ٹرمپ نے ماسکو میں 9 مئی میں شرکت کی خبروں کی تردید کردی

واشنگٹن(وائس آف رشیا) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے صحافیوں کو بتایا کہ وہ عظیم محب وطن جنگ میں فتح کی 80 ویں سالگرہ کے موقع پر روسی دارالحکومت میں ہونے والی پریڈ میں شرکت کے لیے ماسکو نہیں جا رہے ہیں۔

فرانسیسی ہفتہ وار میگزین لی پوائنٹ نے ہفتے کے شروع میں اطلاع دی تھی کہ ٹرمپ ممکنہ طور پر 9 مئی کو ماسکو کا دورہ کریں گے اور اپنے روسی ہم منصب ولادیمیر پوتن سے ملاقات کریں گے۔

قبل ازیں کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے کہا کہ ان کی فون پر ہونے والی بات چیت میں دونوں رہنماؤں نے رابطے میں رہنے اور ذاتی ملاقات کا اہتمام کرنے پر اتفاق کیا۔ روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے کہا کہ جیسے ہی دونوں صدور کے درمیان ملاقات کی تصدیق ہوگی دنیا کو آگاہ کردیا جائے گا۔

وزارت دفاع نے 9 مئی کیس میں سویلینز کے ملٹری ٹرائل کا ریکارڈ آئینی بینچ میں پیش کردیا

اسلام آباد(وائس آف رشیا) سپریم کورٹ میں فوجی عدالتوں میں سویلینز کے ٹرائل کے خلاف انٹرا کورٹ اپیل پر سماعت جاری ہے جس کے دوران جسٹس جمال خان مندوخیل نے ریمارکس دیے کہ آج کل ہمارا ملک اتنا ٹرینڈ ہوچکا ہے کہ 8 ججز کے فیصلے کو 2 لوگ بیٹھ کے کہتے ہیں کہ غلط ہے جب کہ وزارت دفاع نے ملٹری ٹرائل کا ریکارڈ آئینی بینچ میں پیش کردیا۔

جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں 7 رکنی آئینی بینچ سماعت کر رہا ہے۔

وزارت دفاع کے وکیل خواجہ حارث نے آرمی ایکٹ کے تحت ملٹری ٹرائل کے طریقہ کار پر دلائل دیتے ہوئے مؤقف اپنایا کہ جج ایڈووکیٹ جنرل حلف اٹھاتا ہے کہ غیر جانبداری کو برقرار رکھے گا، سپریم کورٹ اس سماعت میں ہر کیس کا انفرادی حیثیت سے جائزہ نہیں لے سکتی۔

انہوں نے استدلال کیا کہ سپریم کورٹ کے سامنے آرٹیکل 184 کی شق تین کا کیس عدالت کے سامنے نہیں ہے، جسٹس جمال خان مندوخیل نے ریمارکس دیے کہ ملٹری ٹرائل کس بنیاد پر چیلنج ہو سکتا ہے، وکیل وزارت دفاع نے کہا کہ مجاز عدالت نہ ہو، بدنیتی پر مشتمل کارروائی چلے یا اختیار سماعت سے تجاوز ہو تو ٹرائل چیلنج ہو سکتا ہے، اگر ملٹری ٹرائل میں کوئی ملزم اقبال جرم کرلے تو اسے اسلامک قانون کے تحت رعایت ملتی ہے۔

جسٹس جمال خان مندوخیل نے کہا کہ اقبال جرم تو مجسٹریٹ کے سامنے ہوتا ہے، وکیل وزارت دفاع نے کہا کہ وہ معاملہ الگ ہے، جسٹس حسن اظہر رضوی نے استفسار کیا کہ اگر ملٹری ٹرائل میں کوئی ملزم وکیل کی حیثیت نہ رکھتا ہو کیا اسے سرکاری خرچ پر وکیل دیا جاتا ہے۔

وکیل وزارت دفاع نے مؤقف اپنایا کہ وکیل کرنے کی حیثیت نہ رکھنے والے ملزم کو سرکاری خرچ پر وکیل دیا جاتا ہے، جسٹس جمال خان مندوخیل نے ریمارکس دیے کہ عام طور پر تو ملزم عدالت کا فیورٹ چائلڈ ہوتا ہے، کیا ملٹری کورٹ میں بھی ملزم کو فیورٹ چائلڈ سمجھا جاتا ہے۔

وکیل وزارت دفاع نے کہا کہ آرمی ایکٹ کے رولز کے تحت ملزم کو مکمل تحفظ دیا جاتا ہے، جسٹس نعیم اختر افغان نے کہا کہ میں نے بطور چیف جسٹس بلوچستان ملٹری کورٹس کے فیصلے کیخلاف اپیلیں سنی ہیں، ایسا نہیں ہوتا محض ملٹری کورٹس کے فیصلے میں صرف ایک سادے کاغذ پر لکھ دیا جائے کہ ملزم قصور وار ہے یا بے قصور ہے، جب رٹ میں ہائی کورٹس میں اپیل آتی ہے تو جی ایچ کیو پورا ریکارڈ فراہم کرتا ہے۔

جسٹس نعیم اختر افغان نے کہا کہ ریکارڈ میں پوری عدالتی کارروائی ہوتی ہے، جس میں شواہد سمیت پورا طریقہ کار درج ہوتا ہے، آپ 9 مئی کے مقدمات سے ہٹ کر ماضی کے ملٹری کورٹس کے فیصلے کی کچھ مثالیں بھی پیش کریں۔

جسٹس حسن اظہر رضوی نے استفسار کیا کہ غیر ملکی جاسوسوں کے علاوہ اگر کسی عام شہری کا ملٹری ٹرائل ہو تو کیا وہاں صحافیوں اور ملزم کے رشتہ داروں کو رسائی دی جاتی ہے، وکیل وزارت دفاع خواجہ حارث نے جواب دیا کہ قانون میں رشتہ داروں اور صحافیوں کو رسائی کا ذکر تو ہے لیکن سیکیورٹی وجوہات کے سبب رسائی نہیں دی جاتی۔

جسٹس محمد علی مظہر سوال اٹھایا کہ اگر ٹرائل میں کوئی غلطی رہ گئی ہو تو کیا اپیل میں اس غلطی کی نشاندہی کی وجہ سے ملزم کو فائدہ ملتا ہے، خواجہ حارث نے جواب دیا کہ اپیل کا حق دیا گیا ہے اور اس کی تمام پہلو دیکھے جاتے ہیں۔

جسٹس جمال خان مندوخیل نے ریمارکس دیے کہ کیا رٹ میں اتنا اختیار ہے کہ پروسیجر کو دیکھا جائے کہ اسے مکمل فالو کیا گیا یا نہیں، خواجہ حارث نے کہا کہ تمام پروسیجر فالو ہوتا ہے، جسٹس جمال خان مندوخیل نے کہا کہ رٹ میں کوئی ایسی اتھارٹی تو ہو جو پروسیجر کو دیکھ سکے اور اسکا جائزہ لے، زندگی کسی کی بھی ہو انتہائی اہم ہوتی ہے، جج پر بھی تو منحصر ہوتا ہے کہ وہ ٹرائل کیسے چلاتا ہے۔

جسٹس حسن اظہر رضوی نے کہا کہ اپیل میں اپیل کنندہ کو کیا مکمل موقع دیا جاتا ہے، خواجہ حارث نے کہا کہ رولز 63 میں ملٹری کورٹ کے پرائزئڈنگ آفسر کہ ذمہ داریاں دی گئی ہیں، انصاف کے تقاضوں کو پورا کرنا اور شفاف ٹرائل کا موقع دینا اسکی ذمہ داری میں شامل ہے، حلف لینے کے بعد آرمی ایکٹ کے تحت ٹرائل کرتے ہیں۔

جسٹس حسن اظہر رضوی نے استفسار کیا کہ ملٹری کورٹ کے جو پرائزئینڈنگ افسر ہوتے ہیں، کیا وہ مکمل تجربہ کار ہوتے ہیں یا کسی کو بھی یہ ذمہ داری دے دی جاتی ہے، خواجہ حارث نے جواب دیا کہ تجربہ ضروری نہیں لیکن ملٹری ایکٹ پر عبور رکھتے ہوں۔

جسٹس جمال خان مندوخیل نے ریمارکس دیے کہ پہلے مجسٹریٹ اور کمشنر وغیرہ بھی ٹرائل کرتے تھے تو قتل کیس میں سزا دی جاتی تھی، جب کہا جاتا تھا کہ اس میں شہادتیں نہیں تو سزا کیسی، تو کہا جاتا قتل تو ہوا ہے، پروسیجر اور شفاف ٹرائل کا موقع تو فراہم ہونا چاہیے۔

خواجہ حارث نے کہا کہ ملٹری ٹرائل کرنے والوں کو اسکی کوئی خاص ٹریننگ کی ضرورت نہیں ہوتی، انہوں نے صرف حقائق دیکھنے ہوتے ہیں کہ یہ قصوروار ہے کہ نہیں۔

جسٹس جمال خان مندوخیل نے ریمارکس دیے کہ آجکل ہمارا ملک اتنا ٹرینڈ ہوچکا ہے کہ 8 ججز کے فیصلے کو دو لوگ بیٹھ کے کہتے ہیں کہ غلط ہے۔

خواجہ حارث نے کہا کہ سوشل میڈیا کی تو بات نہ کریں وہاں کیا کچھ نہیں ہو رہا، سوشل میڈیا پر کچھ لوگ بیٹھ کر اپنے آپ کو سب کچھ سمجھتے ہیں، ان کا کام ہے انکو کرنے دیں ہمیں انکی ضرورت نہیں۔

جسٹس مسرت ہلالی نے ریمارکس دیے کہ افسوس ہے کہ سوشل میڈیا پر ایسے تاثر دیا جاتا ہے کہ جیسے ہم کسی سیاسی پارٹی سے تعلق رکھتے ہیں، میرا تعلق خیبرپختونخوا سے ہے میں ملٹری ٹرائل پر اس کے اثرات کہ وجہ سے سوال کرتی ہوں، لیکن افسوس میرے ان سوالات کی وجہ سے مجھے سیاسی پارٹی سے جوڑ دیا جاتا ہے۔

اس موقع پر سپریم کورٹ نے کیس کی سماعت میں وقفہ کردیا, وقفے کے بعد سماعت دوبارہ شروع ہوئی تووزارت دفاع کے وکیل خواجہ حارث نے سفید کاغذی لفافوں میں ملٹری ٹرائل کا ریکارڈ آئینی بنچ میں پیش کردیا، ملٹری ٹرائل کی سات کاپیاں آئینی بنچ کے ساتوں ججز کو دی گئیں۔

وکیل وزارت دفاع خواجہ حارث نے کہا کہ عدالت ٹرائل کا طریقہ کار دیکھ لے، ٹرائل سے قبل پوچھا گیا کسی کو لیفٹیننٹ کرنل عمار احمد پر کوئی اعتراض تو نہیں، کسی نے بھی اعتراض نہیں کیا۔

جسٹس جمال خان مندوخیل نے کہا کہ یہ ریکارڈ تو اپیل میں دیکھا جانا ہے، ہمارے لیے اپیل میں اس ریکارڈ کا جائزہ لینا مناسب نہیں، ہم ٹرائل کو متاثر نہیں ہونگے دیں گے۔

آئینی بنچ کے 6 ججز نے ٹرائل کا ریکارڈ وزارت دفاع کے وکیل خواجہ حارث کو واپس کردیا، جسٹس محمد علی مظہر نے ریکارڈ دیکھنے کے بعد واپس کردیا۔

جسٹس مسرت ہلالی نے بھی پیش کردہ ریکارڈ کا جائزہ لیا، خواجہ حارث نے آرٹیکل 14 کا حوالہ دیا اور کہا کہ جسٹس عائشہ ملک نے اپنی ججمنٹ میں ایک پوائنٹ سے اختلاف کیا ہے۔

جسٹسں مسرت ہلالی نے کہا کہ ایف آئی آر میں تمام سیکشنز پی پی سی کے نیچے آتی ہیں، خواجہ حارث نے کہا کہ ایف آئی آر میں ان صاحب کا نام میٹر نہیں کرتا، جسٹس مسرت ہلالی نے ریمارکس دیے کہ وہ کہہ رہا یے کہ وہ چشم دید گواہ بھی نہیں ہیں۔

خواجہ حارث نے کہا کہ 9 ملزمان میں سے چار چشم دید گواہ ہیں، آپ اتنی تفصیل سے ملٹری کورٹس کی دستاویزات دیکھ رہی ہیں اور ایسے سوالات اٹھا رہی ہیں کل کو اپیل آپ کے پاس آنی ہیں، آپ کو کیس کے میرٹ سے متعلق سوال نہیں پوچھنے چاہییں کہ یہ معاملہ ابھی آپ کے پاس اپیل میں آنا باقی ہے۔

جسٹس مسرت ہلالی نے کہا کہ میرے ذہن میں جو سوال بنتا ہے وہ میں کروں گی کسی کو اچھا لگے یا برا۔

جسٹس جمال خان مندوخیل نے کہا کہ ملٹری ٹرائل کرنے والا جج تو اتھارٹیز کے ماتحت ہوتا ہے، وکیل وزارت دفاع نے کہا کہ اگر کسی کے پاس کوئی شواہد ہیں تو بات کریں، محض تاثر پر اعتراض نہیں اٹھایا جا سکتا۔

جسٹس جمال خان مندوخیل نے کہا کہ نہ مجھے کسی پر کوئی شک ہے نہ اعتراض ہے، سوال یہ ہے کہ ملٹری کورٹس میں ٹرائل کرنے والے کون ہیں، اس لیےپوچھا، جسٹس حسن اظہر رضوی نے کہا کہ آپ کی جانب سے پیش کردہ ریکارڈ کا جائزہ لیا، میں بہت تفصیل میں نہیں گیا، 9 مئی واقعات میں بظاہر سیکیورٹی آف اسٹیٹ کا معاملہ نہیں لگتا، نو مئی واقعات کے ملزمان کا ملٹری ٹرائل بہت تفصیل سے چلایا گیا، کیا یہ ممکن نہیں یہ تمام ریکارڈ پبلک کر دیا جائے تاکہ پبلک ان ملزمان کی مذمت کر سکے، 9 مئی واقعات کے ملزمان نے جو کارنامے سرانجام دیے وہ عوام میں بے نقاب ہونے چاہیں۔

خواجہ حارث نے کہا کہ یہ تو اتھارٹیز نے طے کرنا ہے، جسٹس جمال خان مندوخیل نے ریمارکس دیے کہ کیا آرٹیکل 175 کے تحت ملٹری کورٹس کے قیام کیلئے گنجائش رکھی گئی ، ہے، خواجہ حارث نے کہا کہ اگر عدالت اس طرف جائے گی تو اب تک ملٹری کورٹس کے قیام سے متعلق جتنے بھی فیصلے دیے گئے ان پر نظرثانی کرنا پڑے گی، آئین میں آئین و قانون کے تحت عدالتوں کے قیام کا زکر ہے، بہت سارے ممالک میں ملٹری کورٹس قائم ہوئیں۔

جسٹس جمال خان نے ریمارکس دیے کہ نارکوٹکس کا پورا کنٹرول فوج کے پاس ہے، نارکوٹکس میں جب کسی ملزم کا ٹرائل چلانا ہوتا ہے تو متعلقہ چیف جسٹس سے سیشن جج مانگا جاتا ہے، کیا یہاں بھی ملٹری کورٹس کیلئے ایسا کیا جاسکتا ہے۔

خواجہ حارث نے مؤقف اپنایا کہ تمام عدالتی فیصلوں میں ملٹری کورٹس کو آرٹیکل 175 سے الگ رکھا گیا ہے، آرمی ایکٹ کو بنیادی حقوق کی بنیاد پر چیلنج نہیں کیا جا سکتا۔

سربراہ آئینی بنچ جسٹس امین الدین خان نے کہا کہ خواجہ صاحب کل تک دلائل مکمل کر لیں گے، خواجہ حارث نے کہا کہ میں کل گیارہ بجے تک دلائل مکمل کر لوں گا۔

دوران سماعت آئینی بینچ کے سربراہ جسٹس امین الدین خان اور لطیف کھوسہ میں اہم مکالمہ ہوا، لطیف کھوسہ نے کہا کہ کیا کل ہماری بھی باری آئے گی، جسٹس امین الدین خان نے ریمارکس دیے کہ آپ نے تو بیٹھے بیٹھے ہی آدھے کیس کے دلائل دیدیے، شہدا فاؤنڈیشن اور حکومت بلوچستان کے وکلاء نے وزارت دفاع کے وکیل خواجہ حارث کے دلائل اپنا لیے۔

جسٹس جمال خان مندوخیل نے ریمارکس دیے کہ آفیشل سیکریٹ ایکٹ میں درج سزاؤں پر سول کورٹ میں ٹرائل چل سکتا ہے، کیا آپکو سول کورٹس پر اعتماد نہیں، یہ کیسز سول کورٹس میں

انصاف کا سلسلہ 9 مئی کے منصوبہ سازوں کو کیفرکردار تک پہنچانے تک جاری رہے گا، آئی ایس پی آر

راولپنڈی(وائس آف رشیا) ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) انٹر سروسز پبلک ریلیشن (آئی ایس پی آر) لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا ہے 9 مئی سے جڑے منصوبہ سازوں کو سزاؤں تک انصاف نہیں ہوگا، انصاف کا سلسلہ 9 مئی کے منصوبہ سازوں کو کیفرکردار تک پہنچانے تک جاری رہے گا۔

جنرل ہیڈ کوارٹرز (جی ایچ کیو) راولپنڈی میں اپنی طویل پریس کانفرنس کے آغاز پر ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ وہ 2024 کے اہم معاملات خاص طور پر قومی سلامتی، بدلتی علاقائی صورتحال، ملکی دفاع، اندرونی سلامتی اور رواں سال انسداد دہشت گردی کے حوالے سے کیے جانے والے اقدامات پر بات کریں گے۔

لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا کہ وہ مسلح افواج کی تربیتی مشقوں اور عوام کی فلاح و بہبود کے لیے کیے گئے اقدامات پر بھی بات کریں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ سیکیورٹی فورسز نے رواں برس مجموعی طور پر 59 ہزار 775 آپریشنز کیے ہیں، ان کارروائیوں میں خوارج سمیت 925 دہشت گردوں کو واصل جہنم کیا گیا۔

ان کا کہنا تھا کہ ان انٹیلی جنس کارروائیوں میں دہشت گردوں کے قبضے سے اسلحہ، گولہ بارود بھی برآمد کیا گیا۔

’خیبرپختونخوا میں طرز حکمرانی کی خرابیوں، خامیوں، خلا کو قربانیوں سے پر کر رہے ہیں‘

ڈی جی آئی ایس پی آرنے کہا کہ ملک دشمن دہشت گردوں کے خلاف یہ آخری خارجی کے خاتمے تک جاری رہی گی، پاکستان اپنی سرحدوں اور شہریوں کی حفاظت کے لیے کوئی کسر اٹھا نہیں رکھے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ سییکورٹی فورسز نے اپنی کارروائیوں میں 27 افغان دہشت گردوں کو ہلاک کیا۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے مزید بتایا کہ پاک فوج، قانون نافذ کرنے والے اور انٹیلی جنس اداروں اور پولیس کی جانب سے روزانہ کی بنیاد پر 179 سے زائد آپریشنز کیے جا رہے ہیں۔

لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے بتایا کہ سیکیورٹی آپریشنز کے دوران فورسز نے 73 ہائی ویلیو ٹارگٹ، انتہائی مطلوب دہشت گردوں کو کامیابی سے ختم کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ ان کارروائیوں کے دوران 383 افسران اور جوانوں نے بہادری سے لڑتے ہوئے جام شہادت نوش کیا۔

’ایک شخص کی غلطی کی قیمت قوم نے اپنے خون سے ادا کی‘

انہوں نے کہا کہ آرمی چیف نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ہر پاکستانی سپاہی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ جو گورننس میں گیپ، اس میں جو خرابیاں اور خامیاں ہیں، وہ ہم روزانہ اپنے شہدا کی قربانیوں سے پر کر رہے ہیں۔

لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری کا کہنا تھا کہ بھارت کی جانب سے رواں برس 25 بار سرحدی خلاف ورزی کی گئی۔

ان کا کہنا تھا کہ افغان حکام کو کہتے ہیں کہ ان خارجی، دہشت گردوں کو پاکستان پر فوقیت نہ دے، ایک پاکستانی کی جان اور حفاظت افغانستان پر مقدم ہے، ہم نے مسلسل کہا کہ ان دہشت گردوں کو قابو کریں، اگر وہ قابو نہ کریں تو کیا ہم بیٹھ کر تماشہ دیکھتے رہیں۔

انہوں نے کہا کہ جو دوغلی سیاست کا پرچار کرتے ہیں میں ان سے سوال کرتا ہوں کہ جو اہلکار شہید کیے گئے، کیا وہ اس ملک اور صوبے کے شیردل جوان نہیں تھے؟

ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ 2021 میں آپریشن کے باعث خوارج کی کمر ٹوٹ گئی تھی، وہ بھاگ رہے تھے، میرا سوال ہے کہ انہیں کس نے کس کے فیصلے پر انہیں دوبارہ آباد کیا اور دوام بخشا۔

لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری کا کہنا تھا کہ یہ جو فیصلے جن کا ہم خمیازہ بھگت رہے ہیں، ان فیصلوں کی لکھائی روزانہ جوان اپنے خون سے دھو رہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ کوئی لیڈر سمجھنے سے قاصر ہو، کوئی فریق اپنی مرضی مسلط کرنے پر تلا ہو تو اس سے کیا بات کی جائے، اگر ہر مسئلے کا حل بات چیت میں ہوتا تو دنیا میں کوئی جنگ نہ ہوتی، اس تمام صورتحال کے باجود کوئی لیڈر یہ کہے جب کہ وہ اس صلاحیت سے عاری ہے کہ اپنی غلطی سے سیکھے اور سمجھے کہ وہ سب کچھ جانتا ہے تو ایسے رویوں کی قیمت قوم اپنے خون سے چکاتی ہے اور ہم چکا رہے ہیں۔

’9 مئی پاکستان کا نہیں عوام پاکستان کا مقدمہ ہے‘

ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ بات چیت کا بیانیہ بنانے، اس پر سیاست کھییلنے کے بجائے بہتر طرز حکمرانی پر توجہ دینی چاہیے، اب وقت آگیا ہے کہ دہشت گردی پر سیاست نہ کی جائے۔

لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے 9 مئی سے متعلق سزاؤں کے سوال کے جواب میں کہا کہ 9 مئی کے حوالے سے افواج کا نقطہ نطر واضح اور مستقل ہے اور وہ یہ ہے کہ نو مئی پاکستان کا نہیں عوام پاکستان کا مقدمہ ہے، یہ بات کلیئر ہونی چاہیے، نومئی سے جڑے منصوبہ سازوں کو سزاؤں تک انصاف نہیں ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ اگر کوئی جھتہ، کوئی مسلح اور پرتشدد گروہ اس طریقے سے اپنی مرضی اور سوچ کو مسلط کرنا چاہیے معاشرے پر اور اس طرز عمل کو قانون اور آئین کے مطابق نہی روکا جائے تو پھر ہم اپنے معاشرے کو کس طرف لے کر جائیں گے۔

اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جہاں تک سزاؤں کا ذکر کا گیا، دیکھیں 2023 میں اعلیٰ عدلیہ کے فیصلے کی روح میں جو عمل تھا، فوجی عدالتوں میں جو لوگوں کو بھیجا گیا تھا، وہ منجمد کردیا گیا تھا، حال ہی میں جب 7 رکنی بینچ نے اس کے اوپر فیصلہ دیا تو اس کی روشنی میں سزائیں سنانے کا عمل اب مکمل کیا جا چکا ہے۔

اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری کا کہنا تھا کہ اس کے اندر مروجہ قانون کے تحت ثبوت اور شواہد کے مطابق، تمام قانونی تقاضوں کو پورا کرکے، وہ تمام لوگ جو 9 مئی کی ہنگامی آرائی میں ملوث تھے اور جن کو قانون کے مطابق فوجی عدالتوں میں بھیجا گیا، ان کو سزائیں دینا کا عمل مکمل ہوچکا ہے اور اس فیصلے سے یہ بڑا واضح پیغام جاتا ہے کہ اس طرح کے معاملات کی کوئی گنجائش نہیں ہے اور مستقبل میں بھی کوئی اس طرح کے معاملات میں ملوث ہوگا تو اس کو آئین و قانون کے مطابق ہر صورت سزا ملے گی۔

’9 مئی کے واقعات کا کوئی قانونی، اخلاقی جواز نہیں ہے‘

ڈی جی آئی ایس آر نے کہا کہ جو آپ نے سوال کیا، اس کے توسط سے میں یہ ضرور کہنا چاہوں گا کہ 9 مئی کی جو سزائیں ہیں، اس سے جڑے، فوجی عدالتوں سے جڑے جو عدم شفافیت اور سویلین بالادستی کا بیانیہ بنایا جا رہا ہے، اس کے لیے یہ جاننا ضروری ہے کہ پاکستان میں جو ملٹری کورٹس ہیں، وہ آئین و قوانین کے مطابق دہیائیوں سے قائم ہیں اور عمل میں ہیں، یہ انصاف کے تمام تقاضوں کو بخوبی پورا کرتے ہیں، عالمی عدالت انصاف نے بھی اس پورے عمل کی توثیق کی ہوئی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ آپ کو یہ معلوم ہونا چاہیے کہ ملٹری کورٹس میں جو ملزمان ہوتے ہیں، انہیں وکیل کرنے، ثبوت پیش کرنے سمیت تمام قانونی حقوق حاصل ہوتے ہیں، انہیں اپیل کرنا بھی حق ہوتا ہے۔

لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا کہ یہ بیانیہ اس لیے ہی بنایا جاتا ہے کہ 9 مئی کے واقعات کا کوئی قانونی، اخلاقی جواز نہیں ہے، اس کا آپ کسی طرح سے دفاع نہیں کر سکتے، تو پھر اس عمل کے خلاف پروپیگنڈا کیا جاتا ہے، جب کہ حقیقت یہ ہے کہ آج اس کے خلاف بات کرنے والے خود اس کے داعی ہوتے تھے، ایک اور دلچسپ بات بتاؤں کہ کچھ عرصہ پہلے تو یہ بیانیہ بنایا جا رہا تھا کہ یہ جو انتشاری احتجاجی ہیں، یہ ایجنسیوں کے بندے، پلانٹڈ لوگ ہیں، اور فوج نے گہری سازش کے تحت حملے کرائے ہیں۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ جب بقول ان کے ہم نے اپنے بندوں کو سزئیں دے دی ہیں تو ان انتشاریوں کو خوش ہونا چاہیے، اب وہ پریشان ہیں، اس لیے کیونکہ اپنے اقتدار کی ہوس میں وہ منافقت اور فریب کی آخری حدوں کو عبور کرچکے ہیں، یہ ہی مسئلہ ہے، اب جو انسداد دہشت گردی کی عدالتیں ہیں، انہیں بھی مقدمات کے جلد فیصلے کرنے چاہییں، اس کی وجہ یہ ہے کہ ابھی برطانیہ میں نسلی فسادات ہوئے تو کتنی سرعت کے ساتھ بالغ اور نالغ ملزمان کو سزائیں دی گئیں، جب کیپٹل ہل پر حملہ ہوا تو کتنی تیزی کے ساتھ سینکڑوں لوگوں کو سزائیں دی گئیں، اس سے قبل لندن رائٹس میں 1200 لوگوں سزائیں دی گئیں۔

’پروپیگنڈے کی بنیاد رکھنے والے ہی 9 مئی واقعات کے اصل ملزم ہیں‘

ان کا کہنا تھا کہ مغربی ممالک میں اس طرح کے عناصر کو کوئی جگہ نہیں دیتا، نہ کہ ان کو جگہ دیں اور انتشار پر سیاست کی اجازت دیں، جن کو سزائیں دی گئیں، ان کے والدین کو دیکھنا چاہیے کہ کس طرح سے ان بچوں، جوانوں کو پروپیگنڈا کرکے اپنے مخصوص سیاسی ایجنڈے، سیاسی مقاصد اور اقتدار کے لیے استعمال کیا گیا، کچھ لوگ نوجوانوں میں اپنی سیاست کےلیے زہر ڈالتے ہیں۔

لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا کہ اس لیے جو لوگ اس پروپیگنڈے کی بنیاد رکھتے ہیں، اصل ملزم تو وہ ہیں اور اسی لیے انصاف کا سلسلہ اس وقت تک چلے گا جب تک 9 مئی سے جڑے منصوبہ ساز اور اصل گھناؤنے کرداروں کو آئین و قانون کے مطابق کیفر کردار تک نہیں پہنچایا جائےگا، کیونکہ پاکستان اور پاکستانی قوم اس جیسے کسی سانحے اور اس جیسی انتشاری سیاست کی اجازت نہیں دے سکتے۔

’کوئی فرد واحد، اس کی سیاست، اس کی اقتدار کی خواہش پاکستان سے بالا تر نہیں‘

پی ٹی آئی کے حکومت اور اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ مذاکرات سے متعلق ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ پہلے بھی یہ بات کرچکا ہوں، دوبارہ دہرا دیتا ہوں کہ پاکستان کی فوج کا ہر حکومت کے ساتھ ایک سرکاری اور پیش ورانہ تعلق ہوتاہے، حکومتیں سیاسی جماعتیں بناتی ہیں، اس سرکاری، پیشہ روانہ تعلق کو سیاسی رنگ دینا مناسب نہیں ہے، یہ پاکستان کی فوج جو کسی مخصوص جماعت یا مکتبہ فکر کی فوج نہیں ہے، ہمارے لیے تمام سیاسی جماعتیں اور رہنما قابل احترام ہیں، کوئی فرد واحد، اس کی سیاست، اس کی اقتدار کی خواہش پاکستان سے بالا تر نہیں ہے، اس وقت وفاق اور صوبوں میں سیاسی جماعتوں کی حکومتیں موجود ہیں، سیاسی مذاکرات کرنا سیاسی جماعتوں کا کام ہے، یہ خوش آئند ہے کہ سیاستدان مل بیٹھ کر اپنے معاملات کو حل کریں، نہ کہ انتشاری سیاست کریں۔

سابق ڈی جی آئی ایس آئی فیض حمید سے متعلق سوال پر ان کا کہنا تھا کہ فوج کا احتساب کا نظام بہت جامع ہے، 9 مئی کے پہلے ایک مربوط منصوبہ بندی اور سازش تھی، جو لوگ بھی اس منصوبہ بندی اور سازش میں ملوث تھے، انہیں آئین و قانون کے مطابق کیفر کردار تک پہنچانا ضروری ہے، ہمیں معلوم ہونا چاہیے کہ ہر فورجی افسر کےلیے ریاست اور افواج مقدم ہیں، کوئی افسر اگر سیاست کو ریاست پر مقدم رکھے گا تو اسے اس کا جواب دینا پڑے گا، اس کیس کے حوالے سے میں یہ کہنا چاہوں گا کہ یہ حساس اور زیر سماعت کیس ہے، اس میں حساس معاملات جڑے ہیں، اس لیے اس پر غیر ضروری تبصروں اور تجزیوں سے گریز کیا جائے۔

26 نومبر کو ڈی چوک میں ہونے والے احتجاج کے حوالے سے سوال پر ان کا کہنا تھا کہ اس دن پیش آئے واقعات کے پیچھے سیاسی دہشت گردی کی خاص سوچ تھی، یہ منفی اور دہشت گردی کی سیاست کا سلسلہ 2014 میں پارلیمنٹ اور سرکاری املاک پر حملوں سے شروع ہوا، اس طرح کی سرگرمیوں سے عوام کی ترقی کے اقدامات میں رخنہ پڑتا ہے جس کی قیمت ہم سب چکاتے ہیں۔

’ضلع کرم کا معاملہ بہت پرانا، قبائلی اور زمینی تنازعات کا معاملہ ہے‘

لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا کہ اس واقعے کے بارے میں یکم دسمبر کو وزارت داخلہ نے اعلامیہ جاری کیا تھا اور بتایا تھا کہ اس تمام صورتحال میں افواج مظاہرین کے ساتھ براہ راست رابطے میں نہیں رہی، نہ اس کو پرتشدد ہجوم کو قابو کرنے کے لیے تعینات کیا گیا تھا، اس میں واضح کیا گیا کہ سیاست قیادت اور مظاہرین میں شامل مسلح افراد نے فائرنگ کی، ہم نے ان کے ہاتھوں میں اسلحہ دیکھا جب کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کو آتشی اسلحہ دیا ہی نہیں گیا تھا، جب سیاسی قیادت وہاں سے بھاگی تو پہلے سے طے شدہ منصوبہ بندی کے تحت فیک مواد کو تیزی کے ساتھ سوشل میڈیا پر پھیلایا گیا، اس کا مقصد بے بنیاد الزامات لگائے جائیں۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ اس کے پیچھے سوشل میڈیا اور اس کو چلانے والے ہیں، اس انتشاری سیاست کا کنٹرول ملک میں نہیں، بیرون ملک موجود سوشل میڈیا کے پاس ہے، اس کے بعد انسانی حقوق کی وہ تنظیمیں ایک دم متحرک ہوجاتی ہیں جنہیں دنیا بھر میں ہونے والی دہشت گردی نظر نہیں آتی لیکن فیک ویڈیوز اور ان دیکھی لاشوں پر ان کے جذبات بے قابو ہوجائیں گے۔

ضلع کرم کی صورتحال کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ وہاں کا معاملہ بہت پرانا، قبائلی اور زمینی تنازعات کا معاملہ ہے، اصل بد قسمتی یہ ہے کہ یہ غلط سیاسی ترجیحات کا کیس ہے، اس کو صوبائی حکومت اور مقامی سیاستدانوں نے حل کرنا ہے، بجائے اس کے کہ ملبہ اداروں پر ڈالا جائے، ان واقعات کے دوران یہ مذموم کوشش بھی کی گئی کہ تنازع کو مسلکی رنگ دیا جائے اور اس کو بڑھایا جائے۔

سانحہ 9 مئی: فوجی عدالتوں نے عمران خان کے بھانجے سمیت مزید 60 مجرموں کو سزائیں سنا دیں

راولپنڈی (وائس آف رشیا) فوجی عدالتوں نے سانحہ 9 مئی 2023 میں ملوث سابق وزیر اعظم عمران خان کے بھانجے حسان نیازی سمیت مزید 60 مجرمان کو سزائیں سنا دیں۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق سپریم کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں سانحہ 9 مئی میں ملوث مزید 60 مجرمان کو فیلڈ جنرل کورٹ مارشل نے سزائیں سنائیں۔

بیان کے مطابق فیلڈ جنرل کورٹ مارشل نے تمام شواہد کی جانچ پڑتال، مجرموں کو قانونی حق کی یقینی فراہمی اور قانونی تقاضوں کے مطابق کارروائی کرتے ہوئے سزائیں سنائیں۔

آئی ایس پی آر کے مطابق سزا پانے والے 60 مجرموں میں جناح ہاؤس حملے میں ملوث حسان خان نیازی ولد حفیظ اللہ نیازی بھی شامل ہیں جنہیں 10 سال قید بامشقت سنائی گئی۔

ترجمان پاک فوج نے کہا کہ جناح ہاؤس حملے میں ملوث میاں عباد فاروق ولد امانت علی کو 2، رئیس احمد ولد شفیع اللہ کو 6، ارزم جنید ولد جنید رزاق اور علی رضا ولد غلام مصطفی کو 6 سال قید بامشقت سنائی گئی۔

ترجمان پاک فوج کے مطابق پی اے ایف بیس میانوالی حملے میں ملوث احسان اللہ خان ولد نجیب اللہ خان کو 10 سال قید بامشقت سنائی گئی۔

بیان کے مطابق راہوالی گیٹ گوجرانوالہ حملے میں ملوث منیب احمد ولد نوید احمد بٹ کو 2، فیصل آباد آئی ایس آئی آفس حملے میں ملوث محمد علی ولد محمد بوٹا کو 2 سال، بنوں کینٹ حملے میں ملوث سمیع اللہ ولد میر داد خان کو 2 سال، جناح ہاؤس حملے میں ملوث میاں محمد اکرم عثمان ولد میاں محمد عثمان کو 2 سال قید بامشقت سنائی گئی۔

آئی ایس پی آر کے مطابق جناح ہاؤس حملے میں ملوث مدثر حفیظ ولد حفیظ اللہ کو 6 سال،
سجاد احمد ولد محمد اقبال کو 4 سال، بنوں کینٹ حملے میں ملوث خضر حیات ولد عمر قیاض خان کو 9 سال، راہوالی گیٹ گوجرانوالہ کینٹ حملے میں ملوث محمد نواز ولد عبدالصمد کو 2 سال، پی اے ایف بیس میانوالی حملے میں ملوث محمد بلال ولد محمد افضل کو 4 سال، ہیڈکوارٹر دیر اسکاؤٹس تیمرگرہ حملے میں ملوث محمد سلیمان ولد سِیعد غنی جان کو 2 سال قید بامشقت سنائی گئی۔

ترجمان پاک فوج کے مطابق ہیڈکوارٹر دیراسکاؤٹس تیمرگرہ حملے میں ملوث اسد اللہ درانی ولد بادشاہ زادہ کو 4 سال، چکدرہ قلعے پر حملے میں ملوث اکرام اللہ ولد شاہ زمان کو 4 سال، فیصل آباد آئی ایس آئی آفس حملے میں ملوث محمد فرخ ولد شمس تبریز کو 5 سال، جناح ہاؤس حملے میں ملوث وقاص علی ولد محمد اشرف کو 6 سال، امیر ذوہیب ولد نذیر احمد شیخ کو 4 سال قید بامشقت سنائی گئی۔

آئی ایس پی آر نے کہا کہ اے آئی ایم ایچ راولپنڈی حملے میں ملوث فرہاد خان ولد شاہد حسین کو 7 سال، ہیڈکوارٹر دیر اسکاؤٹس تیمرگرہ حملے میں ملوث عزت خان ولد اول خان کو 2 سال، راہوالی گیٹ گوجرانوالہ کینٹ حملے میں ملوث اشعر بٹ ولد محمد ارشد بٹ کو 2 سال،
بنوں کینٹ حملے میں ملوث ثقلین حیدر ولد رفیع اللہ خان کو 9 سال فیصل آباد آئی ایس آئی آفس حملے میں ملوث محمد سلمان ولد زاہد نثار کو 2 سال قید بامشقت سنائی گئی۔

بیان میں بتایا گیا کہ ۔ملتان کینٹ چیک پوسٹ حملے میں ملوث حامد علی ولد سید ہادی شاہ کو 3 سال، راہولی گیٹ گوجرانوالہ کینٹ حملے میں ملوث محمد وقاص ولد ملک محمد کلیم کو 2 سال، بنوں کینٹ حملے میں ملوث عزت گل ولد میردادخان کو 9 سال، جناح ہاؤس حملے میں ملوث حیدر مجید ولد محمد مجید کو 2 سال، گروپ کیپٹن وقاص احمد محسن(ریٹائرڈ) ولد بشیر احمد محسن کو 2 سال قید بامشقت سنائی گئی۔

اس کے علاوہ ہیڈکوارٹر دیر اسکاؤٹس تیمر گرہ حملے میں ملوث محمد الیاس ولد محمد فضل حلیم کو 2 سال، گیٹ ایف سی کینٹ پشاور حملے میں ملوث محمد ایاز ولدصاحبزادہ خان کو 2 سال، چکدرہ قلعے حملے میں ملوث رئیس احمد ولد خستہ رحمان کو 4 سال، چکدرہ قلعے حملے میں ملوث گوہر رحمان ولد گل رحمان کو 7 سال، بنوں کینٹ حملے میں ملوث نیک محمد ولد نصر اللہ جان کو 9 سال قید بامشقت کی سزا سنائی گئی۔

آئی ایس پی آرنے بتایا کہ فیصل آباد آئی ایس آئی آفس حملے میں ملوث فہد عمران ولد محمد عمران شاہد کو 9 سال، راہوالی گیٹ گوجرانوالہ کینٹ حملے میں ملوث سفیان ادریس ولد ادریس احمد کو 2 سال، بنوں کینٹ حملے میں ملوث رحیم اللہ ولد بیعت اللہ کو 9 سال، خالد نوازولد حامد خان کو 9 سال قید بامشقت سنائی گئی۔

ترجمان پاک فوج نے کہا کہ اِس کے ساتھ ہی فوجی حراست میں لئے جانے والے 9 مئی کے ملزمان پر چلنے والے مقدمات کی سماعت متعلقہ قوانین کے تحت مکمل کر لی گئی ہے۔

آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ تمام مجرموں کے پاس اپیل کا حق اور دیگر قانونی حقوق برقرار ہیں، جیسا کہ آئین اور قانون میں ضمانت دی گئی ہے، قوم، حکومت اور مسلح افواج انصاف اور ریاست کی ناقابل تسخیر رٹ کو برقرار رکھنے کے اپنے عزم میں ثابت قدم ہیں۔

یورپی یونین کا 9 مئی کے مقدمات میں فوجی عدالتوں کے فیصلوں پر تشویش کا اظہار

برسلز(وائس آف رشیا) یورپی یونین نے 9 مئی کے مقدمات میں شہریوں کے خلاف فوجی عدالتوں کے فیصلے پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔غیر ملکی خبر رساں ادارے کی خبر کے مطابق21 دسمبر کو یورپی ایکسٹرنل ایکشن سروس کی جانب سے جاری کردہ ایک اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ شہریوں کی سزاؤں کے یہ فیصلے پاکستان کی شہری اور سیاسی حقوق کے بین الاقوامی معاہدے (ICCPR) سے متصادم ہیں، جسے پاکستان نے اپنی بین الاقوامی ذمہ داریوں کے تحت تسلیم کیا ہے۔

یورپی یونین کا کہنا ہے کہ آئی سی سی پی آر کے آرٹیکل 14 کے تحت ہر فرد کو منصفانہ اور عوامی مقدمے کی سماعت کا حق حاصل ہے، جس میں آزاد، غیر جانبدار اور اہل شامل ہیں۔

مزید برآں، آرٹیکل 14 میں یہ بھی وضاحت کی گئی ہے کہ فوجداری مقدمات کے فیصلے عوامی سطح پر دیے جائیں گے۔

اعلامیے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ پاکستان نے یورپی یونین کی جنرلائزڈ اسکیم آف پریفرنسز (GSP+) کے تحت 27 بین الاقوامی کنونشنز کی پاسداری کی ہے، جن میں ICCPR بھی شامل ہے۔ اس اسکیم کے تحت پاکستان کو تجارتی مراعات حاصل ہیں۔

یاد رہے کہ 20 دسمبر کو پاکستان میں سانحہ 9 مئی میں ملوث 25 افراد کو فوجی عدالتوں کی جانب سے 2 سے 10 سال تک قید بامشقت کی سزائیں سنائی گئی تھیں۔

ان افراد پر الزام تھا کہ انہوں نے ریاستی اداروں کے خلاف کارروائی کی تھی، جس کے نتیجے میں فوجی عدالتوں نے ان کے خلاف مقدمات کی سماعت کی اور سزائیں سنائیں۔

برطانیہ کا 9 مئی مقدمات میں فوجی عدالتوں سے 25 شہریوں کی سزاؤں پر ردعمل سامنے آگیا

لندن (وائس آف رشیا) برطانوی حکومت نے پاکستان میں فوجی عدالتوں سے25 شہریوں کو سزاؤں پر اپنا ردعمل جاری کردیا۔

برطانوی دفتر خارجہ کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ برطانیہ اپنی قانونی کارروائیوں پر پاکستان کی خودمختاری کا احترام کرتا ہے، فوجی عدالتوں میں عام شہریوں کے ٹرائل میں شفافیت، آزادانہ جانچ پڑتال کا فقدان ہے۔

اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ فوجی عدالتوں کی کارروائی سے شہریوں کے منصفانہ ٹرائل کے حق کو نقصان پہنچتا ہے، حکومت پاکستان شہری اور سیاسی حقوق کے بین الاقوامی معاہدے کے تحت ذمہ داریوں کو نبھائے۔

واضح رہے کہ اس سے قبل یورپی یونین نے 25 شہریوں کی فوجی عدالتوں سے سزاؤں پر ردعمل دیتے ہوئے اسے انصاف کے منافی قرار دیتے ہوئے تشویش کا اظہار کیا تھا۔

یورپی ایکسٹرنل ایکشن سروس کی جانب سے جاری کردہ ایک اعلامیے میں کہا گیا تھا کہ شہریوں کی سزاؤں کے یہ فیصلے پاکستان کی شہری اور سیاسی حقوق کے بین الاقوامی معاہدے (ICCPR) سے متصادم ہیں، جسے پاکستان اپنی بین الاقوامی ذمہ داریوں کے تحت تسلیم کرچکا ہے۔

یورپی یونین کا کہنا تھا کہ آئی سی سی پی آر کے آرٹیکل 14 کے تحت ہر فرد کو منصفانہ اور عوامی مقدمے کی سماعت کا حق حاصل ہے، جس میں آزاد، غیر جانبدار اور اہل شامل ہیں۔

مزید برآں، آرٹیکل 14 میں یہ بھی وضاحت کی گئی ہے کہ فوجداری مقدمات کے فیصلے عوامی سطح پر دیے جائیں گے۔

اعلامیے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ پاکستان نے یورپی یونین کی جنرلائزڈ اسکیم آف پریفرنسز (GSP+) کے تحت 27 بین الاقوامی کنونشنز کی پاسداری کی ہے، جن میں ICCPR بھی شامل ہے۔ اس اسکیم کے تحت پاکستان کو تجارتی مراعات حاصل ہیں۔

یاد رہے کہ 20 دسمبر کو پاکستان میں سانحہ 9 مئی میں ملوث 25 افراد کو فوجی عدالتوں کی جانب سے 2 سے 10 سال تک قید بامشقت کی سزائیں سنائی گئی تھیں۔

ان افراد پر الزام تھا کہ انہوں نے ریاستی اداروں کے خلاف کارروائی کی تھی، جس کے نتیجے میں فوجی عدالتوں نے ان کے خلاف مقدمات کی سماعت کی اور سزائیں سنائیں۔

روس 9 مئی کو ہٹلر مخالف اتحادی ممالک کے نمائندوں کو مدعو کرے گا

ماسکو(وائس آف رشیا) روسی وزارت خارجہ کی سرکاری نمائندہ ماریا زاخارووا نے کہا ہے کہ روس 9 مئی 2025 کو ماسکو میں فتح کی 80ویں سالگرہ منانے کے لیے ہٹلر مخالف اتحاد کے ممالک کے نمائندوں کو مدعو کرے گا۔

سفارت کار نے کہاکہ ہٹلر مخالف اتحاد کے ممالک کے نمائندے، بشمول سابق فوجی، اہم سیاسی اور عوامی شخصیات، ہر سال 9 مئی کو ہونے والی تقریبات میں شرکت کرتے ہیں۔ فتح کی 80 ویں سالگرہ کے موقع پر بھی ایسا ہی ہو گا۔ “جہاں تک معاملے کے پروٹوکول سائیڈ کا تعلق ہے، بشمول مخصوص افراد کی فہرست، ان امور پر وزارت خارجہ امور صدارتی انتظامیہ کے ساتھ مل کر کام کر رہی ہے۔ جب ہم تقریب کی تیاری کریں گے تو سب کو آپ کو مطلع کریں گے۔

قبل ازیں، صدرپوتن نے مشترکہ براہ راست پریس کانفرنس میں کہا کہ روس 9 مئی 2025 کو ماسکو میں فتح کی 80 ویں سالگرہ کا جشن انتائی جوش و جذبہ کے ساتھ منائے گا جسے دیکھ کرہر کسی کو خوشی ہوگی، جس میں ہٹلر مخالف اتحاد کے ممالک کے نمائندے بھی شامل ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں