عائد الزامات کی حتمی قانونی حیثیت کا تعین تفتیش اور عدالتی کارروائی کے بعد ہوگا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں