رشیا افریقہ سربراہی اجلاس: 85 فیصد تجارتی ادائیگیاں روبل میں، روسی صنعتیں افریقہ منتقل کرنے کی تیاری، صدر پوتن کے اہم اعلانات

ماسکو (شاہد گھمن): روسی صدر ولادیمیر پوتن نے ماسکو میں تیسرے رشیا افریقہ سربراہی اجلاس کے دوسرے روز اہم اقتصادی اور سفارتی اعلانات کرتے ہوئے کہا ہے کہ افریقی ممالک کے ساتھ روس کی تجارتی ادائیگیوں کا 85 فیصد حصہ روبل میں انجام دیا جا رہا ہے، جبکہ روسی کمپنیاں اپنی بعض پیداواری سرگرمیاں افریقی ممالک منتقل کرنے میں دلچسپی رکھتی ہیں۔

جمعرات 29 اکتوبر کو گرینڈ کریملن پیلس میں سربراہی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے صدر پوتن نے کہا کہ روس نے افریقی ممالک کے ساتھ باہمی مالیاتی لین دین کا ایسا نظام قائم کیا ہے جس سے تجارتی روابط کو بیرونی دباؤ اور عالمی سیاسی و اقتصادی اتار چڑھاؤ کے اثرات سے محفوظ رکھنے میں مدد ملتی ہے۔

روسی صدر نے کہا کہ افریقی ممالک میں نئی صنعتوں اور پیداواری مراکز کے قیام کے وسیع امکانات موجود ہیں۔ ان کے مطابق روسی کاروباری ادارے موجودہ بین الاقوامی پابندیوں کے تناظر میں اپنی بعض پیداواری صلاحیتیں افریقہ منتقل کرنے میں دلچسپی رکھتے ہیں، جہاں مقامی شراکت داروں کے ساتھ مشترکہ منصوبے شروع کیے جا سکتے ہیں۔

صدر پوتن نے بتایا کہ روس اور افریقی ممالک کے درمیان باہمی تجارت گزشتہ سربراہی اجلاس کے بعد ڈیڑھ گنا بڑھ کر 27 ارب ڈالر تک پہنچ گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ تجارتی تعلقات میں مثبت پیش رفت کے باوجود دونوں فریقوں کے درمیان اقتصادی تعاون کی حقیقی صلاحیت اس سے کہیں زیادہ ہے۔

افریقہ میں آٹھ نئے روسی سفارت خانے قائم

روسی صدر نے افریقہ میں سفارتی موجودگی بڑھانے کا اعلان کرتے ہوئے بتایا کہ 2023 کے گزشتہ سربراہی اجلاس کے بعد روس نے براعظم میں آٹھ نئے سفارت خانے قائم کیے ہیں، جس سے روسی سفارت خانوں کی مجموعی تعداد 48 ہو گئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ افریقہ میں روس کے چھ تجارتی نمائندہ دفاتر بھی کام کر رہے ہیں، جن کی سرگرمیاں 16 ممالک تک پھیلی ہوئی ہیں۔ صدر پوتن کے مطابق بوٹسوانا، سیشلز اور ٹوگو مستقبل قریب میں ماسکو میں اپنے سفارت خانے کھولنے کا ارادہ رکھتے ہیں اور روس ان اقدامات کی حمایت کرتا ہے۔

45 افریقی ممالک کے ساتھ دفاعی تعاون کے معاہدے

صدر پوتن نے بتایا کہ روس کے افریقہ کے 45 ممالک کے ساتھ فوجی اور فوجی تکنیکی تعاون کے بین الحکومتی معاہدے موجود ہیں۔ ان کے مطابق روس افریقی ممالک کو داخلی استحکام، سلامتی اور دفاعی صلاحیتیں مضبوط بنانے میں معاونت فراہم کر رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ روسی تعلیمی اداروں میں افریقی ممالک کے فوجی اہلکاروں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے افسران کو تربیت بھی دی جا رہی ہے۔

خیرسون میں انسانی امدادی کارروائی، میلانیا ٹرمپ کی معاونت کا ذکر

سربراہی اجلاس میں یوکرین تنازع کا ذکر کرتے ہوئے صدر پوتن نے بتایا کہ خیرسون کے علاقے الیوشکی میں شہری آبادی کی مدد کے لیے انسانی ہمدردی کی کارروائی 29 یا 30 اکتوبر کو انجام دینے کا منصوبہ ہے۔

روسی صدر کے مطابق اس امدادی اقدام کو امریکی خاتون اول میلانیا ٹرمپ کی معاونت بھی حاصل ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ یوکرینی فورسز کی جانب سے علاقے کے راستوں پر بارودی سرنگیں بچھائے جانے کے باعث مقامی شہریوں کو سنگین انسانی مشکلات کا سامنا ہے۔

صدر پوتن نے کہا کہ روس یوکرین تنازع کے پرامن حل کے امکانات پر بھی کام جاری رکھے ہوئے ہے۔

افریقہ میں سرمایہ کاری اور نئی ٹیکنالوجی

روسی صدر نے کہا کہ روسی کاروباری ادارے افریقی ممالک کے ساتھ مساوی بنیادوں پر تعاون کرتے ہیں اور حاصل ہونے والی آمدنی کا ایک حصہ مقامی معیشت، صنعت، روزگار اور جدید ٹیکنالوجی کے فروغ میں سرمایہ کاری کے لیے استعمال کرتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ روس افریقہ میں توانائی، جوہری ٹیکنالوجی کے پرامن استعمال، معدنیات، صنعت، نقل و حمل اور ڈیجیٹل خدمات کے شعبوں میں مشترکہ منصوبوں کو وسعت دینا چاہتا ہے۔

صدر پوتن کے مطابق روسی جامعات میں اس وقت تقریباً 40 ہزار افریقی طلبہ زیر تعلیم ہیں، جبکہ افریقی ممالک میں روسی تعلیمی اداروں اور تربیتی مراکز کے ذریعے تعلیمی تعاون کو بھی فروغ دیا جا رہا ہے۔

روسی صدر نے افریقی ممالک کی عالمی اداروں میں زیادہ نمائندگی کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل اور بین الاقوامی مالیاتی اداروں میں افریقہ کے کردار کو مضبوط بنایا جانا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ روس اور افریقی ممالک ایک ایسے کثیر قطبی عالمی نظام کے قیام کے حامی ہیں جس میں تمام ممالک کی خودمختاری، مساوات اور باہمی مفادات کا احترام کیا جائے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں