ماسکو میں گیس برآمد کرنے والے ممالک کا آٹھواں سربراہی اجلاس، صدر پوتن کا عالمی توانائی کی سلامتی اور گیس کی صنعت کو درپیش چیلنجز پر خطاب

ماسکو (شاہد گھمن): روس کے دارالحکومت ماسکو میں گیس برآمد کرنے والے ممالک کی تنظیم گیس ایکسپورٹنگ کنٹریز فورم (GECF) کا آٹھواں سربراہی اجلاس 27 اکتوبر کو منعقد ہوا، جس میں روسی صدر ولادیمیر پوتن، ایرانی صدر مسعود پزشکیان، قطر کے امیر شیخ تمیم بن حمد الثانی اور دیگر ممالک کے سربراہان اور اعلیٰ سطح کے وفود نے شرکت کی۔ اجلاس میں عالمی توانائی کی سلامتی، قدرتی گیس کی قابل اعتماد فراہمی، بین الاقوامی گیس مارکیٹ میں استحکام اور گیس برآمد کرنے والے ممالک کے درمیان تعاون بڑھانے کے امور زیر بحث آئے۔

ماسکو کے ورلڈ ٹریڈ سینٹر میں منعقدہ سربراہی اجلاس کی صدارت صدر پوتن نے کی۔ اجلاس میں قدرتی گیس کی عالمی معیشت میں اہمیت، توانائی کے شعبے میں سرمایہ کاری، نئی ٹیکنالوجی اور بین الاقوامی تجارت کو درپیش مسائل پر خصوصی توجہ دی گئی۔

صدر پوتن نے اجلاس سے اپنے افتتاحی خطاب میں عالمی اقتصادی ترقی کے لیے قدرتی گیس کی اہمیت اور گیس کی صنعت کو درپیش جغرافیائی و سیاسی مسائل کو اجاگر کیا۔ روسی قیادت کے مطابق قدرتی گیس عالمی توانائی کی ضروریات پوری کرنے کا ایک اہم ذریعہ ہے اور اس کی مستحکم فراہمی اقتصادی ترقی کے لیے ضروری ہے۔

روسی حکومت کا مؤقف ہے کہ عالمی گیس کی صنعت کو تجارتی پابندیوں، توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو لاحق خطرات اور بین الاقوامی منڈیوں میں پیدا ہونے والی غیر یقینی صورتحال جیسے مسائل کا سامنا ہے۔

روس نے نارڈ اسٹریم گیس پائپ لائنوں پر ہونے والے دھماکوں اور توانائی کی صنعت پر عائد مغربی پابندیوں کو بھی گیس کی عالمی منڈی کے لیے اہم چیلنجز قرار دیا ہے۔

روس قدرتی گیس کے ثابت شدہ ذخائر کے لحاظ سے دنیا میں پہلے اور گیس کی پیداوار کے لحاظ سے دوسرے نمبر پر ہے۔ ماسکو عالمی گیس مارکیٹ میں اپنی حیثیت کے پیش نظر توانائی کے شعبے میں بین الاقوامی تعاون اور گیس کی فراہمی میں استحکام کو اہمیت دیتا ہے۔

عالمی رہنماؤں کی شرکت

سربراہی اجلاس میں ایران کے صدر مسعود پزشکیان، قطر کے امیر شیخ تمیم بن حمد الثانی، استوائی گنی کے صدر تیودورو اوبیانگ نگیما مباسوگو، موزمبیق کے صدر ڈینیئل چاپو اور لیبیا کی صدارتی کونسل کے چیئرمین محمد المنفی نے شرکت کی۔

وینزویلا کی قائم مقام صدر ڈیلسی روڈریگز کی ویڈیو پیغام کے ذریعے شرکت بھی اجلاس کے پروگرام میں شامل تھی، جبکہ الجزائر کی نمائندگی وزیراعظم کی سطح پر کی گئی۔ دیگر رکن ممالک کے وفود کی قیادت متعلقہ وزرا اور اعلیٰ حکام نے کی۔

اجلاس میں گیس برآمد کرنے والے ممالک کی تنظیم کے سیکرٹری جنرل ڈاکٹر فلپ مشیلبیلا بھی شریک ہوئے۔

تنظیم کے مبصر ممالک میں شامل موزمبیق، انگولا، آذربائیجان، عراق، ملائیشیا اور سینیگال کے نمائندوں کے خطابات بھی اجلاس کے پروگرام میں شامل تھے، جبکہ ترکمانستان اور جنوبی افریقہ کو خصوصی مہمان ممالک کے طور پر مدعو کیا گیا۔

صدر پوتن کی عالمی رہنماؤں سے ملاقاتوں کا پروگرام

سربراہی اجلاس کے موقع پر صدر پوتن کی پانچ غیر ملکی رہنماؤں کے ساتھ دوطرفہ ملاقاتوں کا پروگرام بھی ترتیب دیا گیا۔

ان میں ایران کے صدر مسعود پزشکیان، قطر کے امیر شیخ تمیم بن حمد الثانی، موزمبیق کے صدر ڈینیئل چاپو، استوائی گنی کے صدر تیودورو اوبیانگ نگیما مباسوگو اور لیبیا کی صدارتی کونسل کے چیئرمین محمد المنفی شامل تھے۔

ان ملاقاتوں کے ایجنڈے میں دوطرفہ تعلقات، توانائی کے شعبے میں تعاون اور باہمی دلچسپی کے امور شامل تھے۔

عالمی گیس ذخائر میں تنظیم کا اہم حصہ

گیس برآمد کرنے والے ممالک کی تنظیم کے 12 مستقل رکن ممالک میں روس، ایران، قطر، الجزائر، متحدہ عرب امارات، مصر، لیبیا، نائیجیریا، وینزویلا، بولیویا، استوائی گنی اور ٹرینیڈاڈ و ٹوباگو شامل ہیں۔

تنظیم کے رکن ممالک کے پاس دنیا کے قدرتی گیس کے ثابت شدہ ذخائر کا تقریباً 70 فیصد حصہ موجود ہے، جبکہ عالمی گیس کی پیداوار میں ان کا حصہ 38 فیصد ہے۔

عالمی گیس برآمدات میں تنظیم کے رکن ممالک کا حصہ تقریباً 42 فیصد اور مائع قدرتی گیس کی برآمدات میں تقریباً 47 فیصد بتایا جاتا ہے۔

قدرتی گیس کی عالمی طلب میں اضافے کی پیش گوئی

اجلاس کے سلسلے میں پیش کردہ روسی اندازوں کے مطابق دنیا میں قدرتی گیس کی سالانہ طلب موجودہ تقریباً 4.2 ٹریلین مکعب میٹر سے بڑھ کر 2055 تک 5.4 ٹریلین مکعب میٹر تک پہنچ سکتی ہے۔

مائع قدرتی گیس کی عالمی برآمدات بھی آئندہ پانچ سے دس برسوں میں 650 ملین ٹن تک پہنچنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے، جو 2025 کی سطح سے تقریباً 50 فیصد زیادہ ہوگا۔

ماسکو اعلامیہ اور توانائی کے شعبے میں تعاون

سربراہی اجلاس کے ایجنڈے میں ماسکو اعلامیے کی منظوری بھی شامل تھی، جس میں گیس برآمد کرنے والے ممالک کی عالمی توانائی کی سلامتی میں اہمیت کو اجاگر کرنے اور قدرتی گیس کی قابل اعتماد فراہمی کے لیے تعاون بڑھانے کی تجاویز شامل تھیں۔

مجوزہ اعلامیے میں گیس کی تجارت کے راستوں میں تنوع، جدید ٹیکنالوجی کے استعمال، ماحولیاتی اثرات میں کمی، قدرتی گیس کی منصفانہ قیمتوں اور عالمی منڈی میں قیمتوں کے غیر معمولی اتار چڑھاؤ کو محدود کرنے جیسے امور کو اہمیت دی گئی۔

روس دوسری مرتبہ سربراہی اجلاس کا میزبان

گیس برآمد کرنے والے ممالک کی تنظیم کے قیام اور تعاون کے 25 سال مکمل ہونے کے موقع پر ماسکو میں آٹھواں سربراہی اجلاس منعقد کیا گیا۔

روس اس سے قبل 2013 میں بھی تنظیم کے دوسرے سربراہی اجلاس کی میزبانی کر چکا ہے۔

تنظیم کا مقصد عالمی معیشت میں قدرتی گیس کے استعمال کو فروغ دینا، گیس کی منڈیوں کی صورتحال اور مستقبل کے رجحانات کا جائزہ لینا، تجربات کا تبادلہ کرنا اور رکن ممالک کے درمیان تکنیکی و اقتصادی تعاون کو مضبوط بنانا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں