ماسکو: (وائس آف رشیا) روسی صدارتی ترجمان دمتری پیسکوف نے یورپی ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ آرکٹک خطے میں تعاون اور مذاکرات کے حوالے سے اپنا مؤقف واضح کریں۔ انہوں نے کہا کہ آرکٹک کو محاذ آرائی کے بجائے باہمی مفاد پر مبنی تعاون کا خطہ رہنا چاہیے۔
کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یورپی ممالک کو آرکٹک میں تعاون کے حوالے سے اپنی پالیسی اور مذاکرات سے متعلق مؤقف میں موجود تضادات دور کرنے کی ضرورت ہے۔
اس سے قبل یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ کایا کالاس نے کہا تھا کہ یورپی یونین آرکٹک خطے میں روس اور چین کا مقابلہ کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ ان کے مطابق یورپی یونین اور نیٹو کے رکن ممالک اس بات کو یقینی بنانے کی کوشش کریں گے کہ شمالی سمندری راستہ تمام بحری جہازوں کے لیے کھلا رہے۔
کایا کالاس کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے دمتری پیسکوف نے روس کے مؤقف کا اعادہ کیا کہ آرکٹک کو کشیدگی اور محاذ آرائی کا مرکز بنانے کے بجائے باہمی مفاد پر مبنی تعاون کے لیے استعمال کیا جانا چاہیے۔
روسی صدارتی ترجمان نے کہا کہ اس مقصد کے حصول کے لیے مذاکرات ضروری ہیں، تاہم یورپی ممالک بات چیت کی مخالفت کر رہے ہیں۔
دمتری پیسکوف نے کہا کہ یورپی سفارت کاروں کو پہلے اپنا مؤقف واضح کرنا چاہیے اور ممکنہ طور پر ایک دوسرے کو یہ بھی سمجھانا چاہیے کہ وہ مذاکرات کے بغیر تعاون کی مختلف صورتیں کس طرح قائم کرنا چاہتے ہیں۔
کریملن کے ترجمان نے زور دیا کہ روس کے نقطہ نظر سے مذاکرات کے بغیر اس نوعیت کا تعاون ممکن نہیں ہے۔









